چوہدری یسین، ماسٹر ٹرینر اسد محمود سمیت اسلام آباد میں کام کرنے والے بھٹہ خشت مزدوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی

اسلام آباد :پاکستان ورکرز فیڈریشن اور پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI)کے باہمی تعاون سے بھٹہ خشت مزدوروں کو صحت و سلامتی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی پروگرام پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین، ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر برائے ڈویلپمنٹ پروگرام شفقت منیر احمد، سی ڈی اے مزدور یونین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ماسٹر ٹرینر اسد محمود سمیت اسلام آباد میں کام کرنے والے بھٹہ خشت مزدوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، پروگرام میں شرکا کو بھٹہ خشت صنعت کے بارے اور بھٹہ خشت مزدوروں کے حقوق اور پیشہ وارانہ صحت و سلامتی کے حوالے سے آگاہی دی گئی،۔
شرکا نے مزدور قیادت کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور جائے کار پر پیش آنے والے حادثات اور صحت و سلامتی سے متعلقہ مشکلات کی نشاندہی کی، اس موقع پر پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین اور ایس ڈی پی آئی کے شفقت منیر نے کہا کہ بھٹہ ایک بہت بڑی صنعت ہے، پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں بھٹے کام کررہے ہیں جن سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے۔پاکستان میں مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کی ہے جن کے لیے کوئی لیبر قوانین موجود نہیں ہیں۔ جس سے مزدور وسہولیات و مراعات سے محروم ہیں۔ بھٹوں پر کام کرنے والے مزدورو سماجی تحفظ سے محروم ہیں ان مزدوروں کو گورنمنٹ کی طرف سے مقرر شدہ اجرت بھی نہیں دی جاتی ہے جس سے ان مزدوروں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ مزدورو کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس ملک میں بد قسمتی سے مزدوروں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا ہے۔ اس شعبے کے لیے لیبر قوانین کسی حد تک موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر نگران کمیٹیاں بھی غیر فعال ہیں جس سے روز بروز مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔ بھٹہ میں کام کرنے والے مزدوروں کے شناختی کارڈ نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان کو کافی مشکلا ت کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن مزدورو ں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے جس کا مقصد مزدوروں کی فلاح و بہبود اور کے حقوق کے لیے جدوجہدکرنا ہے۔ بھٹہ خشت سمیت پاکستان ورکرز فیڈریشن نے پورے ملک کے مزدوروں کے لیے کام کیا ہے اور مزدوروں کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو سماجی تحفظ بھی فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر ہم وفاقی حکومت، وفاقی وزیر برائے وزارت انسانی وسائل، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو سماجی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی رجسٹریشن کو سوشل سیکورٹی۔ ای او بی آئی سمیت دیگر اداروں میں یقینی بنایا جائے۔ کم ازکم اجرت پر عمل درآمد کویقینی بنایا جائے۔اور ان مزدوروں کے لیے ترجیح بنیادوں پر قانون سازی کی جائے۔ پروگرام کے آخر میں قائد مزدور چوہدری محمد یسین کی جانب سے بھٹہ خشت مزدوروں میں حفاظتی سامان تقسیم کیا گیا تا کہ صحت و سلامتی سے متعلق بیماریوں سے بچ سکیں۔



