وہاڑی چلتی بس میں ہوسٹس لڑکی کو گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،اسلام آباد: ایف نائن پار ک میں سیر کے لئے آئی لڑکی سے بھی مسلح افراد کی زیادتی

اسلام آباد،لاہور:اسلام آباد اور میلسی میں دو الگ الگ واقعات میں دو لڑکیوں کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے ۔
وہاڑی میں زیادتی کا شکار بننے والی متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ میں موبائل میں ٹک ٹاک استعمال کررہی تھی کہ اس دوران ملزم نے 3 سے 4 بار مجھے بلایا لیکن میں اس کے پاس نہیں گئی۔
بس کے ڈرائیور نے پھر مجھے کہا کہ جائو اس سے موبائل لے کر آو لیکن جب میں پیچھے گئی تو ملزم نے مجھے پچھلی سیٹ پر گرایا، اس وقت بس میں کوئی بھی نہیں تھا۔ تمام مسافرمیلسی میں اتر گئے تھے، یہاں آکر مجھے 2 ہزار روپے دیے گئے اور کہا گیا کہ کسی کو مت بتانا، مجھ سے رہا نہ گیا اور یہاں پہنچ کر 15 کوکال کرکے بتادیا۔ پولیس والوں نے کہا کہ ہم ملزم کے خلاف ایکشن لیں گے۔
پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق ملزم نے لڑکی سے زبردستی زیادتی کی، زیادتی کرنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ گاڑی کا گارڈ تھا۔
متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ بس میں اس وقت ڈرائیوراورگارڈ تھا، میرے چیخنے پر ڈرائیور نے گاڑی روکی، ڈرائیور پیچھے آنے کی کوشش کررہا تھا لیکن اس نے اسے منع کردیا، گارڈ نے ٹشو کا ڈبہ میرے منہ پر رکھ دیا تھا۔
دوسری جانب پولیس نے تھانہ دانیوال پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا اور واقعہ کی ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزم بس کا ہی سکیورٹی گارڈ ہے، بس صادق آباد سے وہاڑی آئی تھی، متاثرہ لڑکی کو بس انچارج خاتون نے جان بوجھ کر اس بس میں بھیجا جب کہ ملزم کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ چلتی بس میں میلسی سے وہاڑی آتے ہوئے پیش آیا، بس کے تمام مسافر میلسی میں اتر گئے تھے اور بس وہاڑی بس اسٹینڈ پر آرہی تھی، گارڈ نے بس کو لاک کرکے بس ہوسٹس سے زیادتی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیادتی کا شکار متاثرہ بس ہوسٹس کو تشویشناک حالت میں ڈی ایچ کیواسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس کے مطابق تھانہ دانیوال پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم شیراز اوربس کے ڈرائیور کوگرفتار کرلیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ڈرائیور نے گارڈ کی معاونت کی، بس کے دروازے بند کیے اورگاڑی نہیں روکی۔
دوسری طرف
اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں سیر کے لئے آئی لڑکی کو مسلح افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔لڑکی کا تعلق میاں چنوں سے بتایا جاتا ہے
لڑکی ہواخوری کیلئے دوست کے ساتھ پارک آئی تھی، مسلح افراد نے چہل قدمی کرتے وقت روکا، لڑکی کو الگ لے گئے، جان سے مارنے کی دھمکی دی، شور کرنے پر تھپڑ مارے، درختوں کے جھنڈ میں لے جا کر تشدد کیا، کپڑے پھاڑ ڈالے اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کو بیان میں لڑکی نے کہا کہ دو حملہ آوروں نے زیادتی کی، زیادتی کے بعد کپڑے دور پھینک دیے تاکہ وہ بھاگ نہ سکے لڑکی نے بتایا کہ حملہ آوروں کو دہائیاں دیں پر وہ باز نہ آئے۔
لڑکی نے بتایا کہ ملزمان نے زیادتی کے بعد اسے کہا کہ شام کے وقت پارک نہ آیا کرو۔
ڈاکٹرز کے مطابق لڑکی کے جسم پر زیادتی کے نشانات ہیں۔ مارگلہ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا جبکہ سی سی ٹی وی وڈیو کے ذریعے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ معاملے میں پارک عملہ بھی شاملِ تفتیش ہے۔
پمز ذرائع کے مطابق پمز اسپتال میں متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ گزشتہ رات کروایا گیا اور سیمپل فارنزک لیبارٹری ارسال کردیے گئے ہیں۔، متاثرہ خاتون کی ٹانگ، چہرے پر خراشوں کے نشانات پائے گئے۔