انتقال حرکت قلب بند ہونے سے ہوا عمر92 سال تھی کچھ عرصہ سے علیل چلے آرہے تھے،کراچی میں سپرد خاک
نپے تلے انداز میں جملوں کی ادائیگی اور اپنی خوبصورت آواز کے باعث خاص شہرت رکھتے تھے، ان کے پڑھنے اور بولنے کے ڈھنگ کو عالمی شہرت نصیب ہوئی

کراچی:ممتاز اداکار ، معروف ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 92 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے کراچی میں انتقال کر گئے۔
اہل خانہ کے مطابق ضیا محی الدین کئی روز سے علیل تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے،پیر کی صبح 6 بجکر 30 منٹ پر حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے۔ضیا محی الدین کی نماز جنازہ بعدکراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 4 کی امام بارگاہ یثرب میں ادا کی گئی۔نمازجنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی ۔
ضیا محی الدین 20 جون 1933 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کے مصنف اور مکالمہ نگار ہونیکا اعزاز حاصل تھا۔
معروف ہدایت کار ضیا محی الدین نے 1949 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا، انہوں نے آسٹریلیا اور انگلینڈ سے اعلی تعلیم حاصل کی تھی۔1956 میں وہ وطن واپس لوٹے تو انہیں فلم لارنس آف عربیہ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔بعد ازاں انہوں نے تھیٹر کے کئی ڈراموں اور ہالی وڈ کی کئی فلموں میں کردار ادا کیے تھے، انہوں نے 1962 میں مشہور فلم لارنس آف عربیہ میں لازوال کردار ادا کیا۔1970 میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے ضیا محی الدین شو کے نام سے ایک اسٹیج پروگرام کی میزبانی کی تھی۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن اور جو جانے وہ جیتے کے نام سر فہرست ہیں ۔
وہ اردو ادب کے فن پارے اپنی خوب صورت آواز میں پیش کرنے میں بھی ماہر تھے، انہیں 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ضیا محی الدین کو 2012 میں ہلال امتیاز ایوارڈ سمیت متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
اردو ادب کے ممتاز و معروف مزاح نگار مشتاق یوسفی نے ضیا محی الدین کے بارے میں کہا تھا کہ رتن ناتھ سرشار، چوہدری محمد علی ردولوی، فیض احمد فیض اور پطرس کی تصانیف کے شہ پارے ضیا محی الدین نے پڑھے ہیں، وہ جہاں لکھنے والے کے کمال فن کا نمونہ ہیں وہاں پڑھنے اور پیش کرنے والے کے حسن انتخاب، سخن فہمی، نکتہ سمجھنے اور سمجھانے کی اہلیت، لفظ کا مزاج اور لہجہ اور لہجے کا ٹھاٹ پہچان کی صلاحیت کا صحیح معنوں میں منہ بولتا ثبوت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ضیا محی الدین واحد ادبی شخصیت ہیں جن کے پڑھنے اور بولنے کے ڈھنگ کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔
انگریزی اور اردو زبان میں الفاظ کے تلفظ کی درست ادائیگی ہو یا تاریخ کے حوالہ جات، ہر موضوع پر ضیا محی الدین کی گرفت مضبوط تھی۔ جن لوگوں نے ضیا محی الدین کو سنا، پڑھا یا دیکھا، وہ ان کی شخصیت کے سحرمیں گرفتار ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔
ضیا محی الدین ان چند پاکستانیوں میں شامل تھے، جنھوں نے پاکستان سے باہر جا کر بھی تھیٹر اور فلموں میں کام کیا تھا۔ تقریبا 67 سال تک تھیٹر اور فلم انڈسٹری سے منسلک رہنے والے ضیا محی الدین 2005 سے 2021 تک نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) سے بطور بانی اور سربراہ وابستہ رہے۔
اس کے بعد وہ اس عہدے سے اپنی مرضی سے سبکدوش ہو کر اپنی خدمات ادارے کو رضاکارانہ طور پر دے رہے تھے۔ اسی دوران ضیا محی الدین نے سنہ 2022 میں شیکسپیئر کے ڈرامے رومیو اینڈ جولیئٹ کو اردو زبان میں پیش کر کے طالب علموں کو کلاسیکل تھیٹر بھی سکھایا۔
ڈرامے قطعی نہیں دیکھتا
بی بی سی کو سنہ 2022 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو ضیا محی الدین نے کہا تھا کہ آخری بار انھوں نے سنہ 1981 میں پاکستانی ڈرامہ دیکھا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ میں ڈرامے قطعی نہیں دیکھتا، مجھے کوئی کمی نہیں محسوس ہوتی، سنا ہے مگر بڑے اچھے ہوتے ہیں۔ میں کبھی کبھی خبریں دیکھتا ہوں ورنہ ٹی وی دیکھنا بہت کم ہوتا ہے۔ کبھی خبریں الجزیرہ پر دیکھتا ہوں، کبھی بی بی سی بھی دیکھ لیتا ہوں۔ مطالعہ کرتا ہوں دو بجے تک نیند آ جائے تو ٹھیک، نہ آئے تو نہیں۔
ضیا محی الدین کا شکوہ تھا کہ پاکستانی ٹی وی پر غلط تلفظ بولا جاتا ہے۔ انھوں نے ملک، مِلک اور ملک کا حوالہ دیا اور کہا زبر زیر اور پیش سے لفظ اور مطلب بدل جاتا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ مختلف الفاظ جنھیں ہم عام طور پر اور ٹی وی ڈراموں میں غلط ادا کرتے ہیں، جیسے قبر، فکر، صبر وغیرہ، ہم کس کس کا رونا روئیں۔
پروفیشنلزم میرے نزدیک ایمان کی مانند ہے
ضیا محی الدین سے جب بی بی سی نے ان سے کام کے ساتھ طویل عشق کے تناظر میں پوچھا کہ اگر وہ پلٹ کر دیکھیں تو دل کے قریب کیا رہا؟
تو انھوں نے بتایا تھا کہ بہت کم موقع ملا کہ اپنے کسی کام سے مطمئن ہوا ہوں۔ ہاں، ایسی ہیں دو چار جن پر مجھے ناز بھی ہے لیکن بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیمانے بدلتے رہتے ہیں، اپنی ہی نظروں میں اس پیمانے پر نہیں پہنچا جو میری توقع تھی۔ ارادہ کچھ بھی ہو لیکن عمل نہ ہو سکے تو اکثر ان دونوں چیزوں کا ملاپ نہیں ہوتا۔
ضیا محی الدین کا کہنا تھا کہ پروفیشنلزم میرے نزدیک ایمان کی مانند ہے۔ میرا نہیں خیال کچھ بدلا آیا ہے۔ سٹیج ایکٹنگ پروفیشنل ہے۔
۔۔۔۔۔۔



