پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکاالیکشن کمیشن نے پنجاب میں عام انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کر دئیے

30 اپریل کے انتخابات ملتوی ہونے کا باضابطہ حکم نامہ جاریحکومت نے الیکشن کے لئے فنڈز اور فوج نے سیکورٹی دینے سے انکار کر دیا تھا


اسلام آباد:حکومت کی جانب سے فنڈز اور فوج کی جانب سے سیکورٹی کی دستیابی سے معذر ت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کر دیا۔ اب الیکشن 8 اکتوبر 2023 کو ہونگے جس کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائیگا۔
بدھ کو الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور چاروں ممبران کے دستخطوں سے جاری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے گورنر پنجاب سے 24 جنوری کو 9 سے 13 اپریل کے درمیان عام انتخابات کیلئے تاریخ دینے کے حوالہ سے خط لکھا جبکہ 29 جنوری کو انہیں یاد دہانی کا ایک اور خط لکھا گیا تاہم ان کی جانب سے پولنگ کیلئے تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
گورنر کی جانب سے یکم فروری کو کمیشن سے کہا گیا کہ وہ ملک کی معاشی صورتحال اور موجودہ سکیورٹی کے خدشات کے حوالہ سے تمام فریقین سے مشاورت کریں، اسی دوران لاہور ہائی کورٹ میں انتخابات کی تاریخ دینے کے حوالہ سے رٹ پٹیشن بھی دائر کی گئی جس پر فیصلہ دیا گیا کہ گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن تاریخ دیں، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کمیشن نے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا تاہم گورنر پنجاب کی جانب سے یہ مقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے اسمبلی کی تحلیل نہیں کی اس لئے یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ پولنگ کی تاریخ دیں۔
اسی دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سوموٹو نوٹس لیا گیا۔ اس کے علاوہ صدر مملکت کی جانب سے 20 فروری کو 9 اپریل کی پولنگ کیلئے تاریخ مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں کمیشن نے 3 مارچ کو صدر مملکت کو 30 اپریل سے 7 مئی کے دوران تاریخ تجویز کرنے کی تجویز دی جس کے بعد 30 اپریل 2023 کی تاریخ صدر مملکت کی جانب سے مقرر کی گئی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کیا۔ چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کی جانب سے 8 فروری کو الیکشن کمیشن کو پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے حوالہ سے آگاہ کیا گیا۔کمیشن کو بتایا گیا کہ جنوری سے اب تک دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں خانیوال میں آئی ایس آئی کے دو افسران، تونسہ ڈیرہ غازی خان میں پولیس پوسٹ جھنگی، میانوالی میں پولیس سٹیشن، ساہیوال میں جعفر ایکسپریس سمیت 100 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے۔ راجن پور میں کچے کے علاقہ میں بلوچستان ذیلی قوم پرستوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان اور راولپنڈی میں اطلاعات کی بنیاد پر گذشتہ دو ماہ میں 213 دہشت گرد حملوں کو ناکام بنایا گیا۔
اس کے علاوہ لاہور پولیس لائن، میانوالی، بھکر اور ڈی جی خان میں دہشت گردی کے سنجیدہ خطرات کے حوالہ سے بتایا گیا جہاں پر کلین اپ آپریشن جاری ہے جس میں چار سے پانچ ماہ لگیں گے۔ اس صورتحال میں انتخابی ڈیوٹی کیلئے 3 لاکھ 86 ہزار 623 پولیس اہلکاروں کی کمی ہے جو کہ فوج اور رینجرز کی تعیناتی سے پوری ہو سکتی ہے تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے 8 فروری 2023 کو بتایا گیا کہ کمیشن کی جانب سے طلب کردہ سول اور آرمڈ فورسز کی تعیناتی پولیس سٹیشنوں میں ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح نیکٹا کی جانب سے حملوں کے خطرات کے حوالہ سے الرٹ جاری کئے گئے۔
اس کے باوجود نماز کے دوران پولیس لائن پشاور میں دہشت گرد حملے میں 93 افراد شہید ہوئے، ان کے نکتہ نظر کے مطابق ان حالات میں پنجاب میں عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں وزارت داخلہ کے خصوصی سیکرٹری اور دیگر اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں جبکہ فنانس سیکرٹری نے کمیشن کو بتایا کہ معاشی صورتحال میں حکومت کیلئے یہ مشکل ہو گا کہ خیبرپخونخوا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کیلئے اس وقت عام انتخابات اور بعد ازاں قومی اسمبلی اور سندھ، بلوچستان کی اسمبلیوں کے انتخابات الگ الگ تاریخوں میں کرائے۔
اس کے بعد 10 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں بھی آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر، پنجاب، کے پی کے اور دیگر حکام نے بھی بتایا کہ الگ الگ تاریخوں میں انتخابات ووٹروں، انتخابی عملے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کیلئے دہشت گردی کے دوہرے خطرے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران انتخابی حکام کے اغوا کے سنگین خدشات بھی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ اکتوبر 2022 سے دہشت گردی کے واقعات سے بھی کمیشن کو آگاہ کیا گیا۔ 14 مارچ کو الیکشن کمیشن نے اپنے اجلاس میں وزارت دفاع، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے ایک بار پھر ملاقات کی اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جنہوں نے بتایا کہ پاک فوج کو قومی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔اس صورتحال میں پولیس سٹیشنوں پر پولیس کی فزیکل تعیناتی ممکن نہیں، اندرونی و بیرونی خطرات کی وجہ سے فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر دستیاب ہو سکتی ہے۔ 14 مارچ کو چیف سیکرٹری نے بھی امن و امان کی خراب صورتحال کے حوالہ سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر آرمڈ و سول آرمڈ فورسز کی مدد کے بغیر 30 اپریل کو انتخابات کے انعقاد کیلئے فول پروف سکیورٹی ممکن نہیں۔
الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو 137 ارب روپے کا شارٹ فال متوقع ہے جبکہ صوبائی ریونیو وسائل سے 111 ارب روپے کا شارٹ فال متوقع ہے۔ 140 ارب روپے کے واجبات وفاقی حکومت کے ذمہ ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ کی طرف سے فنڈز کی عدم دستیابی کے حوالہ سے آگاہ کیا گیا۔
کمیشن نے کہا کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد اور تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 اپریل کو عام پنجاب میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، یہ انتخابات اب 8 اکتوبر 2023 کو ہوں گے جس کیلئے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے کم سے کم تاخیر کا شکار ہو۔
تاہم گزشتہ روز ہونے والے اپنے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں الیکشنز کیلئے فنڈز نہیں دے سکتے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے پنجاب الیکشن کے حوالے سے وزارت خزانہ، دفاع اور داخلہ کے مقف کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے فیصلے سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا تمام اداروں کا ڈومین پارلیمنٹ کی مرہون منت ہے، تمام اداروں کا اپنا اپنا دائرہ کار اور اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ہیں، پارلیمنٹ نے طے کیا کہ کون سا ادارہ کس طرح کام کرے گا، پارلیمنٹ کو یہ اختیار بھی ہے کہ آئین میں ترمیم کر سکتا ہے، پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جس نے آئین بنایا ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا یہ آئین میں درج ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر الیکشن ہوں، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے 90 دن میں شفاف الیکشن کرائے لیکن یہ بات بنیادی طور پر غلط ہے کہ ہم الیکشن سے گریز کر رہے ہیں، پنجاب کے الیکشن الگ ہوں تو کیا قومی اسمبلی کے الیکشن کے وقت وہاں کی حکومت اثر انداز نہیں ہو گی؟ پنجاب میں الیکشن پہلے ہو گئے تو قومی اسمبلی کے الیکشن منصفانہ نہِیں ہوں گے، پنجاب کے الیکشن کی 30 اپریل کی تاریخ بھی 90 دن کی آئینی مدت سے باہر ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا مسلم لیگ ن کو 1100 کے قریب درخواستیں آئی ہیں اور ہم نے ٹکٹ دینا شروع کر دیے ہیں لیکن کیا ذمہ داری صرف پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہا گیا آڈیو لیکس عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، آڈیو لیکس پہلے بھی ہوتی رہی ہیں ججز استعفے بھی دیتے رہے، کیا علی ساہی کا کوئی وجود نہیں، کیا آڈیو سے متعلق کوئی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے۔