صدر نے خط میںوزیراعظم کو ہدایت کی کہ وہ توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے متعلقہ انتظامی حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کریں
وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور پیپلزپارٹی کے رہنمائوں شازیہ مری اور ناصر حسین نے مذکورہ خط پر صدر کو ا ن کا ماضی یاد دلاتے ہوئے اپنی اوقات میں رہنے کا مشورہ دے ڈالا

اسلام آباد:صدر مملکت عارف علوی نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے۔ یہ ہدایت انہوں نے وزیراعظم میاں شہبازشریف کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے۔ خط میں وزیراعظم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کریں۔خط میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کو چاہیئے کہ صوبوں میں انتخابات کیلئے متعلقہ اداروں کو الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں۔ خط میں ماضی قریب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کی ضرورت تھی۔
اس کے جواب میں وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور پی پی پی کے رہنمائوں نے صدر کو پی ٹی آئی کا ماضی یاد دلاتے ہوئے اپنی اوقات میں رہنے کا مشورہ دے ڈالا
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خاں کا صدر عارف علوی کے بیان پر ردعمل میں کہنا تھا کہ صدر علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں عمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں عمران خان کے حکم پر پپٹ نہ بنیں آئین اور قانون شکن آئینی عہدے پر مسلط ہے کلمے پڑھتے ہوئے سیاسی مخالفین پر15 کلو ہیروئن ڈال دی تھی، اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے کیا اپوزیشن لیڈر کو سزائے موت کی چکی میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا سیاسی مخالفین کی بہنوں، بیٹیوں کو سزائے موت کی چکیوں میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا گیا تھا۔ صحافیوں کی ہڈیاں پسلیاں توڑیں، اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے پولیس کے سر کھولنے، پٹرول بم، گولیاں، غلیلیں انسانی حقوق کے مطابق چلائیں ؟ انہوں نے صدر کو تجویز کیا کہ وہ عمران خان کو خط لکھیں کہ 190 ملین پانڈ پاکستان کو واپس کرے عمران کو خط لکھیں کہ ٹیریان خان کو قبول کریں عمران خان کو خط لکھیں کہ وہ توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا عدالت میں جواب دیں۔
دوسری جانب دوسری جانب الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو انتخابات منسوخی کی وجوہات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو خط لکھ کر امتخابات منسوخی کی وجوہات سے آگاہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت کو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق خط میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پی روشنی میں انتخابات کیلئے شیڈول جاری کیا کیونکہ صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کمیشن کی ذمہ داری ہے۔خط میں کہا گیا کہ پنجاب میں صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے لیے گورنر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے علاوہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ بھی ملاقاتیں اور رابطے کیے گئے تاہم تمام سٹیک کولڈرز فوری انتخابات کے لئے تیار نہیں جبکہ سکیورٹی کے حوالے سے بھی نفری کی فراہمی سے معذرت کی گئی۔ خط میں آئین کے آرٹیکل 218(3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 58 اور 8 سی کا بھی حوالہ دیا گیا جس کے تحت انتخابات منسوخ کئے گئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ تیس اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تھے، اس لئے 8 اکتوبر کی تاریخ پولنگ کے لئے مقرر کی گئی تاہم شیڈول بعد میں جاری کر دیا جائے گا۔




