پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں اکثریت نے رائے دی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ نہ بنانے کی صورت میں تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے
پی ٹی آئی کے کسی بھی غیر آئینی مطالبے کو تسلیم نہ کرنے کا بھی فیصلہ،مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے

اسلام آباد:حکومتی اتحادی جماعتوں نے الیکشن التواء سے متعلق چیف جسٹس کی جانب سے فل کورٹ کا مطالبہ نہ مانے جانے پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ،ساتھ ہی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے مذکورہ ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا بھی عندیہ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ وزیراعظم کی زیرصدارت اتحادیوں کے اجلاس میں کیا گیا ۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اتحادیوں کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ سپریم کورٹ سے انتخابات کیس میں فل کورٹ کا مطالبہ کیا جائے۔
اجلاس میں آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو اور مریم نواز نے ویڈیو لنک پر شرکت کی جب کہ چوہدری سالک حسین، اعظم نذیرتارڑ،عطا تارڑ، ملک احمد اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں شریک اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سپریم کورٹ متنازع ہونے سے بچنے کیلئے فل کورٹ تشکیل دے۔اتحادیوں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں جاری کیس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھی باقاعدہ فریق بنایا جائے۔ حکومت کا محاذ آرائی سے بچنے کیلئے مذاکرات کے آپشن پر بھی غور، اس حوالے سے اتحادیوں نے وزیراعظم کو مشاورت کیلئے ٹاسک دے دیا۔
پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں اکثریت نے رائے دی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ نہ بنانے کی صورت میں تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اکثریت نے فل کورٹ نہ بنانے کی صورت میں 3 رکنی بینچ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ 3 رکنی بینچ سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اتحادیوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے کسی بھی غیر آئینی مطالبے کو تسلیم نہ کیا جائے۔اتحادی رہنما ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے جس میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پرگفتگو کی گئی اور سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس سے متعلق مشاورت کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس نے ایک ہی دن انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی روز الیکشن کا مطالبہ آزادانہ انتخابات کا بنیادی دستوری تقاضا ہے، اس مطالبے سے انحراف ملک کو تباہ کن سیاسی بحران میں مبتلا کردے گا اور یہ صورت حال ملک کے معاشی مفادات پر خود کش حملے کے مترادف ہوگی۔اجلاس کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں پر حملہ آور ایک جماعت کے دبا ئوپر سیاسی وآئینی بحران پیدا کرنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں، بدقسمتی سے ایک انتظامی معاملے کو سیاسی وآئینی بحران بنادیا گیا ہے، معاشی، سکیورٹی، آئینی، قانونی اور سیاسی امورکو نظرانداز کرنا ریاستی مفادات سے لاتعلقی کے مترادف ہے۔
اعلامیے کے مطابق اتحادیوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل218 (3) سمیت دیگر دستوری شقوں کے تحت انتخاب کرانا الیکشن کمشن کا اختیار ہے، سپریم کورٹ کو آئین کے تحت ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمشن کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔اجلاس میں شرکا نے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس نمبر 1/2023 کے 4رکنی اکثریتی فیصلے کو مانتے ہوئے موجودہ عدالتی کارروائی ختم کی جائے۔
اتحادیوں نے کہا کہ اجلاس تقاضا کرتاہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی بینچ کے فیصلے کا احترام کرنا بھی سب پر لازم ہے، جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن تو پہلے ہی اس مقدمے میں رضا کارانہ طورپر بینچ سے الگ ہوچکے تھے، لہذا وہ موجودہ بینچ کا حصہ نہیں ہوسکتے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور دیگر دو ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔غیر ملکی میڈیا کو دیئے انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی بات پر غور ہو رہا ہے، اس پر فیصلہ بھی ہو سکتا ہے، ان تینوں جج صاحبان کا ن لیگ کے خلاف فیصلوں کا لمبا ریکارڈ ہے۔ ایک فیصلہ ایسا بھی ہے جس کی ن لیگ ہی نہیں بلکہ ریٹائرڈ ججز سمیت ہر فرد نے مخالفت کی، 63 اے سے متعلق فیصلے کی بنیاد پر ن لیگ کی پنجاب حکومت ختم کی گئی۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ تینوں ججز ہر صورت میں اس مسئلہ کو خود ہی نپٹانے پر بضد ہیں، ججز نے فل کورٹ کی درخواست مسترد کردی اور اپنے ساتھی ججز کی بات سننے سے بھی انکار کردیا ہے، لہذا ہمارے پاس اپنا احتجاج نوٹ کروانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مائنس کرنے کا آپشن الیکشن ہی ہوتا ہے اور اس وقت تمام سیاسی جماعتیں اس نقطے پر متحد ہیں۔اکتوبر سے قبل انتخابات ہونے پر انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل اور اس کے 90 روز بعد انتخابات ہونا چاہیے۔




