عدلیہ اپنے فیصلوں کو خود متنازعہ بنانے کی روش کب چھوڑے گی ؟

عدالت کی طرف سے اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کا سلسلہ جاری ہے
سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دینے والے چیف جسٹس ان کا مطالبہ بھی مان لیں
چیف جسٹس بھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کی طرح تنہاء دیگر کی طرح جماعت اسلامی نے بھی فل کورٹ کا مطالبہ کر دیا


اسلام آباد:بدقسمتی سے پاکستا ن میں اعلیٰ عدلیہ اور دیگر ادارے ہمیشہ خود اپنے فیصلوں کے باعث اپنے اداروں کو متنازعہ بناتے رہے ہیں اور پھر اس پر بضد بھی ہیں کہ ان کی عزت کی جائے ،چائے وہ جو بھی کرتے پھریں ان کو مقدس گائے مان کر ان کی عزت کی جائے اور ملک وقوم سے ان کی وفاداری کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود انہوں نے اپنے ادارے کی عزت اور ساکھ کے لئے کیا کیا۔
پنجاب خیبر پختوں خوا انتخابات کے حوالے سے جاری عدالتی سماعت کے دوران معزز چیف جسٹس آف پاکستان کئی بار سیاسی جماعتوں کو یہ کہ چکے ہیں کہ وہ اس حوالے سے عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے پہلے باہم مذاکرات کر کے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔تاہم یہاں یہ امر قابل افسوس ہے کہ سیاسی جماعتوں کو باہم مذاکرات کی دعوت دینے والے چیف جسٹس ان کا بڑا مطالبہ ماننے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔
تحریک انصاف کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتیں بار ہا ان سے درخواست کر چکی ہیں کہ وہ اس معاملے پر فل کورٹ تشیل دیں بظاہر ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے بھی اس مطالبے کی مخالفت نہیں کی ہے۔
یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ چیف جسٹس کی طرح ان کی پسندیدہ سیاسی جماعت بھی تنہائی کا شکار ہے اور اس میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کے وفود نے اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے گزشتہ دنوں جماعت اسلامی اور مجلس وحدت المسلمین سے ملاقاتیں بھی کی تھیں لیکن لگتا ہے کہ وہ ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
جماعت اسلامی نے بھی چیف جسٹس سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔مجلس وحدت المسلمین کا اس حوالے سے تاحال کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے لیکن انہوں نے اس مطالبے کی مخالفت بھی نہیں کی ہے۔
کوئٹہ میں آل پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بھی اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خیبر پختون خوا انتخابات کے حوالے سے جاری کیس میں فل کورٹ تشکیل دیں تاکہ کسی کو اس فیصلے پر اعتراض نہ ہوسکے۔
چیف جسٹس سے فل کورٹ کا مطالبہ نہ صرف سیاسی جماعتوں اور ادارے کر رہے ہیں بلکہ ان کے اپنے ادارے کے معزز جج صاحبان بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے چیف جسٹس کا 9 رکنی بنچ کم ہوتے ہوتے تین رکنی میں تبدیل ہو گیا ہے لیکن وہ تاحال میں نہ مانوں کی روش پر قائم ہیں اور بضد ہیں کہ وہی تین جج اس حوالے سے فیصلہ دیں گے۔
دوسری طرف حکومت بھی فل ان ایکشن ہے وفاقی کابینہ نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میںسپریم کورٹ کے سنئیر ترین جج اور مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط پر رجسٹرارسپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا اور ارشاد علی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یادر ہے کہ عدالتی آرڈر کو سرکلر کے ذریعے تبدیل کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ ارشاد علی کے نام مراسلہ لکھتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ 31 مارچ کے سرکلر کے اجرا پر وہ منصب سے فوری طور پر دستبردار ہوجائیں۔سیکریٹری کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوائے گئے مراسلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچنے سے پہلے سرکاری افسر محمد ارشاد کو ہٹایا جائے، اور ان کے خلاف سپریم کورٹ فیصلوں کی نفی پر انضباطی کارروائی کی جائے۔مراسلے میں جسٹس عیسی کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کو ایک جوڈیشل آرڈر کو ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں، چیف جسٹس بھی جوڈیشل آرڈر کے بارے میں انتظامی ہدایات نہیں دے سکتے، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئین پاکستان کیا کہتا ہے، یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایک سینئر افسر آئین سے لاعلم ہو۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے مزید کہا کہ آپ اور سپریم کورٹ کے مفاد میں یہ مناسب ہوگا کہ اپنا سرکلر فوری واپس لیں، اور جہاں بھی یہ بھیجا گیا ہے انھیں آگاہ کیا جائے، آپ کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے رجسٹرار سپریم کورٹ کے منصب پر رہنے کے قابل نہیں، آئین کے آرٹیکل 175/3 کے تحت سرکاری افسر کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ صدرمملکت عارف علوی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ پرفی الفوردستخط کریں تاکہملک کو آئینی وسیاسی بحران سے نجات مل سکے۔وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلوں کے وقت سرکاری افسران کو باہربھیج دیا گیا تھا۔
دریں اثناء سپریم کورٹ کے دو سنئیر ترین ججز جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس طارق مسعود نے چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر استدعا کی ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف دائر ریفرنس پر کارروائی کی جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس! ہم انتظار کر رہے ہیں آپ کب جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلاتے ہیں۔ اجلاس بلا کر تعین کیا جائے کہ جسٹس مظاہر نقوی پر لگائے گئے الزامات درست ہیں یا غلط۔ اگر الزامات غلط ہیں تو جج کی عزت بحال کی جائے اور اگر درست ہیں تو آئین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سپریم کورٹ کے دو جسٹس صاحبان نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کے نام خط لکھ کر ان سے کونسل کا اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف بھجوائے گئے ریفرنس پر کارروائی کی جائے۔ خط لکھنے والے جسٹس صاحبان میں سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس طارق مسعود شامل ہیں۔خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف پاکستان بار نے شکایت بھجوائی ہے اور جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر جج پر لگے الزامات کا جائزہ لیا جائے۔
خط کے متن کے مطابق جج کو الزامات کے سائے میں رکھنے سے جج اور عدلیہ کی عزت پر حرف آ رہا ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور اس پرعوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس فوری بلایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔