پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا کیسے جار ی کریں اٹارنی جنرل کا سپریم کورٹ میں موقف

اسلام آباد:پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک کو براہ راست حکم دیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے کے فنڈ جاری کرے ۔عدالت نے اس حوالے سے ان چیمبر سماعت میں اٹارنی جنرل سے بھی کافی سخت سوالات کئے۔ جس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا تو فنڈز کیسے جاری کریں؟ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے فنڈز کے اجرا میں بے بس ہے۔
پنجاب انتخابات فنڈز معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے اِن چیمبر سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل اور دیگر حکام پیش ہوئے۔پنجاب انتخابات فنڈز جاری نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر عمل کرنا پڑے گا۔
سپیشل سیکریٹری خزانہ اویس منظور سمرا، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ عامر محمود اور ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ تنویر بٹ سماعت میں موجود تھے۔قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک سمعیہ کامل، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک عنایت حسین چوہدری، ڈائریکٹر سٹیٹ بینک قدیر بخش اور پروٹوکول آفیسر سٹیٹ بینک محسن افضال بھی سماعت میں موجود تھے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن، ایڈیشن سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی لا الیکشن کمیشن بھی سماعت میں موجود تھے۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے مقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے فنڈز کے اجرا میں بے بس ہے۔ پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا تو فنڈز کیسے جاری کریں۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے رقم کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ پارلیمنٹ نے انتخابات کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈزکے اجرا کے بل کو مسترد کیا۔ پارلیمنٹ سے بل مسترد ہونے کے بعد حکومت سٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کا نہیں کہہ سکتی۔ججز نے فنڈ جاری نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر عمل کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی وزارت خزانہ کے حکام سے ملاقات ہوئی جبکہ وزیر اعظم نے بھی اٹارنی جنرل کو مشاورت کے لیے طلب کیا تھا۔
واضح رہے کہ عدالت عظمی نے گورنر سٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور الیکشن کمیشن حکام کو ذاتی حیثیت پر طلب کر رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے 12 اپریل کو الیکشن کمیشن کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کی رپورٹ پر نوٹسز جاری کیے تھے۔
عدالت نے پنجاب میں انتخابات کے لیے حکومت کو 21 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ 4 اپریل کے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو 11 اپریل تک فنڈز سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو رپورٹ میں بتایا کہ وفاقی حکومت نے انتخابات کے لیے فنڈز فراہم نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن حکام کو آج عدالت نے پنجاب اور کے پی انتخابات سے متعلق تمام تفصیلات اور ریکارڈ ساتھ لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
