آئین کے تحت اختیار پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا، آرمی چیف

وقت آگیا ہے کہ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر اب ہمارے پاکستان کی بات کرنی چاہیے
شہدا کی عظیم قربانیوں سے امن بحال ہوا، یہ محنت چار سال میں ضائع کر دی گئی،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: آرمی چیف جنرل جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آئین کے تحت اختیار پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔اسمبلی ہال میں قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کا مظہر ہیں اختیارات کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں،، آئین کہتا ہے کہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔
اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری آپریشن اور اعلی عسکری حکام ، آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ، وفاقی سیکرٹریز داخلہ، خارجہ، فنانس، دفاع اور اطلاعات نشریات ، چاروں صوبائی وزرا اعلی، چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز اور آئی جیز اجلاس میں شریک ہوئے۔اعلی عسکری حکام نے داخلی سلامتی سے متعلق بریفنگ دی۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے امن و امان اور وزیرستان میں انسداد دہشتگردی کے آپریشن سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے شہدا کی عظیم قربانیوں سے امن بحال ہوا، یہ محنت چار سال میں ضائع کر دی گئی، ملک میں دہشت گردی واپس کیوں آئی، کون لایا ؟تمام صوبوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور فاٹا اصلاحات کے تحت مقاصد کے لئے رقوم دی تھیں، وہ کہاں گئیں؟، خیبرپختونخوا کو دیئے جانے والے اربوں روپے کے وسائل کہاں استعمال ہوئے؟ ان کا جواب لینا ہوگا۔
آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر "ہمارے پاکستان” کی بات کرنی چاہیے، عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی، ملک میں دائمی قیامِ امن کے لیے سکیورٹی فورسز مستعد ہیں۔
آرمی چیف کی آمد پر اراکین اسمبلی اور وفاقی وزرا نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا جبکہ عسکری حکام کی جانب سے شرکا کو ملکی سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔
آرمی چیف نے 1973 کے آئین کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہونے پر ارکان کو مبارکباد دی اور کہا کہ سینٹر آف گریویٹی پاکستان کے عوام ہیں۔ طاقت کا محور عوام ہیں، آئین کہتا ہے اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کے مظہر ہیں، عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔
جنرل عاصم منیرنے کہا کہ دہشت گرد مذاکراتی عمل کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ منظم ہوئے ۔ یہ نیا آپریشن نہیں بلکہ ہول آف نیشل اپروچ ہے، یہ عوام کے غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاست کے تمام عناصر شامل ہیں، اللہ کے فضل سے اس وقت پاکستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا اس کامیابی کے پیچھے ایک کثیر تعداد شہدا و غازیان کی ہے، شہدا و غازیان نے اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کی، ان میں 80 ہزار سے زائد افراد نے قربانیاں پیش کیں جن میں 20 ہزار سے زائد غازیان اور 10 ہزار سے زائد شہدا کا خون شامل ہے۔
جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا دہشت گردوں کے لیے ریاست کی رٹ کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، دہشتگردوں سے مذاکرات کا خمیازہ ان کی مزید گروہ بندی کی صورت میں سامنے آیا، ملک میں دائمی قیامِ امن کے لیے سکیورٹی فورسز مستعد ہیں، اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔
ان کیمرہ اجلاس سے اراکین قومی اسمبلی کے اظہار خیال کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا اختتامی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر اب ہمارے پاکستان کی بات کرنی چاہیے، پاکستان کے پاس وسائل اور افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں ہے، عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔
آرمی چیف نے 1973 کے آئین کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہونے پر پارلیمنٹ اور ارکان کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کا مظہر ہیں، عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، حاکمیت اعلی اللہ تعالی کی ہے، اللہ تعالی کے اس حکم سے ہی آئین کو اختیار ملا ہے، آئین کہتا ہے کہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔