نئے قانون کے مطابق اب بنچوں کی تشکیل چیف جسٹس کی بجائے تین سنئیر ججوں کی کمیٹی کرے گی

اسلام آباد:صدر کی جانب سے دستخط نہ کرنے کے باجود دس روز قبل بنایا جانے والا قانون سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیاہے۔ جس کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے۔
بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفکیشن کا حکم بھی دے دیا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بنچ نے پریکٹس اور پروسیجر بل پر عمل درآمد روک دیا تھا جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے بل کو دو مرتبہ دستخط کے بغیر واپس بھجوایا تھا۔
لیکن قانون کے مطابق اگر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کوئی قانون سازی کر ے تو اس وقت تک وہ قانون کی شکل اختیار نہیں کرتا جب تک صدر اس پر دستخط نہ کر دیں تاہم اگر صدر دستخط نہ بھی کریں تو دس کے بعد وہ قانون بن جائے گا لہذا 21 اپریل کو دس دن پورے ہونے کے بعد اب وہ قانون بن گیا ہے ۔
سپریم کورٹ پریکٹسز اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت 184/3 (ازخود نوٹس) کے فیصلوں پر 30 روز میں اپیل ہوسکے گی ۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا۔
اس قانو ن کے تحت بنچ بنانے اور سو موٹو کے حوالے سے چیف جسٹس کو حاصل اختیارات اب سپریم کورٹ کے تین سنئیر ججز کی کمیٹی استعمال کرے گی ۔ اس قانون کے تحت اگر چیف جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہ بھی ہوں تو دیگر دو ججز اس حوالے سے فیصلہ کر سکیں گے تاہم انہیں چیف جسٹس کو اجلاس میں شرکت کے لئے خط لکھنا ہوگا۔



