توانائی بحران کا شکار پاکستان کے لئے اچھی خبر،ترکمانستان سے افغانستان کے راستے سستی ایل پی جی کی درآمد شروع

چمن میں باب دوستی کے راستے تین ٹینکرز پاکستان پہنچ گئے، ترکمانستان کی ایل پی جی ایران سے 25 فیصد سستی اور کئی گنا معیاری ہے

اسلام آباد:وزیر مملکت مصدق ملک کی کوششیں رنگ لے آئیں ،پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان کو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد شروع ہوگئی ہے۔
چمن میں کسٹم حکام نے جیونیوز کو بتایا کہ برآمدگی معاہدے کے تحت ترکمانستان سے بذریعہ افغانستان پہلی کھیپ 160 ٹن ایل پی جی پر مشتمل تین بازر چمن بارڈر پر باب دوستی کے راستے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ضابطے کی کارروائی کے بعد ان ٹینکرز کو پشاور روانہ کیا جائے گا جبکہ مزید 10 ٹینکرز جن میں 600 ٹن ایل پی جی موجود ہے اسپن بولدک سے کلیئرنگ کے لیے بارڈر ٹریڈ ٹرمینل پہنچ گئے ہیں۔
دوسری جانب قندھار کسٹم چیف مولوی محمدحامداحمد کے مطابق ترکمانستان سے 50 ٹینکرز کارگو اسپن بولدک پہنچ گئے جو کلیئرنگ مراحل طے کرنے کے بعد پاکستان منتقل کیے جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وسط ایشیا سے پاکستان کے لیے افغانستان ٹرانزٹ روٹ سے گیس کی برآمد میں کوئی رکاوٹ یا تاخیر نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ایل پی جی پلانٹ اونرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر سیدنسیم آغا نے جیونیوز کو بتایا کہ 6 ماہ قبل اسلام آباد میں ترکمانستان کے سفیر کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایک اعلی سطح کا وفد ترکمانستان گیا اور ترکمانستان کے ساتھ ایران سے 25 فیصد کم ریٹ پر معاہدہ کیاگیا۔ ان کا کہناتھا کہ ترکمانستان کے پلانٹس میں ایل پی جی کا پہلا تجارتی سودا کرکے پاکستانی تاجروں کو ٹریڈ کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
اس سستی ایل پی جی کی درآمد سے پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ سستی بجلی بنے گی ۔فیول کے طور پر استعمال ہونے کے باعث پڑولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔