مردم شماری یا حکومتی بغاوت

تحر یر :ڈاکٹر ذیشان حیدر بخاری


پاکستان میں ساتویں مردم شماری جاری ہے مردم شماری کیلئے انگریزی میں لفظ census استعمال ہوتا ہے جس کا مقصد ہوتا ہے افراد کو شمار کرکے یعنی گن کر مستقبل کے بارے میں لوگوں کی بہتری کیلئے پلاننگ کرناافسوسناک بات یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے پاکستان اور ساتھ ایشیا کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری جسکا بجٹ تقریبا چونتیس بلین سے بھی زیادہ ہے کو لانچ کرنے میں بہت جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے جسکے پیچھے مذموم مقصد محض افراد کی تعداد اور حالات کا اندازہ لگا کر انکے مستقبل کے بارے میں سوچ و بچار کرنا نہیں بلکہ اپنی حکومت کی مدت کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے بڑھانا ہے۔
حکومت چاہے صوبہ پنجاب اور کے پی کی نگران ہو یا وفاق کی مستقل حکومت۔ دونوں کو ہی الیکشن کا خوف لاحق ہے وہ کسی صورت بھی عروج کی بلندیوں پر پہنچے شخص عمران خان کا مقابلہ انتخابی میدان میں کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ پی ڈی ایم والے جانتے ہیں کہ الیکشن جب بھی ہونگے ہمیں ہمارے کیئے کی سزا ووٹ نہ ملنے کی
صورت میں مل کر رہے گی یعنی مہنگائی ،بیروزگاری، لوٹ کھسوٹ، رشوت ستانی، لاقانونیت اور اداروں کو یرغمال بنانے کی سزا۔
مردم شماری کی طرف اگر واپس آیا جائے تو یہ ڈیوٹی ہمارے اساتذہ اکرام تہہ دل سے انجام دے رہے ہیں جنکے پاس کوئی سیکیورٹی کا مناسب انتظام ہے نا ہی conveyance کے ذرائع۔ وہ "اپنی مدد آپ کے تحت” کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے یہ مشکل ٹاسک مکمل کررہے ہیں ، نا انصافی کی حد یہ ہے کہ مردم شماری کیلئے گاں اور دیہات کے علاوہ شہروں کو جس طرح غیر منصفانہ بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اسطرح ایک ٹیچر کو دو دو بلاکس دیئے گئے ہیں اور ایک بلاک کم از کم چار چار سو گھروں پر مشتمل ہے ان گھروں کو ڈیجیٹل طریقے سے بغیر کسی اسٹنٹ کے ایک ماہ میں مکمل کرنا نہایت مشکل امر ہے۔ایک ماہ کی مردم شماری یکم مارچ سے چار اپریل تک مکمل کرنا ناممکن ہے_ اس چار تاریخ کو اگر مردم شماری سگر مکمل ہو بھی جائے تو اسکا نتیجہ تیس اپریل کو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس جاری کرے گا جو کہ الیکشن کی تاریخ دی گئی تھی۔
دوسرے چکر میں حکومت الیکشن سے بغاوت اس طرح بھی کر سکتی کہ تیس کو جب مردم شماری کا نتیجہ آئے گا تو اسکے بعد وہ حلقہ بندیاں کریں گے جسکے لئے مزید ایک مہینہ درکار ہوگا۔اسکے علاوہ ایک بڑا نقصان یہ بھی ہورہا ہے کہ ہمارے اساتذہ اکرام نے جہاں پورا سال بچوں پر محنت کی ہے اور عین امتحانات کے اوقات پر مردم شماری کا ڈرامہ شروع کردیا گیا ہے جبکہ آج سے قبل اتنی کم مدت میں دوسری مردم شماری کی مثال پاکستان میں نہیں ملتی، کیونکہ کم از کم مدت دس سال تھی اور پچھلی دو مردم شماریاں تو سترہ اور انیس سال کے وقفے پر محیط تھیں۔
خیر ایسی بات کو حرفِ آخر بھی نہیں مانا جاسکتا، کچھ ممالک میں تین سال بعد بھی مردم شماری ہوتی ہے مگر وہ ممالک دنیا کے خوشحال ترین ممالک ہیں جو مستقبل کا تعین بروقت کرتے ہیں۔لیکن یہاں تو معاملہ کچھ اور ہے حکومت منہ چھپارہی ہے، حکومت مردم شماری جیسے ہتھیار کا استعمال کرکے الیکشن سے راہِ فرار چاہتی ہے،کیونکہ حکومت صوبائی نگران ہو یا وفاقی مستقل ، انکو اور انکے سہولت کاروں کو عمران خان کی حد سے زیادہ مقبولیت میں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں یہ الیکشن ہمارے کفن میں آخری کیل نا ثابت ہو۔اسکے علاوہ اساتذہ اکرام کو دو دفعہ ٹریننگز دی گئی ہیں پہلے سافٹ ویئرز میں کئی خرابیاں تھیں جسکی دو دن ٹریننگ دی گئی ہے اور اسکو اپڈیٹ کرکے پانچ دن کی ٹریننگز کے بعد تین دن کا ٹی اے ڈی اے دیا جائے گا۔
اگر conveyance کی بات کی جائے تو ہر سپروائزر کو چھ ہزار روپے روزانہ کی بنیاد ہر الانس دیا گیا تھا کہ اپنی ٹیم کیلئے گاڑی کا بندو بست کرے وہ بھی اے سی آفس سے آگے غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے اساتذہ اپنے بائیکس خود مینج کررہے ہیں۔اور ایک بری چیز یہ ہے لوگ اساتذہ کو اپنا ڈیٹا دینے سے انکاری ہیں ایک استاد تین تین مرتبہ اپنا کام مکمل کرنے کیلئے کئی گھروں میں گیا ہے اسکی بڑی وجہ سیکورٹی کا نا ہونا ہے۔کچھ غربت اور مہنگائی کے مارے ہوئے لوگ تو اساتذہ کو اپنا مسیخا سمجھ کر آٹے والی لسٹ میں نام ڈالنے کی شرط پر ڈیٹا مہیا کررہے ہیںہمارے اساتذہ بھی کتنے معصوم ہیں ابھی وہ محکمہ شماریات کیلئے کام کررہے ہیں اور جوابدہ وہ محکمہ ایجوکیشن کو ہیں۔ جب میٹرک اور نویں جماعت کے نتیجے آئیں گے تو اساتذہ کی انکوائریاں لگیں گی۔اللہ کریم ہدایت دے ہمارے سیاستدانوں کو جو اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک کے قومی مفاد قربان کیئے جارہے ہیں۔