ملکی مفاد میں مائنس ون ہونے کو تیار ہوں، عمران خان

مجھے مائنس کرنے والے بتائیں ایسا کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہو گا
منصوبہ بنا کر ہماری جماعت کو ختم کرنے کی سازش کی گئی، چیئرمین تحریک انصاف

لاہور :چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملکی مفاد کی خاطر مائنس ہونے کو تیار ہیں لیکن مجھے مائنس کرنے والے بتائیں ایسا کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہو گا۔ ملک کو بچانے کا واحد حل الیکشن ہیں، حکمراں اتحاد پی ڈی ایم والے نہیں چاہتے کہ اقتدار میں دوبارہ آئوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کارکنوں سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں کہا کہ عمران خان کو مائنس کردیں تو اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے اگر فائدہ بتائیں میں مائنس ون ہونے کو تیار ہوں۔ ایک پارٹی کو ختم کرنے کے لیے ملک کو تباہ کررہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے، کیا اکتوبر میں ہماری معیشت بہتر ہوجائیگی، عدالت کے کہنے پر ہم نے مذاکرات کیے۔ حکومت کہتی ہے ستمبر میں الیکشن ہوں گے، ان سے کیا مذاکرات کریں یہ مذاکرات چاہتے ہی نہیں ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ پلان کرکے تحریک انصاف کو ختم کرنے کی سازش کی گئی، ستائیس سال جو پارٹی انتشار کیخلاف رہی اور جس جماعت کے جلسوں اور احتجاج میں فیملیز اور بچے آئیں وہ کبھی انتشار کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی۔انھوں نے کہا کہ کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، جمہوریت میں اپنی عوام پر گولی نہیں چلائی جاتی، آئین ہمیں پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے، مظاہرہ کرنا ہمارا حق ہے، جلائو گھیرائو میں کوئی کارکن ملوث ہے تو ہمیں بتائیں، ہم ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ واضح کردوں کوئی پی ٹی آئی کا کارکن جلائو گھیرائو کررہا ہے قانون توڑ رہا ہے گاڑیاں توڑ رہا ہے اگر اس کی تصویر آتی ہے تو ہمیں بتائیں ہم اسے کہیں گے کہ جا کر اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کرو، ہم کہیں گے انھیں جیلوں میں ڈالو، سزائیں دو۔ لیکن یہ تو ہوتا ہی نہیں ہے کہ یکطرفہ ایک پوری مہم چل رہی ہے۔
9 مئی کے جلائو گھیرائوکے واقعات کی مذمت کرنے کے حوالے سے سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جب پوچھا تو میں نے کہا کہ سخت مذمت کرتا ہوں۔حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی سازش ہورہی ہے، پی ڈی ایم کو پتہ ہے کہ الیکشن میں ہمیں نہیں ہراسکتے، اس لئے انہوں نے ہمیں کالعدم کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ میں باہر کیوں جائوں گا، میری کون سی باہر کوئی پراپرٹی ہے، میں تو اپنا سب کچھ باہر سے بیچ کر پاکستان لایا ہوں، یہ ملک میرا گھر ہے، میں کبھی بھی نواز شریف اور زرداری کی طرح دم دبا کر باہر نہیں بھاگوں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ پاکستان کو چھوڑ کر جارہے ہیں، لوگوں کی امیدیں ختم ہوگئیں ہیں، پی ڈی ایم کے رہنمائوں کے پیسے باہر پڑے ہیں، ملک تباہی کی طرف جارہا ہے، ملک کو بچانے کا واحد حل الیکشن ہیں، ملک میں انصاف نہیں ہے، ایک سال سے ملک میں افراتفری ہے، یہ نہیں چاہتے کہ میں اقتدار میں دربارہ آوں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے اندر کوئی قانون کام نہیں کررہا ہے۔ ہمیں صرف امید عدلیہ سے ہے اور عدلیہ کے اوپر اتنا دبا ڈالا ہوا ہے ، ججز کے اوپر جو دبا ڈالا ہوا ہے انھوں نے کہ کسی طرح ہمیں ریلیف نہ ملے۔
عمران خان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے اوپر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ امجد علی خان نے کہا کہ کچھ لوگوں کے پاس کوئی چیز تھی جس سے ایلومینیم میں آگ لگائی گئی، میں پوچھتا ہوں شوکت یوسفزئی جب لوگوں کو روک رہے تھے تو وہ کون تھے جنہوں نے ان کے کپڑے پھاڑے، ہم چاہتے ہیں ان واقعات کی شفاف تحقیق ہونی چاہئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی گرفتاری کی بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ رینجرز نے لوگوں اور وکیلوں کو مارا، بائیو میٹرک کے لیے بیٹھے عملے کو بھی نشانہ بنایا، مشینیں توڑ دیں۔
اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں جب پی ٹی آئی ختم ہو تب الیکشن میں آئیں، کیا اکتوبر میں ہماری معیشت بہتر ہوجائے گی؟ مہنگائی ختم ہوجائے گی، اکتوبر میں الیکشن سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے ؟
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کو دلدل سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے صاف اور شفاف انتخابات، ایک پارٹی کو ختم کرنے کیلئے ملک کو تباہ کررہے ہیں، انھوں نے ادارے کرش کردیے، عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے، گھروں پر دھاوا بولا جارہا ہے، پولیس گھروں میں گھس جاتی ہے، 9 لاکھ پروفیشنلز ملک چھوڑ کر چلے گئے، کینسر اسپتال کے 5 فیصد کنسلٹنٹس چھوڑ گئے، 5 فیصد مزید چھوڑنے کو تیارہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ملک نیچے جائے گا تو فائدہ صرف ان کو ہوگا جن کی دولت باہر ہے، ملک نیچے جانے سے پی ڈی ایم کو فرق نہیں پڑنا، ملک نیچے جائے گا تو نقصان ان کا ہوگا جنہوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔
خطاب کے دوران لائٹ جانے پر عمران خان نے نازیبا لفظ بھی ادا کیا تاہم لائٹ آنے کے بعد انہوں نے تقریر دوبارہ شروع کردی۔