21 ویں صدی میں انقلاب کے ذریعے اقتدار کے خواہشمندکی سب تدبیریں الٹی پڑ گئیں
بالآخر انہوں نے فیصلہ کیاکہ جو بچا ہے اسے لٹانے کی بجائے بچا ہی لیا جائے تو بہتر ہے
ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ملک و قوم کا وسیع تر مفاد ترپ کا وہ آخری پتہ ہے جو اس وقت پھینکا جاتا ہے جب تمام راستے بند ہو جاتے ہیں
امریکی رکن پارلیمنٹ کو درخواستوں سے لگتا ہے کہ مستقبل میں حقیقی آزادی کی جنگ اپنے کارکنوں کی بجائے امریکی سپاہ کی مدد سے لڑی جائے گی
ریاست مدینہ کا ماڈل ناکا م ہو چکا ان کے چاہنے والے اب انہیں مستقبل کا نیلسن منڈیلا اور امام خمینی قراردے رہے ہیں
بعض لوگ ان کی اس بدلی ٹون کو شوکت خانم میں چار گھنٹے کے طویل علاج سے ہونے والا افاقہ بھی قرارد ے رہے ہیں

اسلام آباد(تجزیہ :محمدرضوان ملک) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے تازہ خطاب سے لگتا ہے کہ بالآخر انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ عمران خان نے کارکنوں سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ عمران خان کو مائنس کردیں تو اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے اگر فائدہ بتائیں میں مائنس ون ہونے کو تیار ہوں۔ ایک پارٹی کو ختم کرنے کے لیے ملک کو تباہ کررہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے۔
9 مئی سے قبل عمران خان کے بیانات اور روہیے سے لگتا تھا کہ وہ 21 ویں صدی میں انقلاب کے ذریعے اقتدار کے خواہشمندہیں اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن 9 مئی کو ان کی گرفتاری کے بعد پے درپے ایسے واقعات ہوئے کہ ان کی سب تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ عقلمندی اسی میں ہے کہ جو بچا ہے اسے لٹانے کی بجائے بچا ہی لیا جائے۔
اسٹیبلشمنٹ کے بعد عمران کو عدالتوں سے بھی وہ حاصل نہ ہو سکا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ 14 مئی کو عدالتی حکم پر الیکشن نہ ہونے کے بعد 15 مئی کو عمران اور پی ٹی آئی کسی معجزے کے منتظر تھے لیکن امید بھر نہ آئی۔ چیف جسٹس کو جو خوشی عمران کو دیکھ کر ہوئی تھی وہ انہیں بھی راس نہ آئی ان کی یہ خوشی کسی کو ایک آنکھ نہ بھائی اور وہ شدید تنقید کی زد میں آگئے۔ اوپر سے مولانا کا دھرنا اور سب سے بڑھ کر آرمی ایکٹ کے ذریعے مقدمات چلانے کے اعلان نے چیف جسٹس اور عمران خان کی رہی سہی آس بھی توڑ دی ۔
مزید ستم ظریفی یہ ہوئی کہ لاہور ہائیکورٹ نے(پیرنی) مرشد کو بھی طلب کر لیااس وقت حقیقی معنوں میں مرید کو یہ احساس ہوا کہ اگر مرشد کی یہ حالت ہو رہی ہے تو مرید کس کھاتے میں ہیں۔ اور غالبا یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے فیصلہ کیا ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ملک چھوڑ دیا جائے۔
ماضی گواہ ہے کہ جب ہمارے اربات اقتدار و اختیار کو ہر دروازہ بند ملے تو پھر انہیں ملک وقوم کا وسیع تر مفاد یاد آتاہے ۔یہ وہ ترپ کا آخری پتہ ہے جو اس وقت کھیلا جاتا ہے جب تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔
اس بات کا غالبا امکان ہے کہ اگر باقی حالات بدستور رہے تو عمران خان ملک کے وسیع تر مفاد میں ملک چھوڑ جائیں گے ۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب وہ اپنے میڈیا کے ان دوستوں سے کنارہ کش رہیں گے جوا نہیں ہمیشہ لڑ بھڑ جانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
ریاست مدینہ کا ماڈل ناکا م ہو چکا ہے اب اس کا اعتراف انہیں ساتویں آسمان پر چڑھانے والوں نے بھی کر لیا ہے اور وہ انہیں مستقبل میں والی ریاست مدینہ قراردینے کی بجائے نیلسن منڈیلا اور امام خمینی قراردے رہے ہیں۔
آج ہی ایک معروف اینکر ایک سوال کے جواب میں فرما رہے تھے کہ انہیں کامل یقین ہے کہ عمران کبھی ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور نہ ہی انہیں جیل میں ڈالا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر عمران کو جیل میں ڈالا گیا تو وہ نیلسن منڈیلا بن کر نکلیں گے اور اگر انہیں بیرون ملک بھیجا گیا تو امام خمینی بن کر واپس آئیں گے اور قہر بن کر اپنے مخالفین پر ٹوٹ پڑیں گے ۔لیکن شاہد وہ یہ بھول گئے ہیں کہ جس عمر میں عمران خان ہے عمر کے اس حصے میں پہنچنے کے بعد بڑا ہو کے کچھ بھی بننے کی چوائس ختم ہو جاتی ہے۔
ان کا یہ بیان سامنے آنے سے پہلے ایک رات اچانک ان کی طبیعت بھی خراب ہو گئی اور وہ رات ساڑھے بارہ بجے معدے میں خرابی کے باعث علاج کے لئے اپنے پسندیدہ ہسپتال شوکت خانم بھی تشریف لے گئے ۔بعض ذمہ دار لوگ اس بدلی ٹون کو شوکت خانم ہسپتال میں علاج کا نتیجہ بھی قراردے رہے ہیں۔باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وہاں انہوں نے معدے کے علاج کے ساتھ ساتھ کچھ اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔بہرحال لگتا ہے کہ ایک ہی بار کے علاج سے انہیں کافی افاقہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔


