شیریں مزاری اور فیاض الحسن چوہان کا پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

شیری مزاری نے صرف پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا لیکن چوہان نے پارٹی اور قائد کا کچا چھٹا بھی کھول دیا

اسلام آباد:تحریک انصاف کی سینئر رہنماء سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سیاست سے کنارہ کشی کرلی، جب کہ سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے نہ صرف پارٹی چھوڑی بلکہ پارٹی اور قائد کا کچا چھٹا بھی کھول دیا۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑ رہے سیاست چھوڑ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سیئنر رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے، مجھے اور میری بیٹی کو اس حوالے سے شدید رنج ہے، ہمیشہ سے ہر طرح کے تشدد کی مذمت کی ہے، بالخصوص ریاست کی علامت پر حملوں کی جیسا کہ جی ایچ کیو، پارلمنٹ یا سپریم کورٹ، ہم سب کو اس کی بہت زیادہ مذمت کرنی چاہیے۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ میری گرفتاری کے دنوں میں میری صحت خراب رہی، اس دن کے بعد میری بیٹی ایمان کو میری وجہ سے آزمائش سے گزرنا پڑا، اپنی بیٹی کی روتے ہوئی ویڈیوز اڈیالہ جیل میں بھی دیکھیں۔
شیریں مزاری نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا، اور میں بھی سیاست میں مصروف تھی، جس وجہ سے میری بیٹی کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا، میں اپنے بچوں کا واحد سہارا ہوں، اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ میں سیاست ہی چھوڑ دوں گی اور اپنا وقت اپنے گھر پر دوں گی۔
سابق پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے، میں کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہوں گی، میں اپنے بچوں اور والدہ پر زیادہ توجہ دوں گی۔
شیریں مزاری کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کے زمیندار گھرانے سے ہے، ان کے والد سردار عاشق مزاری ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک تھے۔شیریں مزاری نے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں کولمبیا یونیورسٹی سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ایک رپورٹ کے مطابق شیریں مزاری نے قائد اعظم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور یونیورسٹی کے اسٹریٹجک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ بنیں۔ 2002 میں وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سربراہ بنیں اور 2008 میں انہیں برطرف کیے جانے تک اس عہدے پر فائز رہیں۔
شیریں مزاری 2009 میں دی نیشن کی ایڈیٹر بنیں، اور وہ وقت نیوز پر ایک ہفتہ وار ٹیلی ویژن شو کی میزبانی بھی کرتی رہی ہیں۔
شیریں مزاری نے 2008 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور اگلے ہی سال انہیں سیکرٹری اطلاعات اور پارٹی کا ترجمان مقرر کیا گیا۔ وہ 2013 اور 2018 میں قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔ 2018 میں عمران خان نے انہیں اپنی کابینہ میں انسانی حقوق کا وزیر مقرر کیا تھا اور 2022 ء میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوگئی اور بعد ازاں وہ پارٹی قائد کے حکم پر اسمبلی سے مستعفیٰ ہوگئیں۔
شیریں مزاری کے شوہر ڈاکٹر تابش اعتزاز کا پانچ ماہ قبل انتقال ہو گیا تھا، ان کی ایک بیٹی ایمان زینب مزاری حذیر اور ایک بیٹا سبیل حذیر ہے۔
ماں کی گرفتاری کے بعد ایمان مزاری کافی پریشان تھیںاور پارٹی اور عمران خان کے روئیے سے نالاں تھیں۔
گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو اپنی اور اپنی بیوی کی پڑی ہے، انہیں پارٹی کے دیگر رہنماں کی کوئی فکر نہیں۔ایمان مزاری نے کہا کہ افسوس ہوا، میری والدہ ہمیشہ پی ٹی آئی کا دفاع کرنے اور عمران خان کا ساتھ دینے کے لئے آگے آگے رہیں جس پر میرا ان سے اختلاف تھا، لیکن عمران خان نے میری والدہ کی گرفتاری کے پانچ سے چھ دن بعد جا کر کوئی بیان دیا اور ان کا نام لیتے ہوئے کہا شیریں مزاری کے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔
شیری مزاری کے پارٹی چھوڑنے کے کچھ دیر بعد
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فیاض الحسن چوہان نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو خیرباد کہہ رہا ہوں لیکن سیاست کرتا رہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے پارٹی میں کھڈے لائن تھا، میں بہت قربانیں دیں لیکن مجھے پارٹی رہنما فوج کا بندہ سمجھتے تھے، میری زمان پارک میں اینٹری بھی بند تھی۔
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ 8 دن سے جیل میں تھا، میں نے فیملی سے پوچھا کہ عمران خان نے گرفتاری کی مذمت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ پارٹی چیئرمین نے تمام رہنماں کی گرفتاری کی مذمت کردی لیکن مجھے بھول گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 9 مئی کے واقعات کے عمران خان برائہ راست ذمہ دار ہیں اور بعد کی میٹنگز میں بھی انہوں نے کہا کہ کسی نے اس کی مذمت نہیں کرنی بلکہ ڈٹے رہنا ہے اور گھبرانا نہیں ہے۔