پاک پنجاب کوآپریٹو سوسائٹی کے بلڈرز کی درخواست قبل از گرفتاری پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی عدالت نے سپریم کورٹ نے وفاقی سیکرٹری قانون کو چھ نومبر کو طلب کر تے ہو ئے ہدایت کی ہے کہ آگاہ کیا جائے احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کیوں نہیں کی گئی؟
اور کتنی احتساب عدالتیں غیر فعال ہیں اور کب تک فعال ہونگی؟ کیس کی سماعت کے دوران نیب پراسیکوٹر نے موقف اپنایا کہ ملزمان نے پلی بار گین کی درخواست دے رکھی ہے، چیئرمین نیب نے پلی بارگین کی درخواست منظور کر بھی لی،تاہم متعلقہ احتساب عدالت سے پلی بارگین کی منظور لینا باقی ہے احتساب عدالت میں جج کی عدم دستیابی کے باعث منظوری نہیں ہو رہی جس پر جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ جج تعینات نہ ہونے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
جسٹس فیصل عرب نے کہا چند دن قبل اخبارات میں ججز کی آسامیاں پر کرنے کی خبر آئی تھی، ملزمان کے وکیل رشید اے رضوی نے موقف اپنایا کہ ایک ماہ سے زیادہ کوئی احتساب عدالت غیر فعال نہیں رہ سکتی احتساب عدالت کو ایک ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، تین تین ماہ سے احتساب عدالتوں میں ججز تعینات نہیں ہوتے۔ عدالت نے سیکریٹری قانون کو طلب کرتے ہوے سماعت ملتوی کردی۔



