پی ٹی آئی چھوڑنے والوں میں کہیں عمران بھی شامل نہ ہوجائیں ؟

ویسے جی کا جانا تو ٹھہر گیا ہے اہم سوال یہ ہے کہ پہلے مرشد تائب ہوہوگا یا مرید؟
پہلے سوال یہ تھا کہ کون کون پارٹی چھوڑ رہا ہے اب حالت یہ ہے کہ کو ن کون پارٹی میں رہ گیا ہے
کسی زمانے میں پی ٹی آئی میںآمد کے جھکڑ چلتے تھے اب پارٹی چھوڑنے کی آندھیا چل رہی ہیں
صورت حال یہی رہی تو عمران کو مستقبل میں پارٹی ٹکٹ دینے کے لئے کھمبے ہی میسر
ہوں گے
ماضی قریب میں ڈاکوئوں سے ہاتھ ملانے والے عمران اب چوروں سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں تو انہیں تھوڑی سپیس ملنی چاہیے
جس طرح ماضی میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے دودھ کے دھلے ہو جاتے تھے اب جانے والے دودھ کے دھلے ہو رہے ہیں
مال اور کھال بچانے کیلئے پارٹیاں بدلنے والے مفاد پرستوں کو سپیس دینے کا سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے
عروج و زوال ایک فطری عمل ہے لیکن پاکستان میں یہ سول اداروں اور شخصیات تک محدود کیوں ہے

اسلام آباد(تجزیہ :محمدرضوان ملک) پاکستان تحریک انصاف کی جس تیزی سے اٹھان ہوئی تھی اس سے کئی تیزی سے اپنے انجا م کی جانب گامزن ہے ۔چند سال پہلے ہر روز کوئی نہ کوئی پی ٹی آئی میں شامل ہوتا تھا لیکن اب تو روزانہ کئی لوگ پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں۔پہلے سوال یہ تھا کہ کون کون پارٹی چھوڑ رہا ہے اب حالت یہ ہے کہ کو ن کون پارٹی میں رہ گیا ہے بلکہ معاملات اس سے بھی آگے چلے گئے ہیں اور یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کس نے اب تک پارٹی نہیں چھوڑی اور کیوں نہیں چھوڑی ۔اب تو قارئین کے لئے بڑی خبر یہ ہوگی کہ عمران کب پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں۔
چند دن پہلے تک جس پارٹی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ عمران خان اگر کھمبے کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہ جیت جائے گا۔اب لگتا ہے انہیں ایسا ہی کرنا پڑے گا کیونکہ بندہ تو کوئی ملے گا نہیں۔
کسی زمانے میں پی ٹی آئی میںآمد کے جھکڑ چلتے تھے اب پارٹی چھوڑنے کی آندھیا چل رہی ہیںجو کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ پارٹی چھوڑنے والوں میں بیشتر وہ لوگ ہیں جن کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں ان کا ایک نظریہ تھا کہ مال بھی بچائو اور کھال بھی ۔یہ مفا د پرستوں کا وہ ٹولہ ہے کہ جو 75 سالوں سے میٹھا میٹھا ہپ اور کڑواکڑوا تھو کی سیاست کر رہا ہے ۔سابقہ حکومتوں میں یہی لوگ کرپشن کرتے رہے اور جب جماعت پر مشکل وقت آیا تو انہوں نے مال اور کھال بچانے کو ترجیح دی اور پارٹی چھوڑ گئے ۔
بدقسمتی سے پاکستان میں مختلف اداروں کی جانب سے مفاد پرستوں کو پالنے کا سلسلہ کافی دراز ہوگیا ہے جس کو اب بند ہو نا چاہیے۔ ماضی میں جو پی ٹی آئی میں شامل ہو جاتا وہ دودھ کا دھلا ہو جاتا اور آج جو پی ٹی آئی چھوڑ دے وہ دودھ کا دھلا ہے ۔یہ سلسلہ اب بند ہو جاناچاہیے۔بدقسمتی سے ڈاکوئوںکے سردار کو پکڑ لیتے ہیں اور اس کے ساتھیوں کو معافی مل جاتی ہے کہ وہ نیا سردار چن لیں۔
اب تو عمران چیخ چیخ کر کہ رہے ہیں کہ وہ چوروں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں انہیں تھوڑی سپیس ملنی چاہیے امید ہے کہ وہ اب مایوس نہیں کریں گے ماضی قریب میں ڈاکوئوں سے ہاتھ ملا چکے ہیں۔ پی ٹی آئی اور عمران کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بلندی سے پستی کی جانب لڑھکتے ہوئے ہاتھ پائوں مار رہا ہو۔ ایسے میں مذاکرات کر کے انہیں سپیس دی جانی چاہیے صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آنا چاہے تو اسے سپیس ملنی چاہیے۔
اہم سوال یہ ہے کہ عروج و زوال ایک فطری عمل ہے لیکن پاکستان میں یہ سول اداروں اور شخصیات تک محدود کیوں ہے ۔