چین اور جنوبی ایشائی ممالک کو ملانے کا منصوبہ ہے، پاکستان خطے کی تین ارب آبادی کا مرکز بن سکتا ہے
1947 سے 1990 کے دوران اندرونی اور بیرونی دھچکوں کے باوجود تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا،عشرت
جب تک سیاسی جماعتوں کو پانچ سال نہیں دیئے جائیں گے وہ مشکل اور غیر مقبول فیصلے نہیں کرسکیں گے،لیڈز ان اسلام آباد بزنس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد(کامرس رپورٹر )وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم تمام پاکستانیوں کو آگے لا کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کا موقع دیں،چین کا بیلٹ اینڈ روڈ اور پاکستان کے وژن 2025کو ملا کر چین اور جنوبی ایشائی ممالک کو ملانے کا منصوبہ ہے، پاکستان خطے کی تین ارب آبادی کا مرکز بن سکتا تھا،سی پیک میں 3سال کے اندر 29ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا ہم ملائشیا گئے وژن 2020 کا جائزہ لینے گئے تو پتہ چلا کہ انہوں نے پاکستان سے سیکھا ہے،جب بھی پاکستان کی اشرافیہ کے پاس گئے تو وہ کہتے تھے کہ ملک گیا آج گیا یا کل گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے سب سے بڑا گیم چینجر پاکستان چین اقتصادی راہدری منصوبہ سامنے آیا ۔چینی صدر شی نے اپنی 100 کمپنیوں کو ہدایت کی کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں،ہم نے 75 سال میں اس لئے مار کھائی کہ ہمارے پاس ایکسپورٹ سیکٹر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیاں جو ڈالر کماتی ہیں انہیں سپورٹ کیا جانا چاہیئے،واٹر سکیورٹی اور فوڈ سکیورٹی پر کام جاری ہے،تاکہ ہم سمارٹ ایگریکلچر کی طرف جائیں،2035 پر ہم ایک رپورٹ جاری کر رہے ہیں ۔
سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے گورننس کے اداروں کی تباہی کی وجہ سے ملک پیچھے چلا گیا، پاکستان 1947 سے 1990 کے دوران اندرونی اور بیرونی دھچکوں کے باوجود تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا۔ پاکستان کی شرح نمو اس عرصہ میں 6 سے 6.5 فیصد کے درمیان رہی بھارت جو ہم سے آٹھ گنا بڑا ملک ہے اس نے 3سے 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کی1990 سے 2015 کے درمیان پاکستان جنوبی ایشیا میں بیمار ملک بن گیا، سال 2000 میں بھارت ہم سے آگے نکل گیا اور بنگلہ دیش 2015 میں ہم سے آگے نکل گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا بہت سے میں مسائل پر اتفاق رائے ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں کو پانچ سال نہیں دیئے جائیں گے تو وہ مشکل اور غیر مقبول فیصلے نہیں کرسکیں گے، پاکستان میں مقامی حکومتوں سے عوام مطمن تھے۔ بیوروکریسی میں آنے والے افراد کا معیار وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوا ہے۔
پاکستان بینک ایسوسی ایشن اور پاکستان بزنس کونسل کے سربراہ محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا اگر بینک حکومت کو قرضہ دینا بند کردیں تو حکومت تنخواہ تک نہ دے سکے۔ بینکاری صنعت کو زراعت اور ایس ایم ای پر توجہ دینا ہوگی۔
سی ای او اینگرو پاکستان غیاث خان نے کہا پالیسی کا فقدان ہے ، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رہتا ہے۔
عامر ابراہیم صدر موبی لنک نے کہا پاکستان میں موبائل سیٹ کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، انہیں کم کرنا ہو گاانٹرنیٹ موبائل کا استعمال لگژری نہیں ضرورت بن چکی ہے،بزنس کانفرنس سے دیگر افراد نے بھی خطاب کیا


