سیکٹر G14 ہائوسنگ فائونڈیشن 2005 ء کا ریٹ دینے پر بضد، متاثرین کا انکار مسلح تصادم روز کا معمول بن گیا

ارباب اختیار نے توجہ نہ دی تو مسئلہ کسی بھی وقت مالی نقصان سے بڑھ کر بڑے جانی نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے
زبردستی کے آپریشن میں سامان سمیت کئی لوگوں کے گھر گرادئیے گئے ،غریب خواتین او ر بچے جھولیاں اٹھائے بددعائیں دیتے رہے
بچوں اور خواتین کی آہ و بکاہ اور فریاد بھی ظالموں کے دل موم نہ کر سکی،اشیائے ضروریہ اور خوردونوش مٹی میں مل گئیں
ڈنڈوں مکوں اور لاتوں کا آزادانہ استعمال،گولی بھی چلی لیکن جانی نقصان نہ ہوا، کئی ایک کے خلاف مقدمات درج
پولیس کی جانب سے معصوم بچوں اورخواتین پر آنسو گیس کی بھاری شیلنگ ،قیامت صغریٰ کا منظر ، زمین پھٹی نہ آسمان گرا ۔سب کچھ ملیا میٹ

اسلام آباد:ہائوسنگ فائونڈیشن نے اسلام آباد کا سیکٹر جی چودھ 2005 ء میں ایکوائر کیاتھا اس وقت زمین کا معاوضہ تو ادا کر دیا گیا لیکن مکانوں (بلڈ اپ پراپرٹی ) کا معاوضہ ادا نہ کیا گیا۔ اب 20 سال بعد فائونڈیشن کو قبضہ لینے کا خیال آیا ہے اور بلڈ اپ پراپرٹی کا معاوضہ موجودہ ریٹ پر دینے کی بجائے 2005 ء کے ایوارڈ کے مطابق دینے پر بضد ہے۔ جبکہ متاثرین 1400 روپے سکئیر فٹ پکے مکانوں کا معاوضہ لینے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے آئے روز ہائوسنگ اتھارٹی انتظامیہ اور متاثرین کے درمیان مسلح تصادم روز کا معمول بن چکا ہے۔
گزشتہ روز بھی ہائوسنگ فائونڈیشن کے اہلکارہیوی مشینری اورپولیس کے ساتھ آئے اور لوگوں کے گھر گرانے شروع کر دئیے۔ جس پر متاثرین اور اہلکاروں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں ڈنڈوں ، مکوں اور لاتوں کا آزادانہ استعال ہو جس سے دونوں اطراف کے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ تاہم متاثرین نے پتھرائو کر کے فائونڈیشن اہلکاروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اس دوران متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے جی ٹی روڈ بلاک کردی ۔ جب متاثرین جی ٹی روڈ بلاک کئے بیٹھے تھے تو فائونڈیشن کے اہلکاروں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے مزید نفری کے ساتھ متاثرین کے گھروں پر دھاوا بول دیا ۔ بیشتر گھروں میں اس وقت بچے اور خواتین ہی موجود تھے جو اس اچانک افتاد کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہ تھے بمشکل بھاگ کر جانیں ہی بچا سکے ۔آپریشن کے دوران اشیائے خوردنوش اور اشیائے ضروریہ مٹی میں مل گئیں ۔بچے اور خواتین آہ وبکاہ کرتے رہے لیکن ظالموں کے دل سیاہ ہو چکے تھے۔بزرگ خواتین اور بچے جھولیاں اٹھا اٹھا کر اہلکاروں کو بدعائیں دیتے رہے لیکن کسی کو رحم نہ آیا۔

لوگ ملبے سے اپنی چی کچھی اشیا تلاش کر رہے ہیں


آپریشن کے دوران پولیس کی جانب سے معصوم بچوں اورخواتین پر آنسو گیس کی بھاری شیلنگ بھی کی گئی ۔علاقہ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ زمین پھٹی نہ آسمان گرا ، لوگوں کی آہ و بکاہ اور فریاد بھی کسی کام نہ آسکی۔ احتجاج کرنے والے جب اپنے گھروں کو واپس آئے تو سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا تھا۔
رات دیر گئے تک مصیبت کے مارے بچے اور خواتین ملبے سے اپنی بچ جانے والی اشیاء تلاش کر تے اور فائونڈیشن اہلکاروں کو بدعائیں دیتے رہے۔