چین کی جانب سے دوستی کرائے جانے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں

ریاض : چین کی جانب سے ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرائے جانے اور سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد دونوں ممالک تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں۔حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب مشرکہ مفادات اور باہمی احترام پر مبنی سعودی، ایران تعلقات کے نئے دور کا منتظر ہے۔ کابینہ کا یہ تبصرہ مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے پہلے دورہ سعودی عرب کے بعد سامنے آیا ہے۔خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت جدہ کے قصر السلام میں منعقد ہوا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے سفرا اپنے فرائض انجام دیے رہے ہیں۔کابینہ کو سعودی ولی عہد اور برطانوی وزیراعظم کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ دونوں رہنماں نے مشترکہ تعاون کے پہلووں کا جائزہ لیا۔ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی وزیر اطلاعات و نشریات سلمان الدوسری نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ اجلاس کو دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور جی 20 اسلامی و عرب تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ذریعے کثیر فریقی رابطہ امور سے آگاہ کیا گیا۔ کابینہ نے17 اہم فیصلے کیے۔ وزیر خارجہ کو خلیجی تعاون کونسل ممالک کی ہیلتھ کونسل اور سعودی حکومت کے درمیان ہیڈکوارٹر معاہدے کے مسودے پر دستخط کا اختیار تفویض کیا گیا۔
کابینہ نے وزیر سیاحت کو چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشت، وزیر اقتصاد کو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ اقتصادی شعبے میں مفاہمتی یادداشت، تبوک یونیورسٹی کے سربراہ کو مصر میں شاہ سلمان انٹرنیشنل یونیورسٹی اور تبوک یونیورسٹی کے درمیان ریسرچ اور اکیڈمک امور میں مفاہمتی یادداشت، پبلک پراسیکیوٹر کو عدالتی و قانونی تعاون کے سلسلے میں عمان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتت، سرکاری دستاویزات کے قومی مرکز کے نگران اعلی کو اردن کے ساتھ دستاویزات کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشت، کے لیے مذاکرات کی منظوری دی۔




