کئی گھنٹے علاقہ میدان جنگ بنا رہا ، متاثرین شلینگ کے سامنے ڈٹ گئے انتظامیہ اور ہائوسنگ اتھارٹی کے اہلکار ناکام واپس
ڈپٹی سپیکر کی واضح رولنگ کے باوجود ہائوسنگ اتھارٹی متا ثرین کو موجودہ ریٹس کے مطابق بلٹ اپ پراپرٹی کا معاوضہ دینے سے انکاری

دیہاتیوں پر کی جانے والی شیلنگ کا ایک منظر
اسلام آباد:ہائوسنگ اتھارٹی کی جانب سے متاثرین جی چودہ کو شرمناک حد تک کم معاوضے کے عوض زبردستی گھر گرانے کی کوشش مہنگی پڑی، متاثرین g14 اپنے حقوق کے لئے پولیس کی شیلنگ اور ہائوسنگ اتھارٹی کی مشینوں کے آگے ڈٹ گئے ،علاقہ کئی گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا لیکن متاثرین نے اتھارٹی ملازمین کو اپنے گھروں کے قریب بھی نہ آنے دیا۔ کئی گھنٹوں کی شیلنگ کے بعد اتھارٹی اہلکار ناکام واپس لوٹ گئے ۔
یادر ہے کہ ہائوسنگ اتھارٹی اور متاثرین کے درمیان کئی سالوں سے بلٹ اپ پراپرٹی کے ریٹس پر تنازعہ چل رہا ہے۔ ہائوسنگ اتھارٹی 2004 ء کے ریٹس دے کر متاثرین کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کر دینا چاہتی ہے لیکن متاثرین اس کیلئے راضی نہیں ہیں ۔ہائوسنگ اتھارٹی نے 2004 ء کے مطابق ریٹ نہ لینے والوں کے ساتھ افہام و تفہیم کی پالیسی پر عمل کرنے کی بجائے دہشت گردانہ انداز سے لوگوںسے زبردستی ان کے گھروں کا قبضہ لینا چاہتی ہے ۔اس کے لئے آئے روز ظالمانہ آپریشنز کاسلسلہ جاری ہے اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کی واضح رولنگ بھی موجود ہے کہ کسی بھی شخص کو زبردستی اس کے گھر سے بے دخل نہ کرے اور متاثرین کو موجودہ ریٹس کے مطابق بلڈ اپ پراپرٹی کا معاوضہ دیا جائے ۔ لیکن گزشتہ روز ہائوسنگ اتھارٹی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر زبردستی مکان گرانے کی کوشش کی جسے متاثرین کے اتحاد نے بر ی طرح ناکام بنادیا۔




