صاحب خان نے چند گھنٹوں میں وہ کر دکھایا جو صاحب لوگ کئی گھنٹوں میں نہ کر سکے
صاحب خان کے لئے یہ کام نیا نہیں تھا لیکن لوگوں کو صاحب خان سے زیادہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ تھا

اسلام آباد:کہتے ہیں کہ معرکے جذبوں سے سرانجام پاتے ہیں ،ٹیکنالوجی سے نہیں اگر آپ میں انسانیت سے محبت اور اس کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہے تو قدرت کھل کر آپ کا ساتھ دیتی ہے اور نہ صرف آپ سے دکھی انسانیت کی مدد کا کام لیتی ہے بلکہ آپ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔
ایسا ہی ایک مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب حقیقی ہیروصاحب خان نے چند گھنٹوں میں وہ کر دکھایا جو جدید ٹیکنالوجی کئی گھنٹوں میں نہ کر سکی۔
صاحب خان کو یہ پذیرائی ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کے بعد ملی، جسے جدید ساز وسامان سے لیس انتہائی تربیت یافتہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی مکمل نہ کر سکے۔
ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کی چیئر لفٹ میں آٹھ جانیں زندگی اور موت کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ یہ آٹھ نوجوان ہوا میں ایسے معلق تھے کہ کسی بھی لمحے موت ان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔نیچے بہتا دریا اور آس پاس سہارے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ چیئر لفٹ کی باقی رسیاں کسی بھی وقت کٹ سکتی تھیں اور یہ آٹھ افراد لقمہ اجل بن سکتے تھے۔پانچ سکول طالب علم، ایک ٹیچر اور ایک دکاندار اپنی موت کے منتظر تھے کہ اچانک صاحب خان نامی نوجوان ان کے پاس آ کر کہتا ہے میں آپ سب کو بچانے آیا ہوں۔ مطمئن رہیں اور میری بات غور سے سنیں۔صاحب خان پھنسے ہوئے افراد کو تسلی دیتے ہیں اور ریسکیو کے عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اس سے قبل جب پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر ان آٹھ افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے فضا میں موجود تھے صاحب خان ایک کونے میں بیٹھے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔وہ اپنے ساتھ ریسکیو کا سارا سامان رکھے ہوئے ساتھیوں کے ہمراہ کسی معجزے کے منتظر تھے۔ صاحب خان نے بارہا مقامی لوگوں سے درخواست کی کہ انہیں ایک موقع دیا جائے وہ ان افراد کو ریسکیو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن مقامی لوگوں نے سادہ لباس اور بظاہر غیر پیشہ ورانہ لہجے کی وجہ سے انہیں نظر انداز کیا۔
صاحب خان نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا میرے پاس سارا سامان موجود تھا، میری ٹیم میرے ہمراہ تھی لیکن ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کا عمل جاری تھا تو مقامی لوگوں اور والدین کا ہم پر اعتماد نہیں تھا اس لیے ہمیں اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔مجھے معلوم تھا کہ اندھیرا ہونے والا ہے اور ہیلی کاپٹر کو ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ اس لیے میں اس دوران اپنے ریسکیو آپریشن کی تیاری کرتا گیا۔ میں نے چارپائی نما ریسکیو چیئر لفٹ بنائی اور وہاں بیٹھا رہا۔ اتنے میں ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا اور اندھیرا بھی چھا گیا۔ لیکن لوگ ہم پر بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے۔
صاحب خان نے کہا کہ جب لوگ مایوس ہونے لگے تو انہوں نے ایک بار پھر مقامی لوگوں سے درخواست کی کہ انہیں ایک موقع دے دیا جائے وہ دو گھنٹوں میں تمام افراد کو ریسکیو کر لیں گے۔مغرب کی اذان ہو چکی تھی اور اندھیرا چھا گیا تھا۔ مسلسل اصرار کے بعد ہمیں اجازت ملی، میں نے اپنا ریسکیو چیئر لفٹ کیبل پر باندھ دیا اور چیئر لفٹ میں پھنسے سات افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آگے بڑھتا گیا۔
ہر سو اندھیرا تھا، میں اپنے ریسکیو چیئر لفٹ کو لیے اندھیرے میں آگے بڑھتا گیا۔ میرے ہاتھ اب بھی دکھ رہے ہیں، میری کوشش تھی کہ مجھ سے جتنا جلدی ہو سکے میں ان افراد تک پہنچ جاں۔ صاحب خان نے بتایا کہ یہ ان کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا ریسکیو آپریشن نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی وہ اپنے ساتھیوں کے ہمرا گلگت، شانگلہ، کوہستان، سکردو، بٹگرام اور دیگر علاقوں میں ریسکیو آپریشن سرانجام دے چکے تھے۔
یہ آپریشن ان کے لیے مشکل تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی مقامی لوگوں کا اعتماد بحال کرنا بھی ایک چیلنج تھا۔ مجھے بٹگرام میں اپنا پہلا آپریشن ہر صورت کامیاب بنانا تھا۔ کیونکہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے نہیں ہو رہا تو یہ دو تین بندے معمولی رسی اور چار پائی نما ریسکیو چیئر لفٹ سے کیا کارنامہ انجام دے دیں گے؟
صاحب خان کے بقول انہوں نے اپنا پہلا آپریشن پندرہ منٹوں میں مکمل کیا تھا۔ منگل کو جب صاحب خان موقع پر پہنچے تو چیئر لفٹ میں پھنسے موجود افراد کو یقین نہیں آ رہا تھا۔وہاں موجود لوگوں نے صاحب خان کی ٹیم کو نقد انعام بھی دیا اور انہیں خوب سراہا۔ صاحب کا تعلق ضلع شانگلہ کی تحصیل بشام شنگ سے ہے جسے وہ اپنے باپ دادا کا کسب بھی کہتے ہیں۔
صاحب خان کوکا اینڈ کمپنی کے ملازم ہیں جو تقریبا پچاس سالوں سے ریسکیو کام کر رہی ہے۔ جب میں بچہ تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں جایا کرتا تھا۔ ہماری ٹریننگ اسی طرح ہوئی ہے۔ ہمارا پورا خاندان اس کسب سے منسلک ہے۔ان کے مطابق انہوں نے چند ایسے کامیاب ریسکیو آپریشن بھی کیے ہیں جو دیگر لوگوں کے لیے انجام دینا نا ممکن تھا۔
ایک بار گلگت کے دریا میں بس ڈوب گئی تھی جس میں 21 لوگوں کی لاشیں پھنسی تھیں وہ بھی ہم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ نکالی تھیں۔ صاحب خان کے خیال میں یہ حالیہ آپریشن اس قدر مشکل تھا کہ کسی بھی ایک ٹیم کے لیے اسے اکیلے سرانجام انجام دینا آسان نہ ہوتا۔
صاحب خان اور ان کی ٹیم کے اس کارنامے پر سوشل میڈیا پر انہیں خوب خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے اور لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان حقیقی ہیروز کو ان کے کارنامے کے مطابق ایوارڈ سے نوازا جائے۔




