ایشیاء کپ کے فائنل میں سری لنکا کو عبرتناک اور ریکارڈ ساز شکست،محمد سراج شامی نے اکیلے ہی لنکا ڈھادی

کولمبو: بھارت نے ایشیاء کپ کے فائنل میں سری لنکا کو عبرتنا ک اور ریکارڈ ساز شکست دے دی ہے۔فائنل میچ میں سری لنکا کی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 15 اور میں صرف پچاس رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔ بھارت نے حدف بغیر کیس نقصان کے چھ اور میں حاصل کر لیا ۔ اس طرح یہ میچ صرف اکیس اور تک محدود رہاجو ایک
روزہ میچز کی تاریخ کا مختصر ترین فائنل بھی ہے۔ بھارت نے محض 37 گیندوں پر ہدف حاصل کرکے تیز ترین فائنل جیتا ہے۔
بھارتی ٹیم کی جیت کا سہرا ان کے مسلمان کھلاڑی محمد سراج شامی کے سر رہا انہوںنے اکیلے لنکا ڈھا دی،91 سالہ تاریخ میں ایسا بھارتی بولر نہیں دیکھا گیا جس نے ایک اوور میں 4 وکٹیں لیں۔انہوں نے میچ میں کل چھ کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ محمد شامی نے 7 اوورز میں 21 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، ایک اوور میڈن کرایا اور 34 ڈاٹ بولز کروائیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے 1932 میں کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔ لیکن 91 سال کی تاریخ میں اب تک ہندوستانی کرکٹ میں ایسا کوئی گیند باز نہیں دیکھا گیا جس نے ایک اوور میں 4 وکٹیں لے کر مخالف ٹیم کو تباہ کردیا ہو۔ایشیا کپ کا فائنل بھارت نے 10 وکٹوں سے جیتا۔
محمد سراج کی بدولت بھارتی ٹیم نے سری لنکن بیٹنگ لائن کو تباہ کرکے 50 رنز پر آٹ کیا اور پھر با آسانی بغیر کسی وکٹ کے نقصان پر 51 رنز کا ہدف پورا کرلیا۔آئی لینڈرز کا 51 رنز کا ہدف ٹیم بھارت نے با آسانی حاصل کرلیا۔ ایشان کشن اور شبمن گل نے بھارت کی طرف سے اننگ کا آغاز کیا اور ساتویں اوور کی پہلی گیند پر ٹیم کو 10 وکٹوں سے کامیابی دلوادی۔بھارتی اوپنر ایشان کشن 23 اور شبمن گل 27 رنز بناکر ناٹ آٹ رہے۔
اس طرحایشیا کپ 2023 کا فائنل ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا مختصر ترین فائنل میچ بن گیا جو صرف 21 اعشاریہ 3 اوورز میں ختم ہوا۔
ایشیا کپ کا یہ فائنل بھارت اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا مختصر ترین میچ بھی ثابت ہوا۔یاد رہے کہ 2001 میں زمبابوے اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا میچ صرف 120 بولز میں ہی مکمل ہوگیا تھا۔امریکا اور نیپال کے مابین 2020 میں کھیلا گیا میچ صرف 17 اعشاریہ 2 اوورز میں مکمل ہوا تھا۔


