ترکیہ نے مسلم امہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں اٹھا دیا
روس یوکرین جنگ کا حل بھی مذاکرات میں پوشیدہ ہے ، جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب

نیویارک: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھرپور انداز میں مسلم امہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی کے سامنے اٹھا دیاہے ۔جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلیے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کیلیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرنے کیلیے تیار ہے۔
رجب طیب اردوان نے واضح کیا کہ دنیا میں قیام امن کیلیے نئی حکمت عملی اور ایجنڈے کی ضرورت ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کو اپنے تمام مقاصد کی عکاسی کو بہتر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ روس یوکرین جنگ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے، ترکیہ دنیا میں تنازعات کے خاتمے اور امن کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شام کی صورتحال کی وجہ سے ترکیہ پر پناہ گزینوں کا بوجھ ہے۔




