ببلو عباسی کے قاتلوں اور سہولت کاروں کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو وزیراعظم ہائوس کے سامنے دھرنا دیں گے،کاشف چودھری

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کی صدر کوہسار اتحادپوٹھوہارآصف شفیق ستی ، صدر جی نائن مرکز، کراچی کمپنی راجہ جاوید اقبال ، صدر سپر مارکیٹ شہزاد شبیر عباسی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی راولپنڈی انصر عباس کیانی ، افتخار عباسی ، شکیل عباسی و دیگر تاجر وں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد:مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی سے مطالبہ کیا ہے کہ دس مئی کونوجوان رب نواز عباسی عرف ببلو عباسی کو قتل کرنے والے دو بااثر اور طاقت ور ملزمان جن میں سے ایک کو ملی بھگت سے بیرون ملک فرار کرایا گیا اسے انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے اور اسے فرار کرانے والوں کے خلاف تحقیقات کرائی جائے اور کہا کہ اگر سات دن میں قاتلوں اوراسلام آباد میں موجود ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایف آئی آردرج نہ ہوئی اور بیرون ملک فرار ہونے والے قتل کے ملزم کو انٹر پول سے گرفتار کرکے واپس نہ لایا گیا اوراسے فرار کرنے والے سہولت کاروں کے خلاف انکوائری نہ کی گئی تو شہر اقتدار کے تاجر مشاورت کے ساتھ وزیر اعظم ہاوس کے سامنے احتجاج اور دھرنا دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو نیشنل پریس کلب میں صدر کوہسار اتحادپوٹھوہارآصف شفیق ستی ، صدر جی نائن مرکز، کراچی کمپنی راجہ جاوید اقبال ، صدر سپر مارکیٹ شہزاد شبیر عباسی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی راولپنڈی انصر عباس کیانی ، افتخار عباسی ، شکیل عباسی و دیگر تاجر وں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ آج میں ایک ماں ، ایک بہن اور ایک بیٹی کی فریاد لیکر آیا جو جس کا تعلق خط پوٹھو ہار سے ہے جس کے جوان سال بیٹے رب نواز عباسی عرف ببلو عباسی کو دن دیہاڑے وفاقی دارالحکومت میں کسی جائیدادکے تنازعے پر نہیں ،ناکسی درینہ دشمنی اورنا لین دین اور نا ہی کسی پرانی رنجش کی بنیاد پر بلکہ غنڈہ گرد عناصر نے اسے گولیاں مار کر شہید کر دیا وہ ماں روزانہ سوال کر رہی ہے کہ کہاں ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے؟ ، وہ ماں روزانہ پوچھتی ہے میرے معصوم پھول کو کیوں شہید کیا گیا؟ وہ ماں روزانہ چاہتی ہے کہ میں مٹی کا تیل چھڑک کر اپنے آپ کو آگ لگا دوں وہ ماں سوال کرتی ہے کہ اس کے بیٹے کو قتل کیے جانے پر یہ زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی؟ اس ماں کی طرف سے وفاقی حکومت ، وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے قتل کیس میں نامزد ملزم موجود ہیں ،عینی شاہد موجود ہیں اورجس کیس کو دیکھنے والی سینکڑوں آنکھیں موجود ہیں تو کیوں ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔یہ واقعہ دس مئی کو پیش آیااور اس واقعے کو کتنے ماہ گزر چکے ہیں اور نامزد ملزم جس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جانا چاہئے تھا وہ نہیں ڈالا گیا۔انہںنے کہا کہ آج اس ملک میں سیاسی پسند اور ناپسندکی بنیاد پر ای سی ایل میں نام ڈالے جاتے ہیں لیکن قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم فرار ہو گیا۔ کیوں اس کانام ای سی ایل میں نام نہیں ڈالا گیا ،یہ نا اہلی کس کی ہے؟ ہم ریاست سے سوال کرتے ہیں کیوں قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم کو اس ملک سے باہر جانے دیا گیا؟ یہاں چند لاکھ روپے کے لین دین پر نام ای سی ایل میں ڈالے جاتے ہیں لیکن قاتلوں کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈا لے جاتے ۔انہوںنے کہا کہ ہماری متعلقہ پولیس کے اعلی حکام سے ملاقات ہوئی اور وہ خود بھی حیران تھے کہ اس ملزم کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا گیا اگر پولیس کے اعلی حکام بھی اس سے بے خبر ہوں تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر ایک عام شہری کو انصاف کون فراہم کرے گا؟ اور اس کیس میں نامزد دو ملزم وہ پہلی مرتبہ قتل کے مقدمے میں ملوث نہیں بلکہ وہ تھانہ آبپارہ سے اشتہاری ہیں اگر اشتہاری شہر میں دھند دھندلاتے پھریں گے توپھر کوئی شہری محفوط نہیں رہے گا اور ان اشتہاریوں کے گھر شہر اسلام آباد میں موجود ہیں ۔ہم سوال کرتے ہیں کہاں ہے وہ ٹیکنالوجی؟ کہاں ہے وہ جیو فنسنگ ؟کہاں ہیں وہ ادارے جو معلومات فراہم کرتے ہیں اور کیوں انسانوں کے قاتلوں کا ان کو پتا نہیں چلتا۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے وہ ماں اور بہن روز پوچھتی ہے کہ میرے بیٹے کے قاتل کب گرفتار ہوں گے؟ ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ قتل کے کیس میں نامزد ملزم گرفتار ہوا ،سیشن کورٹ سے اس کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہو ئی اور وہ عدالت سے بھاگ گیا اور پھر وہ بھاگا ہی نہیں ۔ قتل کیس کا ملزم عدالت سے فرار ہو جاتا ہے تو پھر عدالتیں اور پولیس کیا کر رہی ہیں ؟ اور پھرہائی کورٹ میں قتل کے کیس میں نامز د ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم کر دی جاتی ہے ۔انہوںنے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ انصاف کے اس منصب پر فائز ہیں اور عوام کو آپ پر بھرپور اعتماد ہیں اور عوام کی آپ سے توقعات بھی وابستہ ہیں اور یہ مقدمہ ٹیسٹ کیس ہے انہوںنے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اس پر ضمانت دی ہے آپ اس پر از خود نوٹس لیں ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ریمارکس دئیے گئے اوران جج صاحب نے فریایا کہ جیلوں میں اتنی جگہ نہیں کہ انہیں وہاں بھیج دیں اگر جیل میں جگہ موجود نہیں تو یہاں روزانہ سیاسی قیدی بنتے ہیںان کیلئے جگہیں موجود ہیں لیکن قاتلوں کیلئے جگہ موجود نہیں ہے ۔ چیف جسٹس اس پر سو موٹو لیں اس معاملے کی تحقیقات اعلی عدلیہ کے ججز سے کرائی جائے اور اس میں نامزد ملزم کس کی غفلت اور نا اہلی سے بیرون ملک فرار ہوا اس کی تحقیقات کی جائے اور اس کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انٹر پول کے ذریعے اس کو گرفتار کرکے واپس لایا جائے اور جو اس شہر میں دوسرا ملزم موجود ہیں اگر وہ با اثر اور طاقت ور ہیں تو یہ ریاست کا امتحان ہے کہ کیا قانون غریب اور طاقت وار کیلئے برابر ہے؟ ان کے سہولت کاروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیںجو ان کیلئے سہولت کار کر رہے ہیں ،انہوںنے کہا کہ میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ ٹیسٹ کیس ہے اور ویسے بھی اس وقت اسلام آباد میں 54قتل کے کیس ہیں اور پورے ملک میں تاثر ہے کہ اسلام آباد میں امن ہے اوریہاں پر جرائم نہیں ہیں۔ اگر اتنے کیسز چل رہے ہیں اور ملزم پکڑے نہیں جاتے تو پھر کی ایک ماں سوال ضرور کرے گی کہ اگر محمد بن قاسم ایک بیٹی کی آواز پر سندھ کے ساحلوں تک آ سکتا ہے تو پھر کہاں ہے یہاں کی ریاست؟ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ہمیں سات دن میں قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایف آئی آر چاہئے ، سات دن میں بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے اسے انٹر پول سے گرفتار کرکے واپس لایا جائے اور اس میں غفلت برتنے والوں کے خلاف انکوائری کی جائے اور چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر سو موٹو لیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو شہر کے تاجر اپنے تاجر بھائی جس کے بیٹے کو ناحق قتل کیا گیا تو وہ اس مشکل وقت میں اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ہم مشاورت کے ساتھ وزیر اعظم ہاوس کے سامنے احتجاج اور دھرنا دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے ، رب نواز عباسی کی والدہ کو یقین دلاتے ہیں کہ تاجر اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔صدر کوہسار اتحادپوٹھوہارآصف شفیق ستی ، صدر جی نائن مرکز، کراچی کمپنی راجہ جاوید اقبال ، صدر سپر مارکیٹ شہزاد شبیر عباسی ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی راولپنڈی انصر عباس کیانی ، افتخار عباسی ، شکیل عباسی نے کہا کہ رب نواز عباسی کو نا حق قتل کیا گیا اور با اثر قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور رب نوا ز کی والدہ کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ تاجر اور عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔