ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا حدف حاصل کر لیا، محمد رضوان میچ کے بہترین کھلاڑی قرار

حیدر آباددکن:حیدر آباد دکن میں کھیلنے جانے والے ورلڈ کپ کے اپنے دوسرے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو ریکارڈ ساز شکست دے دی۔پاکستانی ٹیم نے عبداللہ شفیق اور محمد رضوان کی سنچریوں کی بدولت ورلڈ کپ کا 345 سب سے بڑا حدف حاصل کیا۔ پہلی دو وکٹیں جلدی گرنے پر محمد رضوان اور عبداللہ شفیق نے تیسری وکٹ کے لیے 176 رنز کی شراکت قائم کی اور پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی ۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میگا ایونٹ کا 8واں میچ حیدر آباد دکن کے راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا ۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔سری لنکا نے اننگز کا آغاز کیا تو دوسرے ہی اوور میں کوشل پریرا کھاتا کھولے بغیر ہی حسن علی کا شکار بن گئے۔محض پانچ رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد پاتھم نیسانکا کا ساتھ دینے کوشل مینڈس آئے اور دونوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا۔پاکستان کو جلد ہی دوسری وکٹ لینے کا موقع بھی ملا لیکن امام الحق نے مینڈس کا آسان کیچ گرا دیا اور یہ غلطی بعد میں بہت مہنگی ثابت ہوئی۔مینڈس اور نیسانکا نے عمدہ کھیل پیش کیا اور دوسری وکٹ کے لیے 102 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے اپنی اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کر لیں۔اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب شاداب کی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں 51 رنز بنانے والے نسانکا کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد کوشل مینڈس کا ساتھ دینے آئے سدیرا سمارا وکراما آئے اور دونوں نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے رنز بننے کی رفتار میں کمی نہ آنے دی اور تمام پاکستانی بالرز کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کیا۔دونوں کھلاڑیوں بالخصوص مینڈس نے تیز رفتاری سے بیٹنگ کی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہیکہ انہوں نے 69 گیندوں پر 111 رنز کی شراکت قائم کی اور اس دوران مینڈس نے حسن علی کو چھکا لگا کر اپنی سنچری بھی مکمل کر لی۔حسن کے اگلے اوور میں مینڈس نے انہیں مزید دو چھکے لگائے لیکن ایک اور ایسی کوشش میں بانڈری پر کھڑے امام الحق کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 77 گیندوں پر 6 چھکوں اور 14 چوکوں کی مدد سے 122 رنز کی باری کھیلی۔پاکستان کو اگلی وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور حسن علی نے رضوان کے عمدہ کیچ کی مدد سے چارتھ اسالانکا کو بھی پویلین واپسی پر مجبور کردیا۔دوسرے اینڈ سے سمارا وکراما نے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور دھننجیا ڈی سلوا کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 68 رنز جوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی ففٹی بھی مکمل کر لی۔پاکستان کو پانچویں کامیابی اس وقت ملی جب دھننجیا ڈی سلوا 25 رنز بنانے کے بعد محمد نواز کی وکٹ بن گئے۔سمارا وکراما نے بہترین کھیل کا سلسلہ جاری رکھا اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری اسکور کی لیکن دوسرے اینڈ سے شاہین آفریدی نے داسن چناکا کو چلتا کردیا۔سمارا وکراما کی عمدہ اننگز کا خاتمہ اس وقت ہوا جب وہ 108 رنز بنانے کے بعد حسن علی کی وکٹ بن گئے۔
اختتامی اوورز میں پاکستانی بلے بازوں نے عمدہ بولنگ کی اور سری لنکن بلے باز زیادہ تیزی سے بیٹنگ نہ کر سکے اور محض چھ کی اوسط سے رنز بنائے۔حارث رف نے آخری اوور میں ایک رن دے کر دو وکٹیں لیں اور سری لنکا نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 344 رنز بنائے۔
یاد رہے کہ یہ پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میں بننے والا سب سے بڑا اسکور ہے۔پاکستان کی جانب سے حسن علی نے چار اور حارث رف نے دو وکٹیں لیں۔
پاکستان نے ہدف کے حصول کے لئے اننگز کا آغاز کیا تو پاکستانی اوپنر نے ایک مرتبہ پھر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تجربہ کار امام الحق غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئوٹ ہوگئے۔اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور سولہ تھا۔ امام نے 12 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 12 رنز بنائے تھے۔امام الحق اس مختصر اننگز کے دوران ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین 3 ہزار رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوگئے اور کپتان بابراعظم کو پیچھے چھوڑ دیا۔امام الحق نے گزشتہ 6 ستمبر کو ایشیا کپ کے میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف نصف سنچری بنائی تھی تاہم اس سے قبل دو میچوں بھی میں ناقص بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور مجموعی طور پر آخری 7 اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنائی ہے اور گزشتہ تین میچوں میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔کپتان بابر اعظم بھی ناکام ہوئے اور وکٹ کیپر سماراوکراما کو کیچ دے گئے، ان کی اننگز 15 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 10 رنز پر مشتمل تھی۔
اس موقع پر عبداللہ اور رضوان نے تیسری وکٹ کے لیے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 100 رنز کی ساجھے داری بنائی اور اس دوران عبداللہ نے ورلڈ کپ میں ملنے والے پہلے ہی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ففٹی مکمل کی۔عبداللہ نے بہترین کھیل کا سلسلہ جاری رکھا اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری اسکور کی اور اس کے ساتھ ہی ورلڈکپ ڈیبیو میں پاکستان کی طرف سے سنچری اسکور کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔ان سے قبل ورلڈکپ ڈیبیو پر سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ محسن خان کے پاس تھا جنہوں نے 1983 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا ہی کے خلاف 82 رنز کی باری کھیلی تھی۔
عبداللہ شفیق نے 103 گیندوں پر 113 رنز کی شاندار باری کھیلی لیکن 2013 کے مجموعی اسکور پر پوائنٹ پر کھڑے متبادل فیلڈر مادی ہمانتھا نے خوبصورت کیچ لے کر عبداللہ کی اننگز کے ساتھ ساتھ بہترین شراکت کا بھی خاتمہ کردیا۔محمد رضوان اور عبداللہ شفیق نے تیسری وکٹ کے لیے 176 رنز کی شراکت قائم کی۔عبداللہ کے آئوٹ ہونے کے بعد محمد رضوان نیمیدان سنبھال لیا اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ شروع کی لیکن اس دوران کریمپس پڑنے کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ طبی امداد لینی پڑی اور رننگ میں مشکل کا سامنا رہا۔وکٹ کیپر بلے باز نے انجری کے باوجود جرات مندی سے بیٹنگ کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں اپنی پہلی سنچری اسکور کی اور پاکستان کی فتح کی امیدوں کو روشن کردیا۔سعود شکیل گزشتہ اننگز کے برعکس اس میچ میں کچھ بجھے بجھے نظر آئے اور ان کے دو کیچ بھی ڈراپ ہوئے لیکن وہ ان مواقع سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے اور 31 رنز بنانے کے بعد مہیش تھکشانا کی وکٹ بن گئے۔اس کے بعد پاکستان کو ہدف کے تعاقب میں مزید کوئی مشکل پیش نہ آئی اور رضوان نے چوکا لگا کر پاکستان کو 10 گیندوں قبل ہی فتح سے ہمکنار کرا دیا۔
یاد رہے کہ یہ ورلڈ کپ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے حاصل کیا گیا سب سے بڑا ہدف ہے۔ محمد رضوان نے 121 گیندوں پر 3 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 131 رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔اس طرح پاکستان نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف بآسانی دس کینیدیں قبل حاصل کر لیا۔
میچ دیکھنے کے لیے فاسٹ بولر حسن علی کی بھارتی نژاد اہلیہ بھی میدان میں موجود تھیں اور پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔



