عمران خان سائفر کے ذریعے فوج کی ہائی کمان پر دبائو ڈالنا چاہتے تھے، اعظم خان کے بیان کی نقل جیو نیوز نے حاصل کر لی


عمران خان سائفر کے ذریعے فوج کی ہائی کمان پر دبائو ڈالنا چاہتے تھیجیو نیوز نے بیان کی نقل حاصل کر لی
سائفر کے حوالے سے اسپیکر کی غیر قانونی رولنگ بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایات پر سامنے آئی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے کہا ہے عمران خان سائفر کے ذریعے فوج کی ہائی کمان پر دبا ئو ڈالنا چاہتے تھے ۔
یہ بات ان کی جانب سے دفعہ 161 کے تحت دئیے گئے تحریری بیان میں سامنے آئی ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے اپنے تحریری بیان میں ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے پاکستان آرمی کی ہائی کمان کے خلاف سائفر کو اپنے سیاسی مقاصد اور عدم اعتماد میں ریسکیو کے لیے خاص پلان کے طور پر تیار کیا، چیئرمین پی ٹی آئی اداروں پر تحریک عدم اعتماد میں مدد کے لئے ڈبا ڈالنا چاہتے تھے۔انہوں نے واضح کیا کہ سائفر کے حوالے سے اسپیکر کی غیر قانونی رولنگ بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی بطور وزیر اعظم ہدایات پر دی گئی۔
اعظم خان نے تحریری بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی حاصل کی اور بعد میں کہا کہ کاپی گم ہو گئی ہے، عمومی طور پر سائفر جس چینل سے آتا ہے اسی چینل سے واپس بھیجا جاتا ہے، 8مارچ کو سائفر سے متعلق فارن سیکریٹری کا ٹیلی فون آیا جس میں سائفر کی کاپی وزیر اعظم آفس کو بھجوانے سے متعلق بتایا گیا، فارن سیکریٹری نے کہا کہ 9مارچ کو سائفر کی کاپی وزیر اعظم کے حوالے کی جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سائفر معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔انہوں نے اپنے تحریری بیان میں بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 مارچ کو سائفر کے ڈاکیومنٹ کا معائنہ اور اس پر رائے دی، سابق وزیر اعظم نے سائفر کو امریکی بلنڈر کہا اور اس پر اپوزیشن اور اداروں کے خلاف موثر بیانیہ ترتیب دینے کی ہدایت کی جب عدم اعتماد آئی تو سائفر کو اس سے جوڑنے کی بھی ہدایت کی۔
اعظم خان نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے مجھ سے سائفر کی کاپی مانگی اور کہا کہ میں اس کو مزید پڑھنا چاہتا ہوں، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کاپی دے دی اور انھوں نے اپنے پاس رکھ لی، سائفر سے متعلق جب میں نے کاپی واپس مانگی تو کہا گیا کہ کاپی ادھر ادھر ہو گئی ہے۔انہوں نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے ملٹری سیکیریٹرز اور اپنے ذاتی اسٹاف کو کاپی ڈھونڈنے سے متعلق ہدایات دی، سابق وزیر اعظم سائفر کو ایک غیر ملکی سازش کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہتے اور خود کو مظلوم ثابت کرنا چاہتے تھے۔اعظم خان نے کہا کہ جب سائفر گم ہوگیا تو میں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر فارن سیکریٹری سے رابطہ کیا جائے جنھوں نے سائفر سے متعلق بتایا ہے۔
اعظم خان کے بعد فارن سیکریٹری بھی چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف گواہوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے بیان دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سائفر معاملے نے پاکستان کے کمیونیکیشن سسٹم کو نقصان پہنچایا، ہمارے سفارت کار اور ان کی مستقبل کی سفارتکاری کی ساکھ پر بھی اس کا اثر پڑا ہے، 7 مارچ سے لے کر آج تک سابق وزیرا عظم سے نہ کبھی ملا نہ ہی بل واسطہ اور بلا واسطہ بات چیت ہوئی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نہ ہی میں نے کبھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی سے بھی کوئی ملاقات کی یا بات کی، میں نے اسسٹنٹ سیکریٹری یو ایس ڈپارٹمنٹ ڈونلڈ لو کو 7 مارچ کو پاکستان ہائوس واشنگٹن میں ملاقات کیلیے ظہرانے پر مدعو کیا تھا۔
یاد رہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں 28 گواہان کی فہرست سامنے آگئی ہے ۔ گواہان میں یوسف نسیم کھوکھر سیکرٹری وزارت داخلہ بطور کمپلینٹ، آفتاب اکبر درانی سیکرٹری داخلہ، اسد مجید، محمد اعظم خان، ڈاکڑ حسیب بن عزیز، ساجد محمود۔ فیصل نیاز ترمزی، نعمان بشیر، محمد اشفاق ، حسیب گوہر، ٹیکنل ایکسپرٹ سائفر کرائم ونگ اسلام آباد بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف جیو نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سائفر کیس میں سابق وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان کے بیان کی نقل حاصل کرلی۔
سائفر کیس میں دیے گئے اعظم خان کے بیان کیمطابق سابق وزیراعظم سائفر پڑھ کر پرجوش ہوگئے، سابق وزیراعظم نیکہا سائفر اپوزیشن اور ریاستی اداروں کے خلاف مثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور سابق وزیراعظم نے کہا سائفر امریکی اہلکار کی غلطی ہے، سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سائفر تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے میں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
اعظم خان کے بیان کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سائفر کی کاپی مجھے دے دو، سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں سائفر کو دوبارہ پڑھ کر جائزہ لینا چاہتا ہوں جس پر میں نے سائفر کی کاپی سابق وزیراعظم کو دی جو انہوں نے اپنے پاس رکھ لی، جب سابق وزیراعظم سے بعد میں سائفر کی نقل مانگی تو انہوں نے کہا کہ وہ گم ہوگئی اور کہا کہ وہ سائفر کو تلاش کریں گے۔اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ سابق وزیر اعظم نے ملٹری اور ذاتی عملے کو بھی سائفر ڈھونڈنے کا کہا، سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ سائفر کو عوام کو دکھائیں گے، میں نے سابق وزیراعظم کو مشورہ دیا یہ خفیہ مراسلہ تھا جسے بتایا دکھایا نہیں جاسکتا۔
سابق پرنسپل سیکرٹری کے بیان کے مطابق 28 مارچ کو میری موجودگی میں سابق وزیراعظم نے بنی گالہ میں ایک اجلاس کی صدارت کی، میری یاداشت کے مطابق یہ سابق وزیر اعظم کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، اجلاس میں سابق وزیراعظم نے سیکرٹری خارجہ کو کہا کہ وہ سائفر کی نقل پڑھ کر سنائیں، اس اجلاس کے منٹس میں نے ریکارڈ کیے تھے، میریخیال میں انہوں نیاعلی فوجی قیادت کونشانہ بنانیاوردبا میں لانے کا منصوبہ بنایا تھا۔اعظم خان کے بیان کیمطابق سابق وزیراعظم چاہتے تھے کہ فوج کی اعلی قیادت تحریک عدم اعتماد پر ان کی مدد کے لیے آئے، سابق وزیراعظم کی طرف سے عوامی عہدے کو استعمال کر کے اعتماد توڑا گیا اور سابق وزیراعظم کے اس اقدام نے پاکستان کے مفادات کو کمپرومائز کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا مقصد سائفر سے سیاسی مفادات حاصل کرنا تھا اور میرے خیال میں اس اقدام نے فوج کے رینکس میں اعلی قیادت کے خلاف ابہام کے بیج بوئے۔