50 فیصد پاکستانیوں نے نواز شریف کی وطن واپسی کو ملکی مستقبل کیلئے بہتر قرار دیدیا

30 فیصد نے معاشی بحران کے حل کے حوالے سے بھی امید باندھ لی ،22 فیصد نیعمران کو واحد امید قراردیا

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ چار سالہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آچکے ہیں ۔لاہور میں ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا اور انہوں نے مینار پاکستان میں ملکی تاریخ کے ایک بڑے جلسے سے بھی خطاب کیا۔
نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے عوامی آرا جاننے کے لئے ادارے گیلپ پاکستان نے نیا سروے جاری کر دیا ہے ۔جس کے مطابق 50 فیصد پاکستانیوں نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کو ملکی مستقبل کے لیے بہتر قرار دے دیا۔ 30 فیصد پاکستانیوں نے ملکی معاشی بحران کے حل کے لیے نواز شریف سے امید باندھ لی جبکہ 22 فیصد نے پی ٹی آئی چیئرمین کو واحد امید قراردیا ہے جبکہ 30 فیصد نے مایوسی کے ساتھ کہا کہ معاشی بحران کوئی حل نہیں کرسکتا۔
سروے کے مطابق نواز شریف کی مینار پاکستان پر تقریر 34 فیصد پاکستانیوں نے سنی ، 80 فیصد نے تقریرکی تعریف کی جبکہ 50فیصد پاکستانیوں نے نواز شریف کی وطن واپسی کو ملکی مستقبل کے لیے بہتر قرار دیا۔
سروے میں51 فیصد نے ن لیگ کے لیے آئندہ عام انتخابات میں جیتنے میں بھی مدد گار ثابت ہونے کا کہا جبکہ 70 فیصد مفاہمت کے بھی حامی نظر آئے۔
گیلپ سروے میں عوام نے ملکی ترقی کے لیے نواز شریف کو چیئرمین پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی رہنماں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
38 فیصد نے نواز شریف کی وطن واپسی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دیا البتہ 27 فیصد نے اس رائے کو رد کر دیا۔
نواز شریف نے خود بھی 21 اکتوبر کے استقبالیہ جلسے کو ناقابل فراموش اجتماع قرار دیا ہے۔
دریں اثناء میاں نوازشریف ایک دن لاہور میں گزارنے کے بعد مری پہنچ گئے ہیں۔مریم نواز اور پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد پہنچنے پرٹول پلازہ پر کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔مری میں سابق وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ پر سکیورٹی کے پیش نظر پولیس بھی تعینات کی گئی ہے ۔ادھر سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی طویل عرصے کے بعد مری آمد پر ان کی رہائش گاہ کشمیر پوائنٹ پر صفائی ستھرائی کی گئی۔