ورلڈ کپ میں ناقابل شکست بھارتی ٹیم کو فائنل میں آسڑیلیا کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست
بھارت کو چھ وکٹوں سے شکست ،43 ویں اور میں میچ ختم، آسٹریلیا چھٹی مرتبہ کرکٹ کا عالمی چیمپیئن
میچ کے دوران 11 آسڑیلوی کھلاڑی ایک لاکھ بھارتی تماشائیوں پر بھاری رہے
30 ویں اور میں میچ آسڑیلیا کے حق میں ہوچکا تھا ،اگلے دس اور تو محض رسمی کاروائی تھے

احمد آباد (رپورٹ :محمد رضوان ملک )بھارت کے شہر احمد آباد میں کھیلے جانے والے آئی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں آسڑیلیا نے باآسانی بھارت کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل اپنے نام کر لیا۔اس طرح آسڑیلوی ٹیم نے چھ مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا منفرد اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔ میچ کے آغاز سے قسمت کی دیوی آسڑیلیا پر مہربان تھی ۔کوئی بھی بھارتی بیٹسمین آسڑیلیوی بولرز کے سامنے ٹھہر نہ سکا۔آسڑیلوی اننگز کے آغاز میں تین وکٹیں جلد گر جانے پر کچھ دیر کے لئے بھارت میچ میں واپس آیا لیکن جلد ہی آسڑیلوی بیٹرز مارنوس لبوشن اور ٹریوس ہیڈ نے بھارتی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔30 ویں اور میں میچ آسڑیلیا کے حق میں ہوچکا تھا ،اگلے دس اور تو محض رسمی کاروائی تھے۔آسڑیلوی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کی بیویوں کا جوش و خروش بھی قابل دید تھا۔میچ کے دوران 11 آسڑیلوی کھلاڑی ایک لاکھ بھارتی تماشائیوں پر بھاری رہے۔
ورلڈ کپ 2023 کے فائنل میں آسٹریلیا نے ٹریوس ہیڈ کی شاندار سنچری اور بالرز کی عمدہ بالنگ کی بدولت بھارت کو باآسانی 6 وکٹوں سے شکست دے چھٹی مرتبہ ورلڈ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔میگا ایونٹ کا فائنل بھارتی شہر احمد آباد کے دنیا کے سب سے بڑے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا اور آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیتا اور بھارت کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔بھارت نے اننگز کا آغاز کیا تو روہت شرما نے روایتی جارحانہ انداز اپنایا اور 4 اوورز میں اسکور کو 30 تک پہنچا دیا لیکن دوسرے اینڈ سے شبمن گل کا بلا خاموش رہا۔آسٹریلیا کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب اسٹارک کی گیند پر شبمن گِل صرف چار رنز بنانے کے بعد زامپا کو کیچ دے بیٹھے۔لیکن دوسرے اینڈ سے کپتان روہت شرما نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور نئے بلے باز ویرات کوہلی کے ہمراہ 46 رنز کی ساجھے داری قائم کی۔اسکور 76 تک پہنچا ہی تھا کہ مکسویل نے آسٹریلیا کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنانے والے بھارتی کپتان روہت کا کام تمام کردیا۔ابھی بھارتی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ اسٹارک نے کاری ضرب لگاتے ہوئے گزشتہ دو میچوں میں سنچریاں بنانے والے شریاس آئیر کو چلتا کردیا۔یکے بعد دیگرے دو وکٹیں گرنے کے بعد بھارتی ٹیم دبائو میں آ گئی اور رنز بننے کی رفتار میں نمایاں کمی آ گئی۔بھارتی کھلاڑیوں بالخصوص لوکیش راہل کی سست بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 10.2 اوورز میں 81 رنز بنانے والی ٹیم اگلی 108 گیندوں پر صرف 67 رنز بنا سکی۔درمیانی اوورز میں آسٹریلیا کی بالنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ بھی شاندار رہی اور 10 سے 25 اوورز تک بھارتی بلے باز کوئی بھی بانڈری نہ مار سکے۔ویرات کوہلی نے مشکل وقت میں ذمے داری کو سمجھا اور عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے ایونٹ میں ایک نصف سنچری اسکور کی۔ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید کوہلی اس مرتبہ بھی سنچری اسکور کرنے میں کامیاب رہیں گے لیکن کمنز کی گیند ان کے بلے کا اندرونی کنارہ لینے کے بعد وکٹوں سے جا ٹکرائی۔دوسرے اینڈ سے راہل سنبھل کر بیٹنگ کرتے رہے اور وکٹ پر ٹھہرنے کی پالیسی اپنا کر بتدریج اسکور میں اضافہ کرتے رہے۔رویندرا جدیجا بھی مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور بالآخر 9 رنز بنانے والے آل رانڈر، جوش ہیزل وڈ کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔راہل نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 66 رنز کی اننگز تراشی لیکن بالآخر ان کی ہمت بھی جواب دے گئی اور تجربہ کار اسٹارک کی گیند پر وہ بھی وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔سوریا کمار یادیو وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کی وجہ سے دبا میں نظر آئے اور اپنے روایتی جارحانہ انداز کے بجائے سست بیٹنگ کرتے رہے اور پھر 28 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آٹ ہو گئے۔اختتامی اوورز میں بھی بھارتی بلے باز تیزی سے کھیلنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم اننگز کی آخری گیند پر 240 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔
بھارت کی جانب سے اسٹارک نے عمدہ بالنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں لیں جبکہ پیٹ کمنز اور ہیزل وڈ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آٹ کیا۔
آسٹریلیا نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اننگز کی پہلی ہی گیند پر ڈیوڈ وارنر آئوٹ ہونے بال بال بچے، بمراہ کی گیند بلے کا باہری کنارہ لینے کے بعد سلپ کی جانب گئی لیکن کوہلی اور شبمن گل دونوں نے ہی کیچ پکڑنے کی کوشش نہ کی اور گیند بانڈری پار کر گئی۔لیکن وارنر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور محمد شامی کی وائیڈ جاتی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں سلپ میں کیچ دے بیٹھے اور اس بار ویرات کوہلی نے کوئی غلطی نہ کی۔وکٹ پر آنے والے مچل مارش نے جارحانہ انداز اپنایا اور ٹریوس ہیڈ کے ساتھ مل کر اسکور 41 تک پہنچایا لیکن 15 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد بمراہ کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔تاہم آسٹریلین ٹیم کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب بمراہ کے اگلے اوور میں اسٹیو اسمتھ ایک گیند کو سمجھ نہ سکے اور انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔سابق کپتان نے دوسرے اینڈ پر موجود ٹریوس ہیڈ کے شورے سے ریویو نہ لینے کا فیصلہ کیا جو غلط ثابت ہوا، اگر اسمتھ ریویو لے لیتے تو وہ آٹ نہ ہوتے کیونکہ گیند جب انک ے پیر سے ٹکرائی تو وہ آف اسٹمپ سے باہر تھا۔47 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد ہیڈ کا ساتھ دینے مارنس لبوشین آئے اور دونوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار شراکت قائم کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا
اس وقت بھارت تھوڑی دیر کے لئے میچ میں واپس آیا لیکن لیکن جلد ہی آسڑیلوی بیٹرز مارنوس لبوشن اور ٹریوس ہیڈ نے بھارتی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 192 رنز کی شاندار شراکت قائم کی اور آسٹریلیا کو ورلڈ چیمپیئن بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹریوس ہیڈ نے 120 گیندوں پر 4 چھکوں اور 15 چوکوں کی مدد سے 137 رنز کی عمدہ باری کھیلی اور جب وہ آٹ ہوئے تو آسٹریلیا کو میچ جیتنے کے لیے صرف دو رنز درکار تھے۔آخر میں آکر وننگ شاٹ میکسوئل نے کھیلا۔
اس طرح آسٹریلیا نے میچ میں 7 اوورز قبل ہی فتح حاصل کر کے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چھٹی مرتبہ ورلڈ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔




