فلسطین کو آزاد کرو کی شرٹ پہنے نوجوان نے میچ کے دوران پچ پر جا کر ویرات کوہلی کو گلے لگالیا
آسٹریلوی نوجوان نے مہذب دنیا کے دل جیت لئے، دلوں کا ہیرو سوشل میڈیا پر چھا گیا

احمد آباد:بھار ت اور آسڑیلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے دوران ایک نوجوان نے اس وقت انوکھے انداز میں دنیا کی توجہ اسرائیلی مظالم کی طرف دلائی جب وہ میچ کے دوران فلسطین کو آزاد کرو کے نعرے کی شرٹ پہنے میدان میں آگیا ۔ اس وقت بھارتی بیٹنگ جاری تھی اس نے آتے ہی بھارت بیٹسمین کوہلی کو گلے لگا لیا۔اس وقت دنیا نے دیکھا کہ اس نے جو شرٹ پہن رکھی تھی اس پر درج تھا فری فلسطین۔اس طرح ااس نے جو شرٹ پہن رکھی تھی وہ اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔
سیکیورٹی کے حصار کو توڑتے ہوئے پچ پر جا کر ویرات کوہلی کو گلے لگانے والے اس نوجوان کو پولیس نے پکڑ لیا لیکن بعد ازاں جلد ہی چھوڑ دیا۔اس نوجوان نے بتایا کہ اس کا نام ‘ جان'(John)ہے اور اس کا تعلق آسٹریلیاسے ہے ۔، اس موقع پر بھارتی بیٹمیسن کوہلی کافی پریشان دکھائی دیئے ۔
میچ کے دوران فلسطین کے حامی اس تماشائی نے فوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی اور اس وقت سوشل میڈیا اسے ہیرو بنا کر پیش کر رہا ہے۔
گرائونڈ کا عملہ فوری طور پر نوجوان کو پکڑ میدان سے باہر لے گیا جب کہ اس دوران مختصر وقت کے لیے میچ بھی روکنا پڑا۔
نوجوان کی گرانڈ میں داخل ہو کر ویرات کوہلی کو گلے لگانے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں نوجوان کو فلسطینی پرچم والا ماسک پہننا ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ اس کی ٹی شرٹ پر انگریزی میں فلسطینیوں پر بمباری بند کرو کا مطالبہ درج ہے۔
فلسطین کے حامی نوجوان کی گرانڈ میں داخل ہونے کی تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے رد عمل بھی سامنے آر ہا ہے جب کہ کچھ لوگ اظہار یکجہتی کے اس اقدام کو مظلوم فلسطینیوں کے مصائب کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوشش کو بہادری قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ 43 دنوں سے اسرائیل کے جنگی طیارے مسلسل غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں، خواتین سمیت ہزاروں فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ورلڈکپ 2023 کے لیے بھارت میں موجود متعدد پاکستانی کرکٹرز نے ایک ساتھ سوشل میڈیا پر فلسطین کے پرچم کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے غزہ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا، آل رائونڈر شاداب خان، افتخار احمد، اسامہ میر نے فلسطین کے جھنڈے پوسٹ کیے تھے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اور بلے باز محمد رضوان نے سری لنکا کے خلاف شاندار جیت فلسطینیوں کے نام کی تھی جس پر بھارتیوں اور اسرائیل نے شدید ردعمل دیا تھا۔محمد رضوان کی ٹوئٹ پر بھارتی صحافی نے آئی سی سی ایونٹس کے دوران کرکٹرز کی جانب سے سیاسی اور مذہبی بیانات دینے پر پابندی نہ ہونے سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر آئی سی سی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کھیل کے میدان اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
بعدازا 14 اکتوبر کو اہم میچ میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد اسرائیل کے آفیشل ٹوئٹر اکانٹ سے بھارت کو جیت کی مبارک باد دی گئی اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ساتھ ہی اسرائیلی حکومت کی ٹوئٹ میں لکھا گیا کہ صیہونی ریاست خوش ہے کہ بھارت نے میچ میں جیت حاصل کی اور پاکستان اپنی فتح کو حماس کے نام کرنے سے محروم رہا۔
اس سے قبل سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان نے غزہ میں جاری بمباری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بطور کھلاڑی صرف اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عالمی رہنما متحد ہو جائیں اور اس بے رحمانہ قتل کو ختم کریں۔انہوں نے اقوام متحدہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے میں صرف آواز اٹھا سکتا ہوں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عالمی رہنما متحد ہو جائیں اور اس بے رحمانہ قتل عام کو ختم کریں۔




