محمد اکبر بن یاسین ملائشیاء میں پاکستانیوں کے سرپرست اعلیٰ


نئے بزنس مینوں کو باپ کی طرح انگلی پکڑ کر چلاتے اور بڑے بھائیوں کی طرح سرپرستی کرتے ہیں
پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قومی کھیل ہاکی سے بھی شدید محبت ہے
ہاکی میں میرے پسندیدہ کھلاڑی شہباز احمد سنئیر ہیں۔جو میرے نزدیک ہاکی کے میرا ڈونا ہیں
پیدا تو ملائشیاء میں ہوا لیکن میرا دل ہر وقت پاکستا ن میں اٹکا رہتا ہے۔پاک پنجاب ریسٹورنٹ پر سی پیک سے گفتگو

محمد اکبر بن یاسین ملائشیاء میں ایک ایسی شخصیت ہیں جن کو آپ اس ملک میں پاکستانیوں کا سرپرست اعلیٰ کہ سکتے ہیں۔ان کے آباؤاجداد ویسے تو پاکستان بننے سے پہلے ملائشیاء آگئے تھے۔ لیکن وطن کی مٹی اور وہاں کے لوگوں سے محبت ان کے خمیر میں رچی بسی ہے۔کئی ایک پاکستانیوں کوملائشیاء میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں ان کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے در سے کوئی خالی نہیں گیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں پیدا تو ملائشیاء میں ہوا لیکن میرا دل ہر وقت پاکستا ن میں اٹکا رہتا ہے۔
وہ ملائشیاء پاکستان بزنس کونسل کے ممبر ہیں ملائشیاء میں پاکستانیوں کیلئے امید کی کرن ہیں۔وہ نئے بزنس مینوں کو باپ کی طرح انگلی پکڑ کر چلاتے اور بڑے بھائیوں کی طرح سرپرستی کرتے ہیں۔
محمد اکبر بن یاسین کے بارے میں آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان اور پاکستانیوں کی طرح پاکستان کے قومی کھیل ہاکی سے ان کی محبت باور رفاقت بھی کئی سالوں پر محیط ہے۔ انہیں 26 سال تک ملائشیاء میں سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔محمد اکبر بن یاسین کے دادا1908 ء پہلی بار ملائشیاء آئے اور پھر یہی کے ہو کر رہ گئے۔
گزشتہ دنوں ملائشیاء کی اس ہر دلعزیز شخصیت سے ہماری ایک طویل نشست ہوئی جس کا اہتمام ملائشیاء میں ایک اور ہر دلعزیز پاکستانی پاک پنجاب ریسٹورنٹ کے مالک راجہ شہزاد نے کیا تھا اس ملاقات میں ان کی ذاتی زندگی اور کاروباری زندگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔
اکبر بن یاسین نے بتایا کہ 1975 ء میں پہلی بار ہاکی کا ورلڈ کپ ملائشیاء کے دارلحکومت کوالالمپور میں ہوا تو مجھے ہاکی سے دلچسپی پیدا ہوئی اور ہم نے لکڑیوں سے ہاکی کھیلنا شروع کی۔ 1991 ء میں مین نے ملائشین پولیس کی طرف سے بھی ہاکی کھیلی۔
انہوں نے بتایا کہ ہاکی میں میرے پسندیدہ کھلاڑی شہباز احمد سنئیر ہیں۔جو میرے نزدیک ہاکی کے میرا ڈونا ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمد یاسین اکبر نے بتایا کہ سیاست نے پاکستان کی ہاکی کو بہت نقصان پہنچایا۔اس سیاست کی وجہ سے ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کی خدمات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا گیاجس کی وجہ سے پاکستان کی ہاکی روز بروز زوال کا شکار ہورہی ہے۔
انہوں نے تجویز کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی میچ کرا کے ایشیاء میں ہاکی کو ترقی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست کو ہاکی سے نکالنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کا معاوضہ بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا پروفیشنل کوچنگ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں سفارش نہیں چلتی۔انہوں نے تجویز کیا کہ ہاکی کی ایڈمنسٹریشن ہاکی کے ماضی کے کسی اچھے کھلاڑی کے پاس ہونی چاہیے اور اس پر دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ہاکی کے فروغ کے لئے سابق کھلاڑیوں کو عزت دی جانی چاہیے تاکہ نوجوان اس طرف راغب ہوں۔انہوں نے کہا کہ مجھے 26 سال سلطان اذلان شاہ کپ کے دوران ہاکی کے کھلاڑیوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل رہا جو میرے لئے ایک اعزاز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سنئیر کھلاڑیوں میں اختر رسول،قاسم ضیاء،شہباز سنئیر، رشید جونئیر، قاسم خان،اجمل خان،خالد بشیر،خواجہ جنید اور سہیل عباس میرے بہترین دوست ہیں۔میں ان کی عزت اور دوستی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
محمد اکبر بن یاسین اس وقت ملائشیاء میں ماربل کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ماربل کا فرنیچر بھی بناتے ہیں۔قبل ازیں انہوں نے 27 سال ملائشیاء میں سپیشل برانچ میں ملازمت بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ میرے بچوں میں سے تیسرے نمبر والے بیٹے کو ہاکی کا شوق ہے اور وہ کافی اچھی ہاکی کھیلتا ہے۔