کورم پورا تھا نہ قرارداد ایجنڈے میں شامل تھی14 میں سے 12 سینٹرز نے قرارداد کی حمایت کی
قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی چئیرمین سینیٹ نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا
مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخالفت
قرارداد منظور کرانے والے خفیہ ہاتھ کی حرکتوں سے سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آسکتی ہیں؟
قرارداد اچانک آئی اور اچانک منظور ہوگئی ،ایوان میں موجود حکومتی نمائندے وزیرا طلاعات مرتضیٰ سولنگی کی بھی مخالفت
قرارداد جمہوریت کے خلاف سازش ، قرارداد کی صورت میں اسرائیل کی طرح سینیٹ پر بم گرایا گیا ہے،سینٹر تاج حیدر

اسلام آباد(رپورٹ : محمد رضوان ملک)8 فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کرانے کے حوالے سے خفیہ ہاتھ متحرک ہوگیا ہے۔ ا لیکشن ملتوی کرانے کے حوالے سے جو خفیہ ہاتھ کچھ دنوں سے دبے الفاظ میں انتخابات کے التواء کے حوالے سے متحرک تھا آج اس وقت کھل کر سامنے آگیا جب اس نے ایوان بالا میں موجود اپنے نمائندوں کو متحرک کرتے ہوئے وطن عزیز میں موجود واحد جمہوری فورم ایوان بالا یعنی سینٹ سے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد 2 بار کثرت رائے سے منظور کرالی ۔
قرارداد سینٹ کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی چئیرمین اور چند مخصوص سینٹرز کے سوا کسی کو بھی اس قرارداد بارے علم نہ تھا۔قرارداد اچانک آئی اور اچانک ہی منظور بھی ہوگئی ۔ قرارداد کے مخالفین کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔قرارداد پیش کئے جانے اور منظوری کے وقت ایوان بالا میں صرف چودہ سینٹرز موجود تھے جس میں سے بارہ نے قرارداد کی حمایت کی۔اس طرح نہ کورم پورا تھا اور نہ ہی قرارداد ایجنڈے میں تھی کہ کوئی اس حوالے سے تیاری کرتا۔
مسلم لیگ ن کے سینٹر افنان اللہ نے کھل کر اس قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے سینٹرز بہرہ مند تنگی نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا۔ قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی چئیرمین نے اجلاس آناً فاناًملتوی کر دیا کسی کو بات کرنے قرارداد کی مخالفت کرنے حتیٰ کہ ایوان کے اندر آنے کی بھی مہلت نہ مل سکی ایوان میںموجود حکومتی نمائندے وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بھی قرارداد کی مخالفت کی۔ قرارداد اچانک آندھی و طوفان کی طرح آئی اور اچانک ہی منظور بھی ہوگئی ۔
اجلاس ملتوی ہونے کے فوراً بعد چئیرمین اپنے کا م میں جت گئے۔ قرارداد کی منظوری کا نہ صرف نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا بلکہ قرارداد کی منظوری کی کاپی صدر مملکت ، وزیراعظم اور الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کر دی گئی۔
یاد رہے کہ یہ خفیہ ہاتھ جس نے آج ایوان بالا میں کاروائی ڈالی ہے وہ کچھ عرصہ سے کبھی موسم اور کبھی امن وامان کی صورت حال کو سامنے رکھ کر الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔
یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ قرارداد پیش کرنے سے منظور ہونے تک آزاد اور فاٹا کے سینٹرز کا کردار اہم رہا ہے۔ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے قرارداد کی حمایت نہیں کی ہے جس سے ایک بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اس خفیہ ہاتھ کو کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہے اور یہی چیز اس قرارداد کے بے اثر ہونے کا باعث بنے گی۔
قرارداد منظور کرانے والے اپنے لئے مسائل کھڑے کر رے ہیں ۔اگر صورت حال یہی رہی تو انتخابات کی حامی سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آسکتی ہیں
سینیٹر دلاور خان نے ملک میں عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں اس لیے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کیے جائیں۔
قرارداد کے متن کے مطابق جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں میں موسم سخت ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ سینیٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے اس لیے 8 فروری کو ہونے والا الیکشن ملتوی کیا جائے۔
قرارداد پر ووٹنگ کے وقت سینیٹ میں 14 ارکان کی موجودتھے۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد پر ووٹنگ کے وقت سینیٹ میں 12 ارکان موجود تھے۔پی ٹی آئی کے گردیب سنگھ نے ایک بار قرارداد کی حمایت جبکہ دوسری مرتبہ مخالفت کی۔سینٹر بہرہ مند تنگی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا انہیں غالباً سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا کرنا ہے
قرارداد کے مطابق الیکشن کے انعقاد کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ صحت ایک بارپھر کورونا وبا کے پھیلنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ چھوٹے صوبوں میں الیکشن مہم کو چلانے کے لئے مساوی حق دیا جائے۔ الیکشن کمیشن شیڈول معطل کرکے ساز گار ماحول کے بعد شیڈول جاری کرے۔
سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں بھی انتخابات کا عمل نہیں رکا۔ انتخابات ملتوی کروانے والوں نے 2013 اور 2018 میں الیکشن ملتوی کروانے کی بات نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے کہا 8 فروری کو الیکشن پتھر پر لکیر ہے۔ہم 8فروی کو الیکشن کرائیں گے۔ہم ڈرنے والے نہیں۔
اس دوران پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے بھی ایوان میں پہنچ کر سینیٹر دلاور خان سے ملاقات کی جبکہ پیپلز پارٹی کے ہی دوسرے سینیٹر شہادت اعوان بھی ایوان پہنچے۔ پلوشہ خان اور شہادت اعوان نے چئیرمین سینیٹ سے فلور مانگا تاہم انہوں نے فلور نہ دیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے مخالف آوازوں کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔
پیپلز پارٹی کے سینٹر تاج حیدر نے سینیٹ میں پیش گئی قرارداد کی مذمت کی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پاس کی گئی قرارداد جمہوریت کے خلاف سازش ہے، قرارداد کی صورت میں اسرائیل کی طرح سینیٹ پر بم گرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے آج سازشی کردار ادا کرکے سینیٹ کو سازش کا گھڑ بنا دیا ہے، سینیٹ میں پیش گئی قرارداد ایجنڈا میں شامل نہیں تھی، قرارداد کے خلاف سینیٹ قرارداد پیش کرکے اس قرارداد کو رد کروایا جائے گا۔




