فیصلہ ہو گیا، پی ٹی آئی کو بلا نہیں ملے گا


لیول پلئینگ فیلڈ مانگنے والوں نے اپنے ارکان کو لیول پلئینگ فیلڈ نہیں دی
یا اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالے جانے کا لیٹر نہیں ہے، انٹرا پارٹی الیکشن کے کاغذات نامزدگی نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کی نامزدگی کا لیٹر بھی نہیں ہے،علی ظفر کا اعتراف
کسی کو لیول پلیئنگ فیلڈکے نام پر ترجیح نہیں دی جاسکتی،پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ میں نہیں بتایا کہ ایسی ہی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں پانچ رکنی بینچ کے سامنے زیر التوا ہے
پوری باڈی مقابلے کے بغیر آئی،کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے ہی نہیں دیا، یہ بات واضح ہوگئی کہ اکبر ایس بابر بانی رکن تھے لیکن پھر آپ نے آئین بدل لیا
ثابت نہیں ہوتا پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے5 صفحات کاتحریری فیصلہ چیف جسٹس پاکستان نے تحریرکیا اور انہوں نے ہی پڑھ کر سنایا
تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ڈرامہ تھے، پی ٹی آئی کو جس طرح سیاسی جماعت بنایا گیا انہوں نے سیاسی جماعت بن کر نہیں دکھایا،وہ اپنے ہی کھودے گڑھے میں گر گئی، مختلف رہنماؤں کا ردعمل


اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے تحت تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کے کیس کا فیصلہ رات گیارہ بجے کے بعد سنایا۔قبل ازیں کیس پر نو گھنٹے سے زائد سماعت ہوئی جو شام سات بجے کے بعد تک جاری رہی۔جس کے بعد ساڑھے نو بجے فیصلے سنانے کا اعلان ہوا جو رات گیارہ بجے کے بعد سنایا گیا۔کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل تھیں، فیصلہ متفقہ طور پر سنایا گیا۔
پی ٹی آئی پر الزام تھا کہ اس نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے پوری باڈی مقابلے کے بغیر آئی،کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے ہی نہیں دیا۔اکبر ایس بابر رکن تھے لیکن انہیں لڑنے نہ دیا گیا۔جس پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کو بلیکا نشان بحال کرنیکا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، فیصلے کے تحت پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قراردیا کہ ثابت نہیں ہوتا پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے5 صفحات کاتحریری فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے تحریرکیا اور انہوں نے ہی پڑھ کر سنایا۔فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹراپارٹی انتخابات کرانیکا نوٹس 2021 میں کیا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جون 2022 تک انتخابات کرانیکا وقت دیا، الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا کہا، بصورت دیگر انتخابی نشان لینے کا بتایا گیا، پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ 5 رکنی بینچ بنا جو زیر التوا ہے، پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابات کرا کر بھی لاہور ہائی کورٹ میں اپنی درخواست واپس نہیں لی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 22 دسمبر تک پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن پر فیصلہ کرنے کو کہا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو کہا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں کرائے، الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات درست نہ کرانے پر انتخابی نشان پی ٹی آئی سے لیا، لاہور ہائی کورٹ کے سنگل جج نے 3 جنوری کو فیصلہ دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی نے درخواست دائر کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ ایسی ہی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں پانچ رکنی بینچ کے سامنے زیر التوا ہے، ایک معاملہ ایک ہائی کورٹ میں زیر التوا ہو تو دوسری ہائی کورٹ میں نہیں چیلنج ہوسکتا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا، عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13جماعتوں کے انتخابی نشان لیے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کرائے، پی ٹی آئی کے14 اراکین کی درخواست یہ کہہ کر ہائی کورٹ نے مسترد کی کہ وہ ممبران ہی نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جمہوریت سے وجود میں آیا، پاکستان میں آمریت نہیں چل سکتی، ثابت نہیں ہوتا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو انٹراپارٹی انتخابات کرانا ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کہاں کرا رہے ہیں، پشاور ہائی کورٹ کا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کو برا کہنا ان کے سامنے درخواست سے تجاوز تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے دو سوالات ہیں کہ کیا عدالتی دائرہ اختیار تھا یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی الیکشن کی چھان بین کا اختیار ہے یا نہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائیں یا نہیں، ہماری مرضی،کسی کو لیول پلیئنگ فیلڈ کے نام پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، تحریک انصاف میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے، پوری باڈی مقابلے کے بغیر آئی،کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے ہی نہیں دیا، یہ بات واضح ہوگئی کہ اکبر ایس بابر بانی رکن تھے لیکن پھر آپ نے آئین بدل لیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر 6 پینل تھے اور 6 کے 6 منتخب ہوگئے تو پھر اجتماع کی کیا ضرورت تھی۔ تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں لیڈر کی عزت کے تحت لوگ ان کے فیصلے کی مخالفت نہیں کرتے، پی ٹی آئی کے پاس بانی پی ٹی آئی جیسی قیادت ہے جس کے فیصلے پر لوگوں نے اعتراض نہیں کیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معذرت کے ساتھ پھر یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے، وہ اسے آمریت کہیں گے،کچھ عہدے داروں پر اعتراض نہ ہو سمجھ آتی ہے، مگر کسی پر اعتراض نہ ہونا سمجھ سے باہر ہے، اب اگر 8 فروری کے انتخابات میں پارلیمنٹ میں 326 لوگ بلا مقابلہ آجائیں تو کیا وہ الیکشن ہوگا؟ عقل و دانش بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں، اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی انتخابی نشان دے دیں اس کے لیے بھی تیار ہیں، پارٹی کے انتخابی نشان کے بغیر امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے، ہر امیدوار کا الگ نشان ہو تو مسئلہ ہوگا۔
تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ہدف پی ٹی آئی کا بلے کا نشان ہے، بلے کا نشان لینا ان ووٹرز کو چوائس سے محروم کرنا ہے جو پی ٹی آئی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کے ساتھ دُہرا معیار ہے، آج کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہی امتیازی سلوک کی واضح مثال ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی یہ دلیل بڑی ڈرامائی ہے، مگر کیا یہ دلیل آپ نے ہائی کورٹ میں دی تھی؟ چیف جسٹس نے حامد خان سے کہا کہ اگر صرف الیکشن کمیشن آتا تو ہم چھوڑ دیتے، اب اکبر ایس بابر سامنے کھڑے ہیں تو ہم کیا کریں، اگر آپ کو غیر قانونی نکالا جائے تو آپ کیا کریں گے۔
دوران سماعت علی ظفر نے تسلیم کیا کہ اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالے جانے کا لیٹر نہیں ہے، انٹرا پارٹی الیکشن کے کاغذات نامزدگی نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کی نامزدگی کا لیٹر بھی نہیں ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا سب چھوڑیں یہ بتادیں الیکشن ہوا بھی ہے یا نہیں؟ تمام پارٹی اراکین کو یکساں موقع ملا یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کو کاغذ کا ٹکڑا دکھا کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لو انتخابات کرا دیے، پی ٹی آئی تو
کاغذات نامزدگی کی فیس کا بھی کوئی کاغذ نہیں دکھا رہی، پی ٹی آئی وکلا سوالات کا جواب نہیں دیں گے تو مجبوراً پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنا ہوگا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہر کوئی اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کرتا ہے، اصل نام فوج ہے، ہمیں کھل کر اور مکمل بات کرنی چاہیے۔ بظاہر آج فوج کی مداخلت نظر نہیں آرہی، ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بالکل واضح اور سخت ترین رہا، پی ٹی آئی اگر صرف الزام تراشی اور سیاسی ڈرامہ کرنا چاہتی ہے تو ادارے کم زور ہوں گے، پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا آپ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دباؤ ہے تو اس کو ثابت کریں، اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالیگی؟ آپ جب بدنیتی کا الزام لگاتے ہیں تو بتائیں کہ بدنیتی کہاں ہے؟ عدالت آئینی اداروں کو کنٹرول تو نہیں کرسکتی، صرف میڈیا پر الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرنا کافی نہیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔
پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ فیصلے کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر تحفظات ہیں اور وہ اس کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کریں گے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات کی الائٹمنٹ کے وقت میں چھ بار توسیع کرنا پڑی۔
الیکشن کمیشن کی اپیل پر پی ٹی آئی کے بلے کے نشان اور انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق کیس کے فیصلے کے بارے میں مختلف رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ڈرامہ تھے، پی ٹی آئی کو جس طرح سیاسی جماعت بنایا گیا انہوں نے سیاسی جماعت بن کر نہیں دکھایا۔
تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ڈرامہ تھے: خواجہ آصف
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون اور قاعدے کے مطابق ہے، سب کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک کیس کو دو عدالتوں میں لے کر گئے تھے، تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ڈرامہ تھے، ماضی میں ہماری جماعت سے بھی انتخابی نشان لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جماعتوں میں جمہوریت کیلئے انٹراپارٹی الیکشن شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں۔
ماضی میں اسی عدالت سے پی ٹی آئی کو انصاف ملتا رہا: جاوید لطیف
ن لیگ ہی کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ جو ماضی میں ہمارے ساتھ ہوا وہ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، ماضی میں اسی عدالت سے پی ٹی آئی کو انصاف ملتا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو جس طرح سیاسی جماعت بنایا گیا انہوں نے سیاسی جماعت بن کر نہیں دکھایا۔
پی ٹی آئی اپنے ہی کھودے گڑھے میں گرگئی:قمر زمان کائرہ
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے ہی کھودے گڑھے میں گرگئی ہے، پی ٹی آئی نے جس طرح انٹراپارٹی الیکشن کرائے وہ مشکوک تھے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سمجھ جانا چاہیے کہ چیزیں اب ان کے مطابق نہیں رہیں قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی اس معاملے پر غور کرکے ردعمل دے گی۔
تحریک انصاف کے مؤقف میں تضاد تھا: فیصل سبزواری
مترحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ خوش آئند نہیں کہ ایک سیاسی جماعت کو اس کا انتخابی نشان نہ ملے لیکن براہ راست سماعت سے معلوم ہوا کہ تحریک انصاف کے مؤقف میں تضاد تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر جمہوری جماعت کو انٹراپارٹی الیکشن کرانے چاہیے۔
تحریک انصاف اب قومی دھارے سے باہر آگئی ہے: سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ تحریک انصاف مجموعی طور پر اب قومی دھارے سے باہر آگئی ہے، پارٹی کا نام تحریک انصاف تو رہے گا لیکن قومی اور صوبائی اسمبلی میں ان کی نشستیں آزاد امیدوارکی حیثیت سے آئیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستیں بھی اب ختم ہوگئی ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔