دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی سے اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ ہوگا
معاملات کو تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی ضرورت،تعلقات ایسے نہ بگڑنے چاہیے کہ بحال نہ ہوسکیں
ایران کی جانب سے معاملات کو سلجھانے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہ آنے پر پاکستان نے بھی مجبورا جوابی وار کر دیا
ایران مخالف ممالک اور بعض ایرانی رہنماؤں کے بیانات جلتی پر تیل چھڑک رہے ہیں،چین کی جانب سے ثالثی کی پیشکش قابل تحسین
اسلام آباد(رپورٹ: محمد رضوان ملک) پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ بڑھتی کشیدگی کے باعث اسلامی دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اس کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب سولہ جنوری کو ایران نے پاکستان کی حدود کے اندر بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جس میں دو بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔اس موقع پر ایران کے کسی بھی سنئیر عہدیدار نے معاملات کو حل کرنے کی کوشش نہ کی بلکہ امریکہ اور دیگر ایران مخالف ممالک کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے جلتی پر تیل چھڑکا۔
حتیٰ کہ واقعہ کے چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود کسی ایرانی اہلکا ر نے نہ صرف اس واقعہ کی مذمت نہیں کی بلکہ جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے اسے اپنے غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اس پر ڈٹے رہے جس کے جواب میں پاکستان نے اٹھارہ جنوری کو جمعرات کی صبح ایران کے اندر دہشت گردی کے ٹھکانوں پر میزائل حملے کئے اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں پاکستان پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی نشانہ بنایا گیا ہے۔
قبل ازیں پاکستانی دفتر خارج کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، اس کے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی خطے کے تمام ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے جس کیلئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے، اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پاکستانی سفیر کو ایران سے وطن واپس بلالیا گیا جبکہ ایرانی سفیر جو اس وقت ایران میں ہی موجود تھے انہیں کہا گیا کہ وہ پاکستان نہ آئیں۔دونوں ممالک نے آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے معطل کر دئیے جبکہ ایران میں موجود گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو بھی دورہ مختصر کر کے وطن واپس آنا پڑا۔
یہاں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایران نے نہ صرف پاکستان بلکہ عراق اور شام پر بھی حملے کئے ہیں۔دنیا اور خطے میں تنہاء ہوتے ایران کے یہ اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں کہ وہ معاملات کو سلجھانے کی بجائے کشیدگی کو کیوں بڑھا رہا ہے۔
پاکستان کی طرح ایران میں بھی عام انتخابات سر پر ہیں پاکستان میں عام انتخابات اگر آٹھ فروری کو ہو رہے ہیں تو ایران میں یکم مارچ کو عام انتخابات ہیں اور ایسی حکومتیں جو خود چند دنوں کی مہمان ہیں ان کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے امن کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور دونوں ممالک کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسلام مخالف دشمن اس موقع سے کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ کسی اسلامی ملک کی جانب سے تاحال معاملا ت کو سلجھانے کے حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا اس وقت کس قدر تنہائی اور افراتفری کا شکار ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے سدابہار دوست اور قابل اعتماد پڑوسی چین کا کردار اہم ہے۔اس نے نہ صرف دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ تحمل سے کام لیا جائے بلکہ اس نے دونوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے جو قابل ستائش ہے۔
امید ہے کہ چین ایران اور پاکستان پر اپنے اثر ورسوخ کو استعمال میں لاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرادے گا اور اس خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ بڑھنے نہیں دے گا۔ چین کو اس کام میں مہار ت حاصل ہے اور یہ اس کی ضرورت بھی ہے۔ قبل ازیں وہ سعودی عر ب اور ایران کے درمیان بھی ثالثی کراچکا ہے۔
۔

