
دبئی:مصروف لوگوں کی بڑھتی مصروفیات کے باعث فضائی ٹیکسی کے استعمال کی خبریں کافی دنوں سے سامنے آرہی تھیں اور مختلف کمپنیاں اور ممالک اس حوالے سے کام کر رہے تھے۔ تاہم متحدہ عرب امارات اس معاملے میں بازی لے گیا ہے اور یو اے ای کا دل تصور کئے جانے والے شہر دبئی میں دنیا کی پہلی فلائنگ ٹیکسی سروس بس شروع ہونے ہی والی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک سفر کرنے کے لئے جہاز میں بیٹھنا امارت اور تعیش کی علامت تصور کیا جاتا تھا، اب یہ شہر کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ میں آنے جانے کے لئے ایک ضرورت بن گیا ہے۔ جی ہاں کم فاصلوں کے تیز رفتار سفر کے لئے ائیر ٹیکسی اب ایک تصور نہیں حقیقت ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقی کا یہ خوابناک سنگِ میل سب سے پہلے عبور کرنے والے ترقی کی شاہراہ پر سب سے پہلے قدم رکھنے والے یورپی یا امریکی نہیں بلکہ وہ ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے "بدو” کہا جاتا تھا۔
متحدہ عرب امارات کا دل تصور کئے جانے والے شہر دبئی میں دنیا کی پہلی فلائنگ ٹیکسی سروس بس شروع ہونے ہی والی ہے۔ امریکہ کی ایک کمپنی ” جوبی ایوی ایشن” دبئی میں فلائنگ ٹیکسی سروس شروع کرنے کے آخری انتظامات کو تیزی سے مکمل کر رہی ہے۔ امریکی کمپنی نے اس فیوچرسٹک بزنس کے لیے رواں سال کے شروع میں متحدہ عرب امارات سے شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔
جوبی ایوی ایشن کمپنی کی صدر ایک خاتون بونی سیمی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مقابلے میں دبئی نے اس حوالے سے سب سے زیادہ پیش رفت کی ہے اور اسی لیے ہم اپنی ائیر ٹیکسی سروس کا آغاز دبئی سے کریں گے۔کمپنی کی جانب سے دبئی میں 2025 میں ائیر ٹیکسی کے ابتدائی آپریشن شروع کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ابتدا مین یہ سروس صرف مخصوص گاہکوں کو مہیا کی جائے گی اور تمام کنزیومرز کے لئے کمرشل سروس 2025 کے آخر تک دستیاب ہوگی۔
بونی سیمی نے بتایا کہ دبئی حکومت کی جانب سے اس فیوچرسٹک بزنس کے لئے مالی تعاون بھی کیا جائیگا جبکہ ریگولیٹرز کی جانب سے سروس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔بونی سیمی نے بتایا کہ دبئی انتظامیہ کے تعاون کی وجہ سے ہمیں سروس کے آغاز میں ممکنہ مالی نقصان کا خطرہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 4 ایسی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی جو کسی ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی ٹیک آف اور لینڈ کر سکتی ہوں گی۔
دبئی میں ابتدا میں ان اڑنے والی گاڑیوں ک کی لینڈنگ کا انتظام چند مقامات پر ہی کیا جائے گا جن میں دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ، برج خلیفہ اور پام جمیرہ وغیرہ سر فہرست ہوں گے، بعد میں بہت سی مزید بلند عمارتوں پر ان فلائنگ کاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ پیڈ تعمیر کئے جا سکیں گے۔
فضائی ٹیکسی کا خوابناک کاروبار، دبئی بازی لے گیا




