
اسلام آباد:کھجور ایک مکمل غذائی ٹانک ہے اوررمضان المبارک میں مسلمان اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں جس سے ان کی توانائی بحال رہتی ہے ۔روزانہ تین کھجوریں کھانا صحت کے لئے انتہائی مفید ہے۔ ویسے تو کھجو رکا موسم دسمبر سے جنوری تک ہوتا ہے لیکن رمضان المبارک میں عالم اسلام میں اس کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔مسلمان اس سے روزہ افطار کرتے ہیں تاکہ ان کی توانائی بحال رہے۔
آج کل رمضان المبار ک میں گھر یا باہر بازار میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے کھجور۔خشک اور تازہ کھجوریں تو سال بھر مل جاتی ہیں لیکن بہترین تازہ کھجور ملنے کا وقت نومبر اور جنوری کے درمیان ہے۔
کھجور کھانا سنت نبوی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ افطار یا عام دنوں میں بھی روزانہ صرف 3 کھجوروں کو کھانا صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھجوریں ٹرائی گلیسڈر کی سطح اور تکسیدی تنائو کو کم کرتی ہیں، یہ دونوں امراض قلب کا باعث بننے والے مرکزی عوامل ہیں، کھجوروں میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دل کے مسائل سے بھی تحفظ ملتا ہے۔
کھجوروں کو کھانے کی عادت ہاضمے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار کم کرتی ہے جن کا آنتوں میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جو لوگ کھجوروں کو کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو آنتوں میں کینسر زدہ خلیات کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔
کھجور کھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، ان میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جبکہ بلڈگلوکوز کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھجوروں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرکے ہاضمہ تیز کرتے ہیں جس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے۔
کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے، جس سے خون کی کمی جلد دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کھجور کے استعمال کے حوالے سے ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کھجوروں میں کاربن موجود ہے جو ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، ایک اور تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ کھجور میں موجود منرلز جیسے فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیئم اور میگنیشم ہڈیوں کو مضبوط بناکر ہڈیوں کے بھربھرے پن جیسے امراض کے خلاف لڑتا ہے۔ہڈیوں میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کے مناسب افعال کے لیے بہت ضروری جز ہے۔ فائبر کے استعمال سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے جبکہ آنتوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ روزانہ کھجور کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا نظام ہاضمہ دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔
کھجوروں میں وٹامن بی سکس بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جسم میں سیروٹونین اور norepinephrine بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ سیروٹونین مزاج کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ norepinephrine تنائو سے لڑتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن بی سکس کی جسم میں کم مقدار اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، وٹامن بی سکس کا زیادہ استعمال صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن کو بھی تیز کرتا ہے۔
فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی کھجور کو بہترین پھل بناتی ہے، جبکہ اس میں موجود شکر اور گلوکوز جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھجور صرف جسمانی توانائی ہی نہیں بڑھاتی بلکہ یہ اسے برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
کھجور آخری نبی محمد ۖ کی مرغوب غذا ہونے کے باعث عالم اسلام میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔ یہ صحت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کو بھی تروتازہ رکھتی ہے۔
نبی رحمت ۖ کے مرغوب پھل کھجور کے حیرت انگیز فوائد



