کوہ نور سکول کے پرانے دوستوں کی ایک خوشگوار ملاقات

آنا تو کافی سارے دوستوں نے تھالیکن مجبوریوں نے کورم پورا نہ ہونے دیا
وسیم، شفیق، رضوان،ظہیر الدین اور فضل ربی نے چند گھنٹے ساتھ گزارے اور ماضی کی یادوں کو تازہ کیا
ظہیر الدین نے حسب روایت لطیفے سنا کر ماحول کو شگفتہ رکھا، وسیم نے بھی پٹھان والا سنا کر اپنا حصہ ڈالا
دوستوں نے پی ٹی صاحب کا کمرہ ،ایگزیمینیشن حال اور دھوبی گھاٹ دیکھا، چھوٹے سکول کا دورہ بھی کیا
رات آٹھ بجے خوشگوار محفل قہقموں کے طوفان میں ختم ہوئی ، کسی کا جانے کو دل نہ چاہ رہا تھا،بادل نخواستہ رخصت ہوئے
آنا تو کافی سارے دوستوں نے تھالیکن مجبوریوں نے کورم پورا نہ ہونے دیا، غیر حاضر دوستوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا

اسلام آباد:کوہ نور کالونی ہائی سکول راولپنڈی کے سال 1986/87 کے میڑک کے کلاس فیلوز نے اپنی گوناگو مصروفیات میں سے وقت نکال کر پرانی یادیں تازہ کرنے کے لئے اپنے مادر علمی کا ایک تفریحی دورہ کیا اور کچھ وقت ساتھ گزار کر باہم کمپنی کا لطف اٹھایا۔
شا م پانچ بجے شروع ہونے والی یہ ملاقات رات آٹھ بجے تک جاری رہی۔وسیم، شفیق، رضوان،ظہیر الدین اور فضل ربی نے چند گھنٹے ساتھ گزارے اور ماضی کی یادوں کو تازہ کیا،شام پانچ بجے سکول کے باہر ملاقات کا آئیڈیا وسیم کا تھا جو خصوصی طور پر لاہور سے اس ملاقات کے لئے آئے تھے۔ ان خوش گپیوں کے دوران غیر حاضر دوستوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا۔
دوستوں نے پہلے چھوٹے سکول کا دورہ کیا اور بپچن کی خوبصورت یادوں کو تازہ کیا۔ آنا تو کافی سارے دوستوں نے تھے لیکن مجبوریوں نے کورم پورا نہ ہونے دیا۔
سکول بند ہونے کے باعث گیٹ کے سامنے تصاویر بنوائیں ،پتہ چلا کہ اب ممکنہ دہشت گردی کے باعث سکول کا مین گیٹ تو بند ہی رہتا ہے ۔البتہ ساتھ ایک چھوٹا نیا دروازہ آمد و رفت کے لئے نکال دیا گیا ہے۔
سکول کے سامنے تصاویر بنوانے کے بعد دوستوںنے سکول کے گرائونڈ کا دورہ کیا،جہاں دھوبی گھاٹ دیکھا ، سکول کے پی ٹی ماسٹر فرید صاحب کا کمرہ بھی خصوصی طور پر دیکھا اور ان کی طلباء کے ساتھ شفقت کو سراہا، کھڑکیوں سے جوبلی حال کا نظارہ کیا،سکول کے پچھلے لان میں ماسٹر حنیف صاحب کے اوپن کلاس روم کا جائرہ لیا اور سکول سے ملحقہ پارک کا دورہ کر کے آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اس وقت موسم بھی خواشگوار تھا، کالونی گیٹ اور کوہ نورمل کے گیٹ تک بھی واک کی۔ ڈاکٹر شفیق صاحب نے کالونی میں اپنا پرانا مکان بھی دکھایا۔
کئی سالوں سے لڑکیوں کے سکول کی طرف جانے کی معصوم خواہش آج بھیبوجہ پوری نہ ہوسکی۔
خیبر پیالہ ہوٹل بند ہونے کے باعث ، چائے کے لئے ایوب ڈرائیور ہوٹل کا انتخاب کیا گیا۔پھر چائے کے دوران خوش گپیوں کا ایک اور دور چلا ،ظہیر الدین نے حسب روایت لطیفے سنا کر ماحول کو شگفتہ رکھا، وسیم نے بھی پٹھان والا سنا کر اپنا حصہ ڈالا۔
پانچ بجے شروع ہونے والی یہ ملاقات رات آٹھ بجے اختتام پذیر ہوئی کسی کا بھی جانے کو دل نہ چاہ رہا ہے لیکن پھر ایک بھرپور ملاقات کے وعدے کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی ۔ہر ایک کی مجبوریاں تھیں۔