ایک طرف وہ مذاکرات بھی فوج اور آئی ایس آئی سے چاہتے ہیں اور دوسری طرف بے وفائی کا رونا بھی روتے ہیں
اگر آپ سویلین بالادستی چاہتے ہیں تو فوج سے مذاکرات کی بات کرنا ملک میں سویلین بالادستی کے خواب کو چکنا چور کرنا ہے
بانی پی ٹی آئی کی فوری رہائی کا شارٹ کٹ طریقہ تو یہی ہے لیکن اس شارٹ کٹ کے چکر میں کہیں سویلین بالادستی کا طویل راستہ بھی گم نہ ہوجائے
اسلام آباد(تبصرہ:محمدرضوان ملک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت صرف اور صرف آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مذاکرات کرے گی کیونکہ موجودہ حکمرانوںکے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں حکومت پر تنقید کرتے شہریار آفریدی کا کہنا تھاکہ یہ خود محتاج ہیں، ریموٹ کنٹرول سے کنٹرول ہوتے ہیں، فارم 47 کے ذریعے ایوان میں آگئے ہیں، عوام نے انہیں مسترد کردیاہے، یہ مسترد شدہ لوگ ہیں، یہ ہم سے کیا مذاکرات کریں گے؟
اب سمجھ نہیں آتی کہ ان کے اس بیان کے پیچھے مقصد فوج کو بدنام کرنا ہے کہ وہ سویلین کو اختیار ات نہیں دیتے یا وہ حکمرانوں پر تنقید کر رہے ہیں ۔اگر وہ سیاستدانوں سے مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نہ تو اس کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ اس کے لئے کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ ملک میں سویلین بالادستی ہو۔اگر آپ حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں سویلین بالادستی ہو تو آپ کو فوج کی بجائے سویلین لوگوں سے مذاکرات کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اسی روش کے باعث ایک روز قبل عدالت نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰ بی بی فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بیان بازی نہیں کریں گے اور اگر وہ ایسا کریں تو میڈیا کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اسے رپورٹ نہ کرے۔ لیکن پی ٹی آئی رہنمائوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ہم مذاکرات کریں گے، آرمی چیف اور ڈی جی آئی کے ساتھ، ان لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ نے سپورٹ کیا ہے، میرا لیڈر کوئی این آر او نہیں چاہتا، پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے مذاکرات چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، بدترین دھاندلی کے باوجود یہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں، ان میں اخلاقی جرات ہے تو خود کہیں کہ ہمیں عوام نے ووٹ نہیں دیا، حکومت چھوڑ دیں۔
ایک طر ف وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہمارا لیڈر کوئی این آر او نہیں چاہتا لیکن دوسری طرف وہ سہولت حاصل کرنے کے لئے مذاکرات بھی چاہتے ہیں۔ساتھ ہی وہ یہ گلہ بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ ہماری خواہش کے باوجود وہاں سے کئی رسپانس نہیں آرہا۔ایک طرف وہ کہتے ہیںکہ فوج نے انہیں نکالا اور دوسرے طرف وہ فوج ہی کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ۔یعنی بیمار ہوئے جس کے سبب اسی سے دوا چاہتے ہیں۔
ماضی کی طرح انہوں نے اللہ کا نام لے کر اور درود شریف پڑھ کر یہ بیان دیا ہے ۔ایسا ہی انہوں نے ماضی میں رانا ثناء اللہ پر ہیروئن کا کیس ڈالتے ہوئے بھی اللہ رسول کو گواہ بنا کر الزام لگایا تھا لیکن سوائے کلمے پڑھنے کے اسے ثابت نہ کر سکے تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ میرے لیڈر کی پہلے دن سے خواہش تھی کہ انگیج کریں، میرا لیڈر انگیج کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی رسپانس نہیں آتا، رسپانس آتا تو سب کوپتاچلتا، یہ ملک، فوج اور ادارے میرے ہیں، فوج سے مذاکرات ہوں گے اور بہت جلد ہوں گے۔
اب یہ با ت شہریار آفریدی کو کون سمجھائے اگر آپ سویلین بالادستی چاہتے ہیں تو فوج سے مذاکرات کی بات کرنا ملک میں سویلین بالادستی کے خواب کو چکنا چور کرنا ہے ۔یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی نافرمانیوں کے باوجود فوج ایک بار پھر آپ کے سر پر دست شفقت رکھے چاہیے اسے آپ کی اس ضد کے لئے اپنی ساکھ کو ہی کیوں نہ دائو پر لگانا پڑے۔لیکن بدقسمتی سے فوج انہیں اب اقتدار میں آنے کے لئے اپنا کندھا دینے کو فی الحال تو بالکل تیار نہیں ہے ۔
ان کے لیڈر جیل میں ہیں اور ان پر کئی کیسز ہیں پی ٹی آئی والے یہ نہ بھولیں کہ ملک میں سویلین بالادستی کے لئے انہیں سویلین لوگوں سے ہی مذاکرات کرنا ہوگے۔تحریک انصاف کے رہنمائوں اور خود بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ ہر صورت فورا اپنی رہائی چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر شارٹ کٹ طریقہ اپنانا چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اگر آرمی چیف کسی طرح نظر کرم کر دیں تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی فوری ممکن ہے ۔لیکن انہیں یاد رکھنا چاہے کہ کہیں شارٹ کٹ کے چکر میںملک میں سویلین بالادستی کا طویل راستہ بھی گم نہ ہو جائے۔


