
اسلام آباد: روس اور چین کے بعد ڈالر کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ہندوستان اور نائیجیریا تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں کے استعمال پر متفق ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ برکس دوسرے ترقی پذیر ممالک کو مقامی کرنسیوں کو استعمال کرنے اور عالمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کو ختم کرنے پر قائل کر رہا ہے۔ یہ اتحاد ڈالر کے خاتمے کے اقدام کی قیادت کر رہا ہے جس میں دیگر ممالک سے امریکی ڈالر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ چین، روس اور بھارت سرفہرست تین ممالک ہیں جو اپنی مقامی کرنسیوں کو امریکی ڈالر سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر برکس تجارت کے لیے ڈالر کو کم کرتا ہے تو امریکا کے کتنے شعبے متاثر ہوں گے۔
ڈالر کی تخفیف کے ایجنڈے کے تحت، برکس کے رکن بھارت اور افریقی ملک نائیجیریا نے دو طرفہ تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں کو استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے نہ کہ امریکی ڈالر۔ دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت زیادہ تر ادائیگیاں مقامی کرنسیوں میں طے کی جائیں گی جو امریکی ڈالر کے لئے زہر قاتل ہے ۔
دوسری طرف نائجیریا نے برکس میں شامل ہونے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دی ہے اور اس گروپ کا حصہ بننے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ہندوستان اور نائیجیریا توانائی، دواسازی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے باہمی تجارتی معاہدے میں مقامی کرنسیوں کا استعمال کریں گے۔
واضح رہے کہ مالی سال 2022-23 میں ہندوستان اور نائیجیریا کے درمیان باہمی تجارت $11.8 بلین رہی۔مالی سال 23-24 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 7.89 بلین ڈالر تک پہنچ گئی فریقین نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مقامی کرنسی سیٹلمنٹ سسٹم کے معاہدے کے جلد اختتام پر اتفاق کیا۔” اگر برکس ڈالر کا استعمال کیے بغیر نئے ممالک کے ساتھ معاہدے کرنا شروع کر دیتا ہے تو امریکی معیشت خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگلے چند سال امریکی ڈالر کے امکانات کے لیے چیلنجنگ ہوں گے۔
برکس کے ممبران 2022 سے ڈالر کے خاتمے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نئے ممالک تلاش کر رہے ہیں اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ بلاک کا بنیادی مقصد امریکی ڈالر کو دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر اکھاڑ پھینکنا اور اسے مقامی کرنسیوں سے تبدیل کرنا ہے۔
ڈالر کو ایک اور جھٹکا،بھارت اور نائیجیریامقامی کرنسی میں تجارت پر متفق




