بانی پی ٹی آئی نے پیٹ میں چھر ا گھونپا،نوازشریف

اگر سیاستدانوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو کرپٹ ججز کا کیوں نہیں
م تھوڑا سا گلہ قوم سے بھی ہے کہ جب مجھے ہٹایا گیا تو وہ خاموش بیٹھی رہی
سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں نوازشریف اپنے اور قوم کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر پھٹ پڑے


لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ان کی پیٹ میں چھرا گھونپا،اگر سیاستدانوں کا احتساب ہو سکتا ہے تو کرپٹ ججز کا کیوں نہیں ہو سکتا، پاکستانی قوم سے گلہ ہے کہ جب انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو وہ خاموش بیٹھی رہی۔لاہور میں پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے تھوڑا سا گلہ قوم سے بھی ہے، میں دل کی بات کر رہا ہوں۔ ایک وزیراعظم کو جھوٹے کیس میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں فارغ کر دیا جاتا ہے اور قوم خاموش بیٹھی رہی۔نواز شریف نے اپنے دور کا اور اس وقت مہنگائی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ قوم سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کس کے دور میں چیزوں کی قیمتیں کم تھیں اور کس کے دور میں اضافہ ہوا۔
قوم سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ ووٹ دیتے ہوئے سوچتے ہیں نواز شریف کی کارکرگی کیا تھی اور مخالفین کی کیا تھی۔انہوں اس بات کو دہرایا کہ انہیں اقتدار سے کیوں نکالا گیا اور کہا کہ ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے ملک کو تباہ و برباد کیا۔
نواز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کہا کہ 2013 میں الیکشن جیتنے کے بعد میں بنی گالا عمران خان کے پاس گیا جب وہ 35 پنکچر کی رٹ لگا رہے تھے، اور ان سے کہا کہ ملک کی ترقی میں حصہ لیں۔ مل کر پاکستان کی خدمت کریں۔عمران خان نے کہا کہ بنی گالا کی سڑک بنا دیں، وہ ہم نے بنا دی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا۔ وہ لندن پہنچ گئے، جنرل ظہیر السلام بھی پہنچ گئے، پرویز الہی اور طاہر القادری بھی پہنچ گئے اور سازش کی گئی اور دھرنا دیا گیا۔
پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے پارٹی کے صدر کا الیکشن 28 مئی کو کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس دوران شہباز شریف قائم مقام صدر رہیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ن لیگ کے رہنما سیف الملوک کھوکھر نے بتایا کہ نوازشریف نے ہدایت کی ہے کہ 28 مئی کو جنرل کونسل کے اجلاس میں پارٹی صدارت کا فیصلہ کریںگے جو 28 مئی صبح ساڑھے گیارہ بجے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق سی ای سی اور حتمی منظوری جنرل کونسل کے اجلاس میں دی جائے گی۔ شہبازشریف کو مسلم لیگ ن کا قائم مقام صدر نامزد کر دیا گیا ہے۔سیف الملوک کھوکھر کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ خان کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ شہباز شریف نے گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن کے صدر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ صدر کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نواز شریف پارٹی صدر کی حیثیت سے اپنا جائز مقام دوبارہ حاصل کریں۔پنجاب کی سینیئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں اس پیش رفت کو شیئر کیا تھا۔
انہوں نے شہباز شریف کا 11 مئی 2024 کو پارٹی کے سیکریٹری جنرل کو بھیجا گیا استعفی بھی شیئر کیا تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 مئی کو پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جہاں نئے عہدے داروں کا انتخاب ہو گا۔ سب سے بڑی تبدیلی جو مسلم لیگ ن کرنے جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ نواز شریف دوبارہ پارٹی صدر بن رہے ہیں۔اس سے قبل تین مرتبہ مسلم لیگ ن اپنی جنرل کونسل کا اجلاس گذشتہ چند مہینوں میں بلا کر موخر کرتی رہی ہے۔سب سے پہلے گذشتہ برس نومبر میں یہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں نواز شریف کو صدر منتخب کیا جانا تھا، تاہم قریبی حلقوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی اپیلوں کے فیصلے کا انتظار کریں، یوں اس وجہ سے قانونی طور پر پارٹی لیڈرشپ کی تبدیلی کا عمل رک گیا۔عدالتی مقدمات سے بری ہونے کے بعد جنوری میں ایک مرتبہ پھر اس عمل کو انتخابات کی وجہ سے روک دیا گیا، اور پھر آٹھ فروری کے عام انتخابات کے غیرمتوقع نتائج کے بعد تیسری مرتبہ بھی معاملات جوں کے توں رہے۔گذشتہ دنوں جب نواز شریف چین کے نجی دورے پر گئے تو اس دوران رانا ثنااللہ کی صدارت میں پنجاب کے تنظیمی اجلاس میں ایک قراردار منظور کی گئی جس میں نواز شریف کو پارٹی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کی درخواست کی گئی۔یوں پارٹی صدرات کی تبدیلی کا عمل اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوا۔ اس مقصد کے لیے پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس 11 مئی کو رکھا گیا۔ اس سے قبل لاہور میں پارٹی کے صدر دفتر میں نواز شریف نے تین اجلاسوں کی صدارت کی اور یہ طے پایا کہ جنرل کونسل کا اجلاس 28 مئی کو بلایا جائے۔جو پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے کئے جانے ایٹمی دھماکوں کا د ہے ۔
ان اجلاسوں میں شریک مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کے مطابق یہ التوا تکینکی بنیادوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ 11 مئی کو جنرل کونسل کا اجلاس طے تھا لیکن پارٹی آئین کے مطابق اس سے پہلے پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس ہونا بھی ضروری تھا۔ اور سی ای سی کا اجلاس اتنے کم وقت میں بلانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے زیادہ تر ممبران نے تجویز دی کہ جنرل کونسل کا اجلاس 28 مئی کو رکھا جائے، کیونکہ یہ وہ دن تھا جب نواز شریف نے اس قوم کو ایٹمی طاقت بنایا تھا۔ اور یہ تجویز سب کو پسند آئی۔انہوں نے بتایا کہ اسی طرح سی ای سی کا اجلاس 18 مئی کو بلایا گیا ہے۔ یہ تجویز بھی زیرِغور رہی کہ جنرل کونسل کا اجلاس اسلام آباد یا کسی چھوٹے صوبے میں رکھا جائے لیکن آخر میں لاہور کا قرعہ ہی نکلا۔
خیال رہے کہ شہباز شریف 11 مئی کو صدارت کے عہدے سے استعفی دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے میں نواز شریف کو پارٹی صدارت کا اصل حق دار قرار دیا ہے۔نواز شریف پارٹی صدارت واپس لے کر کیا پالیسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی ہے ہی نواز شریف کی، اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور ہمارا خیال ہے کہ اس وقت پارٹی کو ان کی قیادت کی شدید ضرورت ہے۔ وہ ہمارے لیڈر ہیں، ان کی جماعت اقتدار میں ہے تو پارٹی کی ایگزیکٹو اتھارٹی بھی ان کے پاس ہونی چاہیے۔ جس طریقے سے ثاقب نثار نے ان سے ان کی پارٹی چھیننے کی کوشش کی تھی وہ سب کے سامنے ہے۔ اور پارٹی کی قیادت ان کے پاس واپس آنے سے یہ سکور بھی سیٹل ہو گا۔
یاد رہے کہثاقب نثار نے سنہ 2017 میں نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا۔ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں نوازشریف نے کھل کر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کے پاس ثاقب نثار کی وہ آڈیو بھی موجود ہے جس میں وہ کہ رہے ہیں کہ نوازشریف اور مریم کو باہر نہیں آنے دینا کیونکہ عمران کو لانا ہے۔
جب پنجاب کے تنظیمی اجلاس میں نواز شریف کو پارٹی صدارت دینے کی قرارداد منظور کی گئی تھی تو رانا ثنااللہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پارٹی کے اندر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کو اس الیکشن سے جان بوجھ کر باہر کیا گیا۔
مسلم لیگ ن کے ایک اور اہم رہنما رانا مشہود کا کہنا ہے کہ پارٹی کی صدارت میں تبدیلی اس لیے بھی اہم تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت دن رات ملکی مسائل کو حل کرنے میں صرف کر رہے ہیں، ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ پارٹی معاملات کو بھی دیکھیں۔ اور ویسے بھی میں سمجھتا ہوں کہ جس غیرمنصفانہ طریقے سے ان (نواز شریف) کو پارٹی صدارت کے عہدے سے ہٹایا گیا ان کی واپسی بھی ضروری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔