ملک ایجنسیاں چلائیں گی یا قانون کے مطابق چلے گا، جسٹس محسن اختر کیانی

یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں، اس کیس میں ایک مثال قائم ہونی ہے۔ شاعر احمد فرہاد لاپتا کیس میں ریمارکس
وفاقی وزیر قانون اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کی جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر شدید تنقید

اسلام آباد :شاعر احمد فرہاد لاپتہ کیس میں اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے منگل کو سہ پہر تین بجے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ادارے اگر 32 کلومیٹر کے شہر میں کام نہیں کرسکتے تو پھر ان کی ضرورت نہیں، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ پھر وزیر اعظم اور کابینہ کو بلائوں گا، ان کو کہوں گا بتائیں ایجنسیاں ملک چلائیں گی یا ملک قانون کے مطابق چلے گا، احمد فرہاد لاپتا کیس کو مثال بننا ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل صبح تک وقت مل جائے تو رپورٹ جمع کرا دیں گے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وزارت دفاع کا نمائندہ کہاں ہے؟، جس پر وزارت دفاع کی نمائندہ بریگیڈئیر فلک ناز عدالت کے سامنے پیش ہوئیں اور بتایا کہ آئی ایس آئی نے کہا ہے احمد فرہاد ان کے پاس نہیں ہے، آئی ایس آئی پر الزام تھا جس پر ہم نے ان سے پتا کیا ہے لیکن وہ انکار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں بندہ ان کے پاس نہیں ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ اب معاملہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اختیار سے باہر نکل گیا ہے، یہ ان کی ناکامی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کوئی کام ہی نہیں کر سکتے، میں سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو کل طلب کر رہا ہوں، سیکرٹری دفاع کل پیش ہو کرپورٹ دیں، سیکرٹری داخلہ کو بھی کہیں کہ وہ بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، ان کے تھانوں کے رجسٹر بھرے ہوئے ہیں آج تک کتنے بندے ریکور ہوئے؟ دونوں سیکرٹریز پہلے پیش ہوں گے، اس کے بعد وزیراعظم کو طلب کروں گا، بعد میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی عدالت آئیں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا کہنا ہے کہ پوری کابینہ کو یہاں بٹھا کر ان سے فیصلہ کرواں گا، ان کو کہوں گا بتائیں ایجنسیاں ملک چلائیں گی یا ملک قانون کے مطابق چلے گا، یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، یہ کیا طریقہ ہے کہ جب دل چاہا دروازہ کھٹکھٹا کر بندہ اٹھا لیا، ہمارے ادارے اگر ادارے 32 کلومیٹر کے شہر میں اپنا کام نہیں کر سکتے تو پھر ان کی ضرورت نہیں، ایک طرف میسج بھیجیں اور پھر کہیں کہ بندہ ہمارے پاس نہیں، کوئی ایک تو جھوٹ بول رہا ہے مگر ہسٹری بالکل کلیئر ہے کہ ہے کیا۔
دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی پولیس سے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا بیان لکھا ہے؟، ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے بتایا کہ ہم نے ضمنی لکھی ہے، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ کل باقاعدہ سیکٹر کمانڈر کا بیان لے کر عدالت میں پیش ہوں پھر میں اسے طلب کروں گا، سیکٹر کمانڈر کوئی چاند پر رہتا ہے بہت بڑی طاقت ہے؟ کیا حیثیت ہے اس کی؟ ایک گریڈ 17 یا 18 کا بندہ ہوگا آپ نے اسے کیا بنا دیا ہے، ابھی اس کیس کو مثال بننا ہے، یہ اغوا برائے تاوان سے زیادہ سنگین جرم ہے، عدالت ان کو ہدایت دے رہی ہے بندہ عدالت کے سامنے پیش کریں ، ان کو بتا دیں پٹشنر کو نہ میسج کرائیے گا، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکٹر کمانڈر کے بیان پر مبنی رپورٹ طلب کرلی اور لاپتا شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت آج منگل تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالتوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کے ریمارکس دیں ۔
اغوا کیس میں وزیر اعظم اور کابینہ ارکان کی عدالت طلبی کی بات جج کا مینڈیٹ نہیںہے وزارت دفاع کہہ چکی ہے کہ احمد فرہاد ان کے پاس نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رپورٹ ہوا کہ کابینہ کو یہاں بٹھا دیں گے، یہ پارلیمنٹ کی اہمیت کو کم کرنا ہے، ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے ۔ منصف ویسے بھی بہت تحمل مزاج ہوتا ہے۔ تحمل اور برداشت سے آئینی ذمہ داریاں ادا ہوں گی تو معاملات حل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر عسکری و دفاعی ذمہ داریاں بھی عدالتوں نے نبھانی ہے تو نظام کیسے چلے گا؟ جیسے ریمارکس رپورٹ ہوئے اس سے تکلیف ہوئی۔ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے پولیس کی معاونت کی جائے گی۔
دوسری طرف وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے شاعر احمد فرہاد سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارروائی پر کہا ہے کہ ریمارکس اور از خود نوٹس سے بڑی خرابی پیدا ہوتی ہے اور معاملات بگڑتے ہیں، جج صاحبان کا کام اس قسم کی تقریرکرنا نہیں ہے۔جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتیں صرف سوال اٹھانے تک محدود ہو جائیں تو فیصلے کون کرے گا؟
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو جب گردن سے پکڑ کر نکالا گیا اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں کیا ایجنسیوں کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے؟رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ حکومت اس حوالے سے قومی مفاہمت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، وزیراعظم بھی یہی چاہتے ہیں مگر کبھی پشاور سے تو کبھی اسلام آباد سے ہوائی فائرنگ شروع ہو جاتی ہے۔