
مظفرآباد…وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر سے متعلق بھارتی پراپیگنڈے کے توڑ کے لیے ضروری ہے کہ آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر تحریک کے حوالے سے بیس کیمپ کی حکومت کا موثر کردار بنایا جائے اس سلسلے میں حکومت جاندار کردار ادا کرے گی آزادکشمیر حکومت دونوں اطراف کی نمائندگی کرتی ہے دنیا ہماری آواز سن رہی ہے شرط یہ ہے کہ ہم مناسب طریقے سے اپنی آواز پیش کریں وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیئے منظم حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیریوں کی اپنی ہے اس حوالے سے بھارتی پراپیگنڈے کو اہمیت نہیں مل رہی یورپی ممالک اور ساری دنیا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کشمیر میں آ کر حالات کا از خود جائزہ لیں ۔پاکستان کشمیریوں کی منزل ہے کشمیریوں نے 1944میں قائداعظم محمد علی جناح کے دورے کے دوران جو رشتہ قائم کیا اس میں دراڑنہیں آئی مزید مضبوط تر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سڑک سے مظفرآباد الگ نہیں ہوا ۔ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری ہیں جب کشمیری اپنے مسئلے کو دنیا کے سامنے اٹھائیں گے تو دنیا ان کی بات سنے گی اور کشمیریوں کے موقف کو اہمیت دے گی مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور تارکین وطن سے موثر رابطوں کے لیے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اوورسیز سیل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے منگلا ڈیم کی رائیلٹی اور نیلم جہلم پراجیکٹ کے معاہدے پر جلد موثر پیش رفت ہو گی اس سلسلہ میں وزیراعظم پاکستان سے بات چیت ہو گئی ہے آزادکشمیر کے غیر ترقیاتی بجٹ کے ایشوز اور ریاستی معاملات یکسو کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر فنانس ڈویژن کا خصوصی اجلاس ایک دو روز میں منعقد ہو رہا ہے دورہ یورپ کا مقصد مسئلہ کشمیر کو یورپی یونین میں اجاگر کرنااور ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور پامالیوں کو بے نقاب کرنا تھا اس حوالے سے یہ دورہ کامیاب رہا اور یورپی ممالک میں ہماری بات سنی گئی تحریک آزادی کشمیر کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے تارکین وطن کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وزیراعظم میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کی ساری قیادت کو اعتماد میں لے کر تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیس کیمپ کی حکومت کے موثر کردار کا تعین کرانا چاہتے ہیں موجودہ حالات کے تناظر میں جب تک بیس کیمپ کی حکومت کا تحریک آزادی کے حوالے سے موثر کردار نہیں ہو گا تو دنیا ہماری بات نہیں سنے گی اس معاملے کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہتے یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور و غوض کی ضرورت ہے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہاکہ 9/11کے سانحہ کے بعد بھارت تحریک آزادی کے خلاف منفی پراپیگنڈے میں مصروف ہے بھارت اس وقت ایک بڑی تجارتی منڈی ہے ترقی یافتہ ممالک کے بھارت سے تجارتی مفادات وابستہ ہیں اور بھارت اپنی اس حیثیت کا عالمی سطح پر فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن جب کشمیری دنیا کے سامنے اپنی آواز بلند کریں گے تو دنیا ان کی آواز سنے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھے گا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں کوئی دوسرا معاہدہ مسئلہ کشمیر پر اثر انداز نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام یورپی پارلیمنٹ میں ہفتہ کشمیر کا انعقاد کیا گیا کشمیر کونسل یورپ کے صدر سید علی رضا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یورپ میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام ہفتہ کشمیر کے دوران مختلف تقاریب منعقد کی گئیں ان تقاریب میںیورپی یونین کے اراکین ،یورپی ممالک کے ممبران پارلیمنٹ ،برطانوی ممبران پارلیمنٹ ،یورپی یونین کے حکام ،تارکین وطن اور یورپی سول سوسائٹی نے بھرپور شرکت کی برسلز پریس کلب میں تصویری نمائش منعقد کی گئی جس میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا گیا دورہ یورپ کے دوران مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت و اہمیت ،تحریک آزادی کشمیر ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ،لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ ،مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے نفاذ اور بھارتی مظالم کو اجاگر کیا گیا انہوں نے کہا کہ فرانس جانے کا مقصد یورپ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اور یورپی پارلیمنٹ تک رسائی تھا جو کامیاب رہا وزیراعظم آزادکشمیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا معاملہ جلد یکسو ہو جائے گا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو نارمل میزانیے پر لانے کے لیئے جو بجٹ درکار ہے وفاق نے یہ بجٹ مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے آزاد کشمیر کے مالیاتی مسائل کا معاملہ وفاقی سطح پر اٹھایا گیا ہے غیر ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے جو ایشوز ہیں یہ جلد یکسو ہو جائیں گے آزادکشمیر کے حقیقی مسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔




