بنگلہ دیش حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ،بھارت فرار ہو کر جان بچائی

حسینہ واجد عوامی دبائو کے سامنے ٹھہر نہ سکیں،فوج نے مستعفیٰ ہونے کے لئے 45 منٹ دئیے
آخری خطاب کا موقع بھی نہ مل سکا،جان بچانے کے لئے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر بھارت روانہ پہلے اگرتلہ پھر دہلی روانہ


ڈھاکہ:بنگلہ دیش میں وزیراعظم حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدا ر کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پندرہ سال تک ملک کے سیاہ و سفید کی مالک حسینہ واجد کو قوم سے آخری خطاب کی اجازت بھی نہ مل سکی۔فوج نے مستعفیٰ ہونے اور ملک چھوڑنے کے لئے 45 منٹ کا وقت دیا۔حسینہ واجد جان بچانے کے لئے مستعفٰی ہو کر ہیلی کاپٹر پر بھارت فرار ہو گئیں پہلے اگر تلہ اور پھر نئی دہلی روانہ ہوگئیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حسینہ واجد اپنی بہن کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر میں بھارتی شہر اگرتلا روانہ ہو گئی ہیں جبکہ سرکاری طور پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم ڈھاکہ چھوڑ کر ایک محفوظ مقام پر منتقل ہوچکی ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ اور ان کی بہن کو محفوظ مقام پر لے جایا گیا ہے دوسری جانب ڈھاکہ میں ہزاروں مظاہرین نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں دھاوا بول دیا ہے بنگلہ دیشی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاجی مظاہرین شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ میں لوٹ مار کر رہے ہیںویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ سے قیمتی کرسیاں اور صوفے اٹھا کر کے جا رہے ہیں.
بی بی سی کا دعوی ہے کہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ مستعفی ہوچکی ہیں اور ملک چھوڑ چکی ہیں ادارے کی بنگالی سروس کے مطابق 2009 سے بنگلہ دیش کی حکمران رہنے والی شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر میں انڈین شہر اگرتلا روانہ ہوئی ہیںآرمی چیف وقار الزمان نے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے امورسنبھال لیے ہیں اور انہوں نے اپنے خطاب میں عوام سے کہا ہے کہ وہ پرسکون رہیں جلد عبوری حکومت قائم کریں گے ۔قبل ازیں ان کی تقریر کئی بار تاخیرکا شکار ہوئی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتوں کے باعث تاخیر ہوئی تھی۔ ڈھاکہ میں ہزاروں لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں گزشتہ روز 90 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک ماہ سے جاری پرتشددمظاہروں میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں.
یاد رہے کہ مظاہرے طلبہ کی جانب سے سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئے اور حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بعد یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے جس میں شیخ حسینہ سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حسینہ واجد کے استعفے پر لوگ جشن منا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہزاروں لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں.
بنگلہ دیش بظاہر اب ایک جماعت کی ریاست بن رہی تھی جہاں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈائون کیا گیا اور نقاد کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ابتدائی طور پر شیخ حسینہ نے مظاہرین کے مطالبے کو نہیں سنا انہوں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا اور 300 افراد کی اب تک ہلاکت ہوئی ہے حکومت کے حامی گروہوں نے بھی طلبہ کے خلاف آپریشن کیا اس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے شیخ حسینہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کا صرف ایک یہی مطالبہ تھا سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود لوگ باہر نکلے اور شیخ حسینہ کو استعفی دینے پر مجبور کیا ہے بنگلہ دیش میں سرکاری نوکری کو اچھی تنخواہ کی وجہ سے کافی اہمیت دی جاتی ہے تاہم تقریبا نصف نوکریاں، جن کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے، مخصوص گروہوں کے لیے مختص ہیں. احتجاج میں شریک طلبہ راہنماں کا کہنا تھا کہ انہیں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجدنے دہشت گرد قراردیا اور آج ہی انہیں خود ملک سے فرارہونا پڑگیا ہے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اس نظام کے مخالفین اور برسراقتدار عوامی لیگ کے طلبہ کے درمیان آج بھی جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران لاٹھیوں اور اینٹوں کا استعمال ہوا پولیس کی جانب سے آنسو گیس برسائی گئی اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے.
مظاہرین نے حکومت کو نو نکاتی مطالبات کی فہرست دی اور پھر عدلیہ کی مداخلت سے بظاہر انتظامیہ نے یہ مطالبات تسلیم بھی کر لیے مگر پھر بھی احتجاج اور مظاہروں کا یہ سلسلہ رک نہ سکا واضح رہے کہ سول نافرمانی تحریک کی کال کے بعد بنگلہ دیشی حکومت نے نئی احتجاجی لہر کے بعد ملک ریلولے اور انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کر دیا وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کی جانب سے ملک میں پیر سے بدھ تک چھٹیوں کے اعلان کے باوجود مظاہرین نے دارالحکومت ڈھاکہ کی طرف مارچ کی کال دی تاکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ پر استعفی دینے کے لیے دبائوڈالا جا سکے.
دوسری جانب بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف نے کہا ہے کہ پاکستان ہائی کمیشن بدلتی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستانی شہریوں کی حفاظت ہائی کمیشن اولین ترجیح ہے ڈھاکہ سے جاری بیان میں ہائی کمشنر سید احمد معروف نے کہا کہ ہائی کمیشن کے حکام بنگلہ دیش کے حکام سے بھی رابطہ رکھے ہوئے ہیں بدلتی صورتح حال سے طلبا و طالبات کو بھی مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے ہائی کمشنر کے مطابق جیسے ہی صورت حال خراب ہونا شروع ہوئی طلبا و طالبات کو فوری ہائی کمیشن پہنچنے کا کہا گیا، جو نہیں پہنچ سکے ان کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ موجود ہے.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اتوار کو مرنے والوں میں 13 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اتنی بڑی تعداد اموات بنگلہ دیش کی حالیہ تاریخ میں کسی بھی احتجاج میں ایک دن کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان کی تعداد تھی احتجاجی تحریک کے راہنما آصف محمود نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے بہت سے طلبہ کو قتل کر دیا ہے حتمی جواب کا وقت آ گیا ہے ہر کوئی ڈھاکہ پہنچے خاص طور پر آس پاس کے اضلاع سے ڈھاکہ آ اور سڑکوں پر پوزیشن سنبھال لو.
گذشتہ ماہ طلبہ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبے پر مبنی احتجاج شروع کیا تھا جو بعد میں پرتشدد مظاہروں میں بدل گیا
قبل ازیں تشدد کی تازہ لہر کے دوران شیخ حسینہ نے کہا کہ تخریب کاری اور تباہی میں ملوث مظاہرین اب طالب علم نہیں بلکہ مجرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے حکمراں جماعت عوامی لیگ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ ان مظاہروں پر مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اب کالعدم جماعت اسلامی نے قبضہ جما لیا ہے ۔
دوسری طرف مظاہرین نے لوگوں سے حکومت کے ساتھ عدم تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس یا یوٹیلیٹی بل ادا نہ کریں اور اتوار کو کام پر نہ آئیں جو بنگلہ دیش میں کام کا دن ہوتا ہے اس کال پر گزشتہ روزدفاتر، بینک اور فیکٹریاں کھل گئیں لیکن ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں مسافروں کو کام پر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی اور آئندہ بھی ایسا ہی کرے گی مظاہروں کے بعد کچھ سابق فوجی افسران طلبہ تحریک میں شامل ہو گئے تھے جبکہ سابق آرمی چیف جنرل اقبال کریم نے مظاہروں کی حمایت کے اظہار میں اپنی فیس بک پروفائل تصویر کو سرخ کر دیا تھا موجودہ آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے ہفتے کو ڈھاکہ میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں افسران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی اور لوگوں کی خاطر اور ریاست کو درپیش ضرورت میں بھی ایسا ہی کرے گی۔