کوہ نور سکول کے پرانے طلباء اور اساتذہ کی گیٹ ٹو گیدر نے سماں باندھ دیا

جو شریک ہوئے انہوں نے خوب لطف اٹھایا جنہیں مصروفیات نے محروم رکھا وہ کف افسوس ملتے رہے
تقریب کی خوبی یہ تھی کہ جماعتی اور سیاسی اختلاف کے باوجود سکول کے پرانے ساتھی ایک پیج پر نظر آئے
انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث سوشل میڈیا پر تقریب کی برائہ راست کوریج نہ ہو سکی جس کا سب کو افسوس رہے گا
تقریب کے شرکاء نے پرانے کوہ نورینزکو سکول کے مسائل کے ساتھ ساتھ علاقے کے مسائل سے بھی آگاہ کیا
تقریب میں کچھ ایسے دوست بھی تھے جو بچپن کے بعد اب پچپن میں ایک دوسرے سے دہائیوں بعد ملے تھے ان کی خوشی دیدنی تھی
مجھے بانٹنے کے علاوہ مانگنے کا بھی بڑا تجربہ ہے ، اس طرح کی اگلی تقریب بڑی مثالی ہوگی،یہاں کوئی اولڈ نہیں سب گولڈ ہیں، زمردخان
سکول کے بعد دنیا چھوڑ جانے والوں کو بھی یاد رکھا گیا ۔آخر میں کوہ نور سکول سے وابستہ ان تمام افراد کے لئے دعائے مغفرت کی گئی جو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں
اپنے مادر علمی کے لئے کچھ نہ کر سکنے پر افسوس اور مستقبل کے لئے بہت کچھ کرنے کا عزم لے کر پرانے ساتھی بوجھل دلوں کے ساتھ رخصت ہوئے
کوہسار کے پلیٹ فارم سے برسوں کے بچھڑوں کو ملانے پر تنظیم کے سرپرست اعلیٰ حبیب صدیقی اور ان کے ساتھیوںکو خراج تحسین
1957 ء میں سکول کے لئے جگہ دینے پر کوہ نور مل کے مالک بشیر سہگل کو بھی خصوصی خراج تحسین پیش کیا گیا
تنظیم کے پلیٹ فارم سے سکول کی بہتری کے لئے چندے کی درخواست پر سٹیج سے اعلانات بھی ہوئے
دلوں کو چھو لینے والی یہ تقریب بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے اور پرانے ساتھی جلد پھر ملنے کے عزم صمیم کے ساتھ بوجھل دل لئے رخصت ہوئے

اسلام آباد(رپورٹ: محمد رضوان ملک)کوہ نور کالونی سکو ل کے پرانے اور موجودہ اساتذہ اور طلباء کی ایک گیٹ ٹو گیدر پارٹی اسی مقصد کے لئے بنائی گئی تنظیم کوہسار کے پلیٹ فارم سے سکول کے جوبلی حال میں منعقد ہوئی۔جس میں اس سکول کے پرانے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ موجودہ طلباء اور اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شرکاء نے جہاںاس تقریب میں ماضی کی یادوں کو تازہ کیا وہیں سکول کے مسائل کے حوالے سے کچھ نہ کر سکنے پر افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے مستقبل کے لئے بہت کچھ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
تقریب میں کچھ ایسے دوست بھی تھے جو بچپن کے بعد اب پچپن میں ایک دوسرے سے دہائیوں بعد ملے تھے ان کی خوشی دیدنی تھی۔جو ساتھی اس خوبصورت تقریب میں شریک ہوئے انہوں نے اس سے خوب لطف اٹھایا اور جنہیں مصرفیات نے اس میں شرکت سے محروم رکھا وہ کف افسوس ملتے رہے ۔
تقریب کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس میں سیاسی مخالفین اور مخالف نظریات رکھنے والے افراد ایک پیچ پر نظر آئے ۔ ماضٰ میں اپنے مادر علمی کو نظر انداز کرنے پر جہاں انہوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا۔ وہیں مستقبل کے لئے بہت کچھ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم اس سکول کے لئے وہ کچھ نہ کر سکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ میں اپنے سکول کے لئے کچھ نہ کر سکاانجم عقیل نے رکن صوبائی اسمبلی ملک افتحار سے درخواست کی کہ ہم نے اس سکول کو کالج میں تبدیل کرنا ہے اور آپ نے اس میں میرا ساتھ دینا ہے۔
تقریب کی اہم بات اس کے آغاز سے قبل سکول کے احاطے میں باقاعدہ اسمبلی کا انعقاد تھا،تلاوت کلام پاک کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا جسے سب نے مل کر پڑھا، پی ٹی ماسڑ غلام فرید صاحب نے وسل بجا کر اسمبلی کا آغاز کیا۔ جسے سب نے خوب انجوائے کیا۔اس موقع پر بہت سے شرکاء اپنے بچپن اور ماضی کو یاد کر کے آبدیدہ ہوئے اور ایک سماں بندھ گیا۔
انگلش حروف تہجی کے اعتبار سے شرکاء کے نام لے کر انہیں خطاب کے لئے بلایا گیا۔ جس میں انجم عقیل اور ملک افتحار زمرد خان پر بازی لے گئے ۔انجم عقیل تو اپنے خطاب کے بعد چلتے بنے لیکن زمردخان تقریب کے آخر تک موجود رہے انہوں نے پورے سکول کا دورہ کیا کلاس رومز کو دیکھا۔وہ پہلے آنے والوں اور آخر میں جانے والوں میں سے تھے ۔جس سے سکول اور اس کے پرانے طلباء کے ساتھ ان کے دلی لگائو کا اندازہ ہوتا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران زمردخان نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بانٹنے کے ساتھ ساتھ مانگنے کا بھی بڑا تجربہ ہے اور اس طرح کی اگلی تقریب اللہ نے چاہا تو بڑی مثالی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ کم وبیش 20 ہزار طلباء اس سکول سے میڑک کا امتحان پاس کر چکے ہیں ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم اس سکول کو وہ عزت نہ دے سکے جو اس نے ہمیں دی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کو ایک مثالی سکول بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کوہ نور سکول کو خوبصورت نہیں سب سے زیادہ خوبصورت بنائیں گے۔ مجھے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں کہ اپنے مادرعلمی کے لئے کچھ کر سکوں۔
تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں سکول کے بعد دنیا چھوڑ جانے والوں کو بھی یاد رکھا گیا ۔آخر میں کوہ نور سکول سے وابستہ ان تمام افراد کے لئے دعائے مغفرت کی گئی جو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔
دلوں کو چھو لینے والی یہ تقریب بالآخر اپنے اختتام کو پہنچی اور پرانے ساتھی جلد پھر ملنے کے عزم صمیم کے ساتھ بوجھل دل لئے رخصت ہوئے ۔