فیض حمید اثاثہ تھے،بانی پی ٹی آئی


سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا احتساب کر یں اچھی بات ہے لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں
ملک میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے ذمہ دار جنرل (ر) باجوہ ہیں انہوں نے اپنی ایکسٹینشن کے لئے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا


اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ حمید گل ہمارا اثاثہ تھے،ان کی کارکردگی کے باعث انہیں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر رکھنا چاہتا تھا، فیض حمید کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، وہ 3 سال تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا، میں بار بار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو کہتا رہا فیض حمید کو نہ ہٹائیں، جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا۔فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے شدید تلخی بھی ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی نے ان خیالات کا اظہار اڈیالہ جیل راولپنڈی میں اپنے اور اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پانڈ ریفرنس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہا ہے کہ اپنے دور حکومت میں فیض کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی نہیں ہٹانا چاہتا تھا۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ فیض حمید سے میرا کوئی تعلق نہیں، یہ فوج کا انٹرنل معاملہ ہے۔ فوج اگر انٹرنل اکاونٹیبلٹی کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے، فیض حمید کا 9 مئی سے تعلق ہے تو تحقیقات ہونی چاہیے، جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سارے ثبوت سامنے لائے جائیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مزید کہا کہ اپنے دورحکومت میں فیض کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی نہیں ہٹانا چاہتا تھا، فیض حمید کو عہدے سے ہٹانے پر میری قمر جاوید باجوہ سے تلخی ہوئی تھی۔عمران خان نے کہا ہے کہ فیض حمید ملک کا اثاثہ تھے جنہیں ضائع کردیا گیا، میرا فیض حمید سے کوئی تعلق نہیں، ان سے تفتیش فوج کا اندرونی معاملہ ہے، مجھے اس سے کیا، سب کا احتساب کریں۔
عمران خان نے دوران گفتگو دعوی کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا جس پر میری سابق سپہ سالار سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی۔
بات چین سے ؤٔ سے قبل اڈیالہ جیل کے عملے نے عمران خان کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر ڈپٹی سپرؤیٹنڈنٹ جیل اور سابق وزیراعظم کی آپس میں تلخی بھی ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ مجھے نہ روکو، یہ اوپن کورٹ ہے، مجھے میڈیا سے بات کرنے دو۔
عمران خان نے کہا کہ فوج جنرل (ر) فیض حمید سے تفتیش کر رہی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، مجھے اس سے کیا ہے، ؤسابق ڈی جی آئی ایس آئی کا احتساب کر رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں۔ؤؤ
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر جنرل (ر) فیض کو ہٹایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) قمر باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے میری حکومت گرائی، نواز شریف اور شہباز شریف کی شرط تھی کہ فیض حمید کو ہٹائیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی رپورٹس تھیں کہ موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان ہر وقت جنرل (ر) باجوہ کیؤ پاس بیٹھے رہتے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو ہٹانے پر میری سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنرل (ر) قمر باجوہ کی ایکسٹینشن کی بات کر کے میرے مقف کی تائید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کہا ہے فیض حمید کا 9 مئی کے واقعات سے براہ راست تعلق ہے، سارا معاملہ میری گرفتاری سے شروع ہوا، اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر 9 مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں، 9 مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں آگ لگی، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائیں اور ہمیں قصوروار ثابت کریں، جس نے میری گرفتاری کا آرڈر دیا وہی سازش میں ملوث ہے، چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق لندن پلان کا حصہ تھے، قاضی فائز عیسی کو فیض آباد کمیشن اور بھٹو کا کیس یاد آگیا، ہماری پٹیشن نہیں سن رہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ فیض حمید کو اس لیے میں نہیں ہٹانا چاہتا تھا کیونکہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ مصروف تھے، وہ پاکستان میں دہشت گردی ختم کرنے کا سنہری موقع تھا، جنرل (ر) فیض نے ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کا مکمل پلان بنا کر اپوزیشن کو دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، وہ 3 سال تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا، میں بار بار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو کہتا رہا فیض حمید کو نہ ہٹائیں، جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے کے لیے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل فیض حمید ہمارا ( ملک کا) اثاثہ تھے، انہیں ضائع کر دیا گیا، ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نے طالبان کے ساتھ معاہدے کیے اور انہیں واپس لا کر ٹھہرایا اگر ایسی بات ہے تو اب کراس بارڈر دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے؟
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں کیوں دہشت گردی نہیں ہوئی؟ جنرل فیض زلمے خلیل زاد اور طالبان کو میرے پاس لے کر آیا تھا، اب جتنی دہشت گردی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو ٹھہراتا ہوں، آج تمام طالبان ہمارے خلاف ہو چکے ہیں، روزانہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں، آپ جو مرضی آپریشن کر لیں یہ سرحد کراس کر کے دوسری جانب چلے جائیں گے اور دوبارہ واپس آ جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلہ پر عمل نہ کر کے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کریں گے، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اور آئین کی خلاف ورزی پر میں پارٹی کو ابھی سے تیار کر رہا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ ان کا مسئلہ یہ ہے 8 فروری کو پی ٹی آئی الیکشن جیت گئی، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن اب فراڈ الیکشن کوچھپا رہے ہیں، پنڈی کے سابق کمشنر نے ایک ایک بات ٹھیک کہی تھی، یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ ملیں اور یہ آئینی ترمیم کر سکیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پہلے 90 روز میں انہوں نے الیکشن نہیں کروائے، پھر اکتوبر میں بھی الیکشن سے بھاگ گئے، اب یہ تیسری دفعہ آئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں، ہم سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں پارٹی کو تیار رہنے کو کہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔