دارالحکومت میں سڑک کنارے بندھی ہوئی حالت میں ملنے والی اور غیر ملکی ہونے کا دعوی کرنے والی خاتون راولپنڈی کی مستقل رہائشی نکلی

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت جی سکس کے علاقے سے بندھی ہوئی حالت میں ملنے والی خاتون کے بارے میں حقائق سامنے آگئے ہیں خود کو غیر ملکی خاتون ظاہر کرنے والی خاتون راولپنڈی کی مستقل رہائشی نکلی ہے۔قبل ازیں خاتون خود کو غیر ملکی ظاہر کر رہی تھی اور بات چیت کرنے پر بھی آمادہ نہ تھی۔
پولیس کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی نگرانی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں سب ڈویژنل پولیس افسر، آبپارہ اور خواتین تھانوں کی اسٹیشن ہائوس افسران اور خصوصی جنسی جرائم کے تفتیشی یونٹ کے ایک اہلکار شامل تھے، تفتیش کار اس خاتون کی قومیت کا تعین کرنے سے قاصر رہے جس نے دعوی کیا تھا کہ وہ بلجیئم سے ہے۔
کمیٹی خاتون کو شناخت کے لیے نادرا ہیڈ کوارٹر لے گئی کیونکہ ایف آئی اے اور سفارت خانے کے پاس خاتون کا سفری ریکارڈ موجود نہیں تھا، چہرے اور فنگر پرنٹس کے ذریعے خاتون کی شناخت پاکستانی شہری اور راولپنڈی کی مستقل رہائشی کے طور پر ہوئی۔
اس سے قبل پولی کلینک میں خاتون کا طبی-قانونی معائنہ کیا گیا تاکہ اس کے الزام کو ثابت کیا جا سکے کہ اس کے ساتھ عصمت دری کی گئی، اس کے بعد خاتون کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا اور وہاں حفاظتی تحویل میں رکھا گیا۔
افسران نے مزید بتایا کہ خاتون ابھی تک اس کے غیر ملکی شہری ہونے کے دعوے کے پیچھے محرکات کا پتا لگانے کے لیے کام کرنے والی پولیس ٹیم کو بیان دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 14 اگست کو خاتون کو G-6/1-3 پر سڑک کے کنارے بندھا ہوا پایا گیا تھا، اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور اسے ہسپتال منتقل کردیا تھا۔آغاز میں اس خاتون نے خود کو بیلجیئم کی شہری کے طور پر متعارف کرایا اور الزام لگایا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ رہ رہی ہے جس نے اس کا بار بار ریپ کیاتھا۔ خاتون شناختی دستاویز پیش کرنے سے قاصر تھی کیونکہ اس کے پاس کوئی سامان موجود
نہیں تھا۔
راولپنڈی کی رہائشی خاتون گوری بننے میں ناکام ، حقائق سامنے آگئے



