پاکستان ، افغانستان میں بھارت کا کردار کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔خواجہ آصف

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے، نائن الیون کے بعد سمجھوتہ کیا، جس کا نتیجہ اب بھگت رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورۂ پاکستان پر سینیٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں کسی مرحلے پر امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ آرڈر لیا نہ دباؤ قبول کیا، ہم نے امریکا سےکہا ہے کہ قابل عمل معلومات دیں، ہم کارروائی کریں گے۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا سے کہا ہے کہ قابل عمل معلومات دے ہم ایکشن کریں گے، مشرف کی طرح قومی مفاد پر سمجھوتے کا عندیہ نہیں دیا، ہمارا اقتدر امریکا کے مرہون منت نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ پوری سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی حکام کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر مذاکرات کیے جس دوران کسی کے بھی لہجے میں ذرا برابر ہچکچاہٹ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بندے بیچنے کے بدلے ذاتی فوائد حاصل کیے گئے جبکہ نائن الیون کے بعد پرویز مشرف نے امریکا کے ساتھ بڑا سمجھوتہ کیا جس کا نتیجہ ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں وہ لسٹ فراہم کرتے تھے اور ہم بندے پکڑ کر انہیں دیتے تھے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں نہ ہم نے سرنڈر کیا اور نہ کوئی سمجھوتہ کیا، نہ ہم نے امریکا سے کوئی آرڈر لیا اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقوں میں امن قائم کیا اور اپنی سرزمین سے ان لوگوں کا صفایا کیا ہے جو ڈرون حملوں کا باعث بنے، آج پہلے کے مقابلے میں بہت کم ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان بھارت کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے جو پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے، افغانستان میں بھارت کا کردار کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ افغانستان کے 45 فیصد علاقے پر داعش قابض ہے جب کہ طالبان کو اپنی منصوبہ بندی کے لیے پاکستان کی ضرورت نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پچھلے ایک سال کے دوران ہماری سلامتی کی جتنی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی ہمارے پڑوس میں کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اس لیے امریکا فیس سیونگ چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان اس کی مدد کرے، ہم ان کی مدد ضرور کریں گے لیکن پراکسی نہیں بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو 75 دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی جس میں حافظ سعید سمیت کسی بھی پاکستانی کا نام شامل نہیں ہے، امریکا کی فراہم کردہ فہرست میں سے زیادہ تر مارے جا چکے ہیں جب کہ کچھ افغانستان میں طالبان کے شیڈو گورنر ہیں۔

خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا 70فیصد زور حقانی نیٹ ورک پر تھا، امریکا طالبان کو سیاسی فورس سمجھتا ہے اور وہ تین چار ہزار حقانیوں کو افغانستان میں تمام خامیوں کا ذمے دار کہتے ہیں، حقانی کا ذکر بار بار چھیڑتے ہیں لیکن اس کے سوا کسی بات پر زور نہیں دیتے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات خراب ہیں تو ہم نے کہا کہ افغانستان میں حالات گزشتہ 16برسوں سے خراب ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے ٹلرسن سے کہا کہ پاکستان افغان سرحد پر باڑ لگا رہا ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ اپنے حصے میں بھی باڑ لگا دیں اور دو ارب ڈالرز خرچ کر کے افغان پناہ گزینوں کو واپس لے جائیں، پھر اگر آپ الزام لگائیں کہ ہمارے ہاں پناہ گاہیں ہیں تو جواز بنتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان آمد سے قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سرزمین سے دہشت گردوں کی سپورٹ ختم کرنے کے اقدامات کرے۔

امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو اس حوالے سے وضاحت پیش کرنے کا کہا تھا۔