الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 13 کروڑ 22 لاکھ 54 ہزار 310 ہو گئی ہے۔
تاحال مرد ووٹرز کی تعداد خواتین سے ایک کروڑ زائد ہے،مرد ووٹرز کی شرح 53.74 فیصد اور خواتین کی 46.26 فیصد ہے،پنجاب میں ووٹرز کی مجموعی تعداد ساڑھے سات کروڑ سے زائد

اسلام آباد :الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نئے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 13 کروڑ 22 لاکھ 54 ہزار 310 ہو گئی ہے۔مرد ووٹرز کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے۔ مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 10 لاکھ 76 ہزار 830، خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 11 لاکھ 77 ہزار 480 ہے۔ملک میں مرد ووٹرز کی شرح 53.74 فیصد اور خواتین کی 46.26 فیصد ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 7 کروڑ 53 لاکھ 753 ہے۔جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 12 لاکھ 4 ہزار 360، خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 51 لاکھ 76 ہزار 393 ہے۔
سندھ میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 77 لاکھ 36 ہزار 414 ہے، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 49لالھ 90 ہزار 198 ، خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 27 لاکھ 46 ہزار 216 ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختوانخوا میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 25 لاکھ 36 ہزار 455 ہے ۔جس میں مرد ووٹرز کی تعداد1 کروڑ 22 لاکھ 60 ہزار 691 ہے، خواتین ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 27 لاکھ 5 ہزار 764 ہے ۔
بلوچستان میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 55 لاکھ 26 ہزار 217 ہے ، جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ 96 ہزار 550 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 24 لاکھ 29 ہزار 667 ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 54 ہزار 471 ہے۔جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار31، خواتین ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ49 ہزار 440 ہے۔
ووٹرز کی تعداد میں اس خاطر خواہ اضافہ سے پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا۔
رجسٹرد ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کے بھارت، انڈونیشیا، امریکا اور برازیل کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کے بھارت، انڈونیشیا، امریکا اور برازیل کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا ہے۔
8 فروری کو ہونے والے انتخابات کیلیے ملک میں ریکارڈ 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔
ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن بڑھنے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، 2018 میں ووٹرز کا صنفی فرق 11.8 فیصد تھا جو اب 7.7 فیصد ہوگیا ہے۔2018 کے بعد خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں مردوں سے اضافہ
رپورٹ کے مطابق 2018 کے بعد خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن مردوں سے بڑھ گئی ہے، نئے رجسٹرڈ 2 کروڑ 25 لاکھ ووٹرز میں ایک کروڑ 25 لاکھ خواتین اور ایک کروڑ مرد ہیں، 2018 میں 85 اضلاع میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا، اب ان اضلاع کی تعداد 85 سے کم ہو کر 24 رہ گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ جن قومی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ تھا ان کی تعداد 173 سے کم ہو کر 38 رہ گئی ہے جن میں خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے 12، بلوچستان سے 11 ، سندھ سے 10 اور پنجاب سے 5 حلقے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جن صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زائد تھا ان کی تعداد اب 398 سے کم ہو کر 102 ہو گئی ہے، ان میں سندھ کے 31، بلوچستان کے 30، خیبر پختونخوا کے 24 اور پنجاب کے 17 حلقے شامل ہیں۔




