54 سالہ اقتدار کا لمحوں میں خاتمہ، بشارالاسد شام چھوڑ گئے


دنیا چھوڑنے کی بھی اطلاعات، 54 سال تک شام میں سیاہ و سفید کے مالک رہے،بالآخر اقتدار کا سورج غروب
بشار حکومت کا خاتمہ: 18 سال کی عمر میں شامی جیل میں جانے والا لڑکا 57 سال کی عمر میں جیل سے باہر آیا


دمشق:شام میں اسد خاندان کے 54 سالہ اقتدار کا لمحوں میں خاتمہ ہوگیا ہے۔ روس اور ایران بشارالاسد کے حامی تھے۔54 سال تک شام میں سیاہ وسفید کے مالک رہے،بالآخر طویل اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔بشارا لاسدجس طیارے میں شام سے فرار ہوئے تھے ریڈار سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ ان کے طیارے کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہے۔
شام میں تیرہ سالہ خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں چھ لاکھ کے قریب افراد اس تنازعے کا نشانہ بنے اقوام متحدہ کے مطابق جنگ عظیم دو م کے بعد یہ سب سے بڑا انسانی جانی نقصان ہے۔
اسد خاندان 54 سال تک شام میں سیاہ و سفید کا مالک رہا ،باالآخر بے آبرو ہو کر نکلنا پڑا۔ تین مختلف تنظیموں نے شام کے مختلف شہروں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔دمشق کا کنٹرول القاعدہ کے رہنماء محمد الجلانی کی فورسز کے پاس ہے۔امریکہ نے ان کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر مقرر رکھی ہے۔ انہوں نے شام کے سابق وزیراعظم کے کنٹرول میں اقتداردینے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ بشارا لاسد کو روس اور ایران کی حمایت حاصل تھی جبکہ امریکہ اور برطانیہ ایک باغی گروپ کے حامی تھے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم اس جنگ میں نہیں پڑیں گے یہ ہماری جنگ نہیںہے۔ چین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ بشارا لاسد شام چھوڑنے سے پہلے صدارت سے مستعفٰی ہو گئے تھے۔
بشار الاسد شام کو چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے جن کا طیارہ طیارہ مبینہ طور پر روس جاتے ہوئے ریڈار سے غائب ہو گیا جس کے بعد ان کی حادثے میں مارے جانے کی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی بشار الاسد ایک طیارے میں نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے تھے۔
دمشق پر اپوزیشن فورسز کے کنٹرول کے بعد ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں لوگ بشار الاسد کے صدارتی محل میں داخل ہوکر وہاں سیلفیز لے رہے ہیں یا ویڈیوز بنا رہے ہیں۔کچھ تصاویر میں لوگوں کو صدارتی محل سے سامان جیسے ملبوسات، ہینڈ بیگز، سوٹ کیس، پرفیوم کی بوتلیں اور فانوس وغیرہ لوٹتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
اس سے قبل بشار الاسد کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔مختصر دورانیے کی ویڈیو ایک گیراج کی ہے جہاں قطاروں میں بیش قیمتی لگژری گاڑیاں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔
شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے حکومت کا کنٹرول سنبھالنے اور صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار کے بعد سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ایک ایسے قیدی کی رہائی بھی عمل میں آئی ہے جو18 سال کی عمر میں شامی جیل میں گیا او 57 سال کی عمر میں جیل سے باہر آیا۔اس حوالے سے برطانوی اخبار نے 39 سال سے شامی جیل میں قید ایک سیاسی قیدی کی رہائی کا واقعہ رپورٹ کیا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق شمالی لبنان میں رہنے والے معمر علی نے اپنے بڑے بھائی علی حسن کو 39 سال تک مختلف جیلوں میں تلاش کیا لیکن اب انہیں اس حوالے سے ایک اچھی خبر ملی ہے۔
علی حسن کو 1986 میں شامی فوجیوں نے شمالی لبنان میں ایک چیک پوائنٹ سے گرفتار کیا تھا، ان کی عمر اس وقت 18 سال تھی اور وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے، گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔معمر علی نے تین دہائیوں تک شام کے مختلف سکیورٹی مراکز میں اپنے بھائی کو تلاش کیا لیکن ہر جگہ متضاد معلومات ملتی رہیں۔ معمر نے بتایا کہ انہوں نے شام کے ہر کونے میں اپنے بھائی کا پتا لگانے کی کوشش کی، ایک دن کہا جاتا کہ وہ جیل میں ہیں، دوسرے دن انکار کر دیا جاتا۔
آخری بار انہیں اپنے بھائی کے بارے میں 2011 میں اطلاع ملی تھی کہ وہ دمشق میں ایک فوجی سکیورٹی مرکز میں قید ہیں، لیکن شام کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد ان کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔
یہاں تک کہ جمعرات کی رات معمر علی کے فون پر مسلسل پیغامات آنا شروع ہوئے، دوستوں اور رشتہ داروں نے انہیں ایک تصویر بھیجی جس میں ایک بوڑھا شخص، حیران اور پریشان حال، شامی شہر حماہ کی مرکزی جیل کے سامنے کھڑا تھا۔معمر کے دوستوں اور رشتہ داروں نے کہا کہ وہ شخص ان سے مشابہت رکھتا ہے جس پر معمر نے کہا کہ یہ ان کا بھائی ہے۔معمر علی کا کہنا ہے کہ 39 سال بعد اچانک اس کی تصویر دیکھنے کا احساس ناقابل بیان تھا، ان کا بھائی جو 18 سال کی عمر میں جیل گیا تھا، اب 57 سال کا ہو چکا ہے۔ معمر علی نے دکھ بھرے انداز میں کہا کہ وہ جیل سے بوڑھے آدمی کے طور پر باہر آئے ہیں۔علی حسن ان قیدیوں میں شامل تھے جنہیں حالیہ دنوں شامی حکومت کی جیلوں سے رہا کیا گیا۔ یہ رہائی شامی اپوزیشن فورسز کی شامی فوج کے خلاف کامیاب حملوں کے بعد ہوئیں۔
معمر اب تک اپنے بھائی سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں کر سکے ہیں اور تصویر کے ذریعے ان کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ گھر آئیں گے تو ہم خوب خوشیاں منائیں گے، لیکن جب تک میں انہیں خود نہیں دیکھ لیتا، انہیں چھو نہیں لیتا، کچھ بھی مکمل نہیں لگتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔