
پمز اسپتال میں وفاقی وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل کا مظاہرین سے خطابکرتے ہوئے کہا کہ تحریک بحالی پمز کو آج کافی روز ہو چکے ہیںعلامتی ہڑتال کو پروٹیسٹ میں تبدیل کیامیرے کندھوں پر جو زمہ داری تھی وہ نبھائیپمز اسپتال کوئی عام ادارہ نہیںوزارت کیڈ کے ماتحت تمام اسپتالوں میں پمز اسپتال سے بڑا ہےپمز اسپتال میں پنجاب، کے پی کے اور آزاد کشمیر سے بھی لوگ بڑی تعداد میں آتے ہیںجسے کہیں نہ جگہ ملے اسے پمز میں ملتی ہےشہد زولوجی علی بھٹو یونیورسٹی ایکٹ 2013 میں اسمبلی سے پاس ہوا ہم نے اسکی مخالفت کیقومی ادارے ہے اس بل کا پاس کرنا متنازعہ تھاپمز اسپتال کو یونیورسٹی کے ماتحت ایک ادارہ بنا دیا گیامیں جب ایم این اے تھا تب بھی آپکی آواز بنا رہاہمیشہ کہا کہ پمز کو یونیورسٹی سے الگ کرنا ہوگامیرے سمیت کسی کوبھی شہید زولفقار بھٹو سے کوئی اختلاف نہیںہمارے اسکے حق میں ہیں لیکن نہیں چاہتے کہ اسکی وجہ سے پمز اسپتال کی سہولتیں متاثر ہوںہیلتھ الاؤنس کا مسئلہ بھی میں نے حل کرایامیرا آپ سے ایک نہیں بہت رشتے ہیںمیرا پیشہ بھی یہ ہے، سیاست بھی اور اسی علاقے کی انتظامیہ میں بھی ہوںپمز ایکٹ 2013 پاس کرنے کے بل کے لیے دن رات محنت کیہم چاہتے تھے آپکے حقوق محفوظ ہوںنومبر 2016 میں بل وزیراعظم سے پاس کرایااکتوبر 2017 میں اس بل کی تحریری منظوری ہو گئ ہےکابینہ نے انتظامی طور پر پمز کو یونیورسٹی سے الگ کر دیا



